انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا کہ بین سٹوکس نے انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے اور بین الاقوامی کرکٹ سے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
سٹوکس ناٹنگھم میں نیوزی لینڈ کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے اختتام کے بعد اپنے انگلش کیریئر کا خاتمہ کریں گے۔
جیسے ہی 35 سالہ آل راؤنڈر کے اس فیصلے کی خبر پھیلی، ٹرینیٹ برج پر موجود شائقین نے انہیں کھڑے ہو کر داد (سٹینڈنگ اوویشن) دی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد جب انہوں نے تین میچوں کی سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ کے چوتھے دن نیوزی لینڈ کے زیک فولکس کو آؤٹ کیا تو سٹیڈیم ایک بار پھر تالیوں اور نعروں سے گونج اٹھا۔
یہ اعلان سٹوکس کی ٹرینیٹ برج پر انگلینڈ کی ٹیم میں واپسی کے بعد سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں فتح کے بعد لندن کے ایک نائٹ کلب میں جشن منانے کے دوران آدھی رات کے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں ان کے ساتھی کھلاڑی گس اٹکنز کے ہمراہ اوول میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا تھا، جس میں انگلینڈ کو 253 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ای سی بی کے چیئرمین رچرڈ تھامسن نے کہا ’بین سٹوکس بین الاقوامی کرکٹ کو انگلینڈ کے عظیم ترین کرکٹرز میں سے ایک اور اپنی نسل کی ایک نمایاں ترین شخصیت کے طور پر الوداع کہہ رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’دباؤ کی صورتحال میں ان کی کارکردگی، ان کا انتھک مسابقتی جذبہ اور سب سے اہم مواقع پر غیر معمولی کارکردگی دکھانے کی ان کی صلاحیت نے مجھے اور کروڑوں دیگر مداحوں کو ایسی یادیں دی ہیں جو ہمیشہ قائم رہیں گی۔
’چاہے وہ سب سے بڑے لمحات میں فتح کی ترغیب دینا ہو، خاص طور پر 2019 اور 2022 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کو جیت دلانا اور ہیڈنگلے میں ان کی تاریخی ایشز اننگز یا پھر ہمت اور یقین کے ساتھ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنا، بین انگلش کرکٹ میں ایک انتہائی اہم اور متاثر کن شخصیت رہے ہیں۔‘
35 سالہ آل راؤنڈر نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 121 میچ کھیلتے ہوئے 7228 رنز بنائے جبکہ ان کا سب سے بڑا سکور 258 رہا۔ انہوں نے لانگ فارمیٹ میں 246 وکٹیں بھی لیں۔
ون ڈے فارمیٹ میں انہوں نے 114 میچوں میں 3463 رنز اور 74 وکٹیں لیں۔ ٹی 20 میں 43 میچ کھیلے اور 585 رنز اور 26 وکٹیں لیں۔