سابق کرکٹر شاپور زدران علالت کے بعد چل بسے: افغانستان کرکٹ بورڈ

افغانستان کرکٹ بورڈ نے منگل کو بتایا ہے کہ افغان کرکٹر شاہ پور زدران علالت کے بعد چل بسے، ان کی نماز جنازہ جمعرات کو کابل کی عیدگاہ مسجد میں ادا کی جائے گی۔

افغانستان کے فاسٹ بولر شاپور زدران 13 مارچ 2015 کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2015 کے پول اے میچ کے دوران انگلینڈ کے خلاف گیند بازی کی تیاری کرتے ہوئے(اے ایف پی/ سعید خان)

افغانستان کرکٹ بورڈ نے منگل کو بتایا ہے کہ سابق افغان کرکٹر شاہ پور زدران علالت کے بعد چل بسے۔

افغان نیوز ادارے طلوع نیوز کے مطابق ان کی نماز جنازہ جمعرات کو کابل کی عیدگاہ مسجد میں ادا کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کی عمر 38 سال تھی اور انہوں نے منگل کو دہلی کے ایک ہسپتال میں طویل علالت کے بعد اپنی 39ویں سالگرہ سے ایک دن قبل دم توڑا۔

منگل کو اپنے فیس بک پیج پر جاری ایک بیان میں افغانستان کرکٹ بورڈ نے افغان قومی ٹیم کے سابق کھلاڑی شاپور زدران کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے کرکٹ کے لیے ایک بڑا قومی نقصان قرار دیا ہے۔

لمبے بالوں والے بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر شاپور زدران نے 2009 سے 2020 کے درمیان افغانستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 44 ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) اور 36 ٹی20 انٹرنیشنل میچز کھیلے۔

اس دوران وہ افغانستان کرکٹ کے اس دور کا اہم حصہ رہے جب ملک میں اس کھیل نے تیزی سے ترقی کی۔

شاپور زدران نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی افغانستان کی نمائندگی کی اور نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔

کرکٹ بورڈ کے مطابق شاپور زدران افغان کرکٹ کے بانی کھلاڑیوں میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے اپنی لگن، عزم اور انتھک محنت کے ذریعے ملک میں کرکٹ کے فروغ اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں کہا گیا ہے کہ شاپور زدران نے اپنے پورے کیریئر کے دوران افغانستان کرکٹ کی عزت، بہادری اور وقار کے ساتھ خدمت کی۔ ان کی جدوجہد اور کامیابیاں افغانستان کی کرکٹ تاریخ کا ہمیشہ اہم حصہ رہیں گی، جبکہ قومی ٹیم کے لیے ان کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔

کرکٹ بورڈ کے مطابق شاپور زدران صرف میدانِ کھیل ہی نہیں بلکہ میدان سے باہر بھی نوجوان افغان کھلاڑیوں اور دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے لیے ایک حقیقی مثال اور تحریک کا ذریعہ تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کی جدوجہد، حوصلے اور کرکٹ سے محبت نے بہت سے لوگوں کو امید دی اور ایک پوری نسل کو بڑے خواب دیکھنے اور افغان کرکٹ کے روشن مستقبل پر یقین رکھنے کی ترغیب دی۔

افغانستان کرکٹ بورڈ نے مرحوم کے اہلِ خانہ، دوستوں، قومی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں اور افغان کرکٹ برادری سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال ایک بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے، جس کی یاد افغانستان کے عوام اور کرکٹ دنیا کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ