کشمیر میں ن لیگ دو تہائی سے حکومت بنائے گی: رانا ثنا اللہ

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی۔

22 جنوری، 2024 کی اس تصویر میں مسلم لیگ ن کے کارکنان مانسہرہ میں ایک جلسے میں شریک ہیں(اے ایف پی)

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی۔

ہفتے کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے باغ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت کے لیے مسلم لیگ (ن) صرف چھ نشستیں دور ہے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں حکومت بنانے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ایکشن کمیٹی میں 99 فیصد لوگ نہ صرف محب وطن کشمیری بلکہ محب وطن پاکستانی بھی ہیں۔‘

رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایک آدھ فیصد لوگ ہیں جن کا ایجنڈا کچھ اور ہے، تو ہم سب مل کر انھیں شکست دیں گے۔‘

رانا ثنا اللہ نے بلاول بھٹو کا نام لیے بغیر کہا کہ ’جو الٹی گنتی گننا چاہتے ہیں، ان کی گنتی بھی سیدھی ہو جائے گی اور وہ خود بھی سیدھے ہو جائیں گے۔‘

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ (ن) 24 نشستیں حاصل کر چکی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ دو تہائی اکثریت کی حکومت بنانے کے لیے مزید چھ نشستوں کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 10 اگست کے انتخابات کے بعد مزید چار نشستوں کا اضافہ ہوگا، جبکہ باقی ماندہ پونچھ ڈویژن میں پولنگ کے بعد مزید پانچ نشستیں شامل ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ’کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا ہے، انہوں نے میاں نواز شریف پر اعتماد کیا ہے اور پنجاب میں ہونے والی ترقی پر اعتماد کیا ہے۔‘

انہوں نے حامیوں پر زور دیا کہ وہ پیر کے روز نکلیں اور ووٹ کاسٹ کر کے مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کو یقینی بنائیں، اور وعدہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دے گی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انڈیا براہِ راست تصادم میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد پاکستان اور کشمیریوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایسی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی آنے والی حکومت اور کشمیر کے عوام سے ان تفریق پیدا کرنے والے عناصر کو ’بے نقاب اور شکست‘ دینے کے لیے تعاون کی اپیل کی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’ہم انہیں شکست دیں گے اور کشمیر کو خوش حال بنائیں گے۔‘

انہوں نے باغ کے عوام پر زور دیا کہ وہ پیر کے روز باہر نکل کر ووٹ دیں، اور اس بات پر زور دیا کہ ’پورے باغ کو حکومت میں شامل ہونا چاہیے۔‘

گذشتہ روز چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے باغ میں ہی ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کی تاریخ میں اتنا مشکل وقت کبھی نہیں آیا جتنا اس وقت ہے، موجودہ صورت حال میں ہر پاکستانی اور ہر کشمیری پریشان ہے، کشمیر میں امن قائم کیا جائے تاکہ عام آدمی معمول کی زندگی گزار سکے۔

ضلع باغ میں جمعے کو انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ مشکل وقت کا بوجھ پونچھ ڈویژن کے عوام اٹھا رہے ہیں، حکومت اور احتجاج کرنے والوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں، وہ صرف زندگی جینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے نکل سکتا ہے، کشمیر میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اچھے ہیں لیکن ن لیگ کا ایک حصہ پیپلز پارٹی اور حکمران جماعت کا اتحاد توڑنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ن لیگ کو غلط فہمی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے جا رہے ہیں، اصل میں ان کی اسلام آباد والی حکومت بھی خطرے میں ہے، ان کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، یہ گنتی پیپلز پارٹی نے شروع نہیں کی، ان کے اپنے لوگوں نے شروع کروائی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی لڑائی تو ہوتی رہتی ہے، اصل لڑائی کچھ اور ہے،  ن لیگ کا ایک خاص حصہ وزیراعظم کو اتحادیوں سے لڑوانا چاہتا ہے، اصل لڑائی تو اسلام آباد اور لاہور کی ہو رہی ہے یہ ان کے خاندان کا اپنا مسئلہ ہے۔‘

کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات جاری

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوئی۔

دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن کے انتخابی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی پولنگ ہوئی۔

10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہونا تھی، جو اس مرحلہ وار انتخابی عمل کا آخری مرحلہ تھا۔

تاہم اب امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر ضلع پونچھ اور ضلع سدھنوتی کی تحصیل پلندری میں یہ انتخابات موخر کر دیے گئے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ سروسز بھی تقریباً دو ماہ سے معطل ہیں جبکہ موبائل نیٹ ورک کی سروس بھی کئی علاقوں میں معمول کے مطابق دستیاب نہیں۔

پونچھ ڈویژن کا شہر راولاکوٹ بھی حالیہ عرصے میں احتجاج اور کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔

یہاں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران درجنوں مظاہرین جان سے گئے ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بھی اموات ہوئیں۔ تاہم سرکاری طور پر اب تک ان اموات کی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست