اشرافیہ اور عوام کا فرق کیا دائمی ہے؟

اعلیٰ ذات اور اونچے طبقے کے لوگ اپنے سماجی مقام کو مستحکم رکھنے کے لیے کئی نظریات کو استعمال کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ عدم مساوات اسی طرح سے قائم رہے گی (گرافک اینواتو)

تہذیب کے ارتقا کے ساتھ معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم ہو گیا یعنی اشرافیہ اور عوام۔ ان کے درمیان جو سماجی فرق پیدا ہو گیا تھا وہ ہر دور میں جاری رہا۔

اشرافیہ کی دلیل یہ ہے کہ معاشرے میں نچلے طبقے کا ہونا ضروری ہے۔ ارسطو نے غلامی کو جائز قرار دیتے ہوئے یہ دلیل دی تھی کہ غلاموں کی وجہ سے اشرافیہ کو روزمرہ کے کام کرنے نہیں پڑتے اور وہ فرصت کے اوقات میں فلسفے اور دیگر علوم کا مطالعہ کر کے معاشرے کے لیے مفید کام سر انجام دیتے ہیں۔

اسی دلیل کو تاریخ میں بار بار دہرایا  گیا ہے اور نچلے طبقے کے بارے میں کہا گیا کہ وہ کم عقل اور جاہل ہوتے ہیں۔ اس کی مثال ہندوؤں کی ذات پات سے ہے جس میں برہمن ذات کو اعلیٰ مقام دیا گیا۔ شودروں کو ان کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا۔ اچھوت اور دلت ذات کا سماجی درجہ انتہائی پست ہے۔

عدم مساوات کی وجہ سے معاشرہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

اعلیٰ ذات اور اونچے طبقے کے لوگ اپنے سماجی مقام کو مستحکم رکھنے کے لیے کئی نظریات کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک نظریہ تو یہ ہے کہ اعلیٰ و ادنی طبقوں کو خدا نے تقسیم کر کے پیدا کیا ہے۔ یہ ایک الہی قانون ہے جس کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

دوسرے اشرافیہ کی بنیاد جائیداد پر ہوتی ہے۔ تیسرے وہ اپنی برتری اپنے خاندان سے ثابت کرتے ہیں جنہوں نے سیاست اور جنگوں میں اعلیٰ کارنامے سرانجام دے کر معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے۔ وہ ان خطابات کا بھی ذکر کرتے ہیں جو مختلف ادوار میں انہیں دیئے گئے تھے۔ وہ ان قوانین کا بھی حوالہ دیتے ہیں جو ان کے تسلط کے لیے نافذ کیے گئے تھے۔

عوام کے سماجی درجے کو گھٹانے کے لیے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ وہ عقل و فہم سے دور ہیں اور جذبات کی رو میں بہ جاتے ہیں، لہذا ان کا کام خدمت گزاری کا ہے، حکومت کرنے کا نہیں۔

ایک انگریز شاعر گرے (Grey) کا مرثیہ ہے جو اس نے اس وقت لکھا تھا جب وہ غریبوں کے ایک قبرستان میں گیا تھا۔ ان قبروں کو دیکھ کر وہ اپنے جذبات کا اس طرح اظہار کرتا ہے: ’ان میں نہ جانے کتنے ذہین عقل و خرد سے بھرپور اور اپنے ارادے اور عظم میں لاسانی تھے مگر اپنی غربت اور افلاس کی وجہ سے انہیں یہ موقع نہیں ملا کہ اپنی لیاقت اور صلاحیت کا استعمال کرسکیں (اس مرثیے کا اردو ترجمہ نظم ’طبا طبائی‘ میں ’گورے غریباں‘ کے نام سے کیا ہے)۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدم مساوات کے خلاف عام لوگوں کی یہ جدوجہد جاری رہی ہے۔ 1789 کے فرانسیسی انقلاب کا ایک نعرہ مساوات تھا۔ انقلاب میں نہ صرف بادشاہت کا خاتمہ ہوا بلکہ امرا کے طبقے کو بھی ختم کر دیا گیا۔ امرا کو جو شاہی خطابات ملے تھے ان کا استعمال بند کر دیا گیا۔

شہری ایک دوسرے کو برابر کا مقام دیتے ہوئے صرف شہری (CITYON) مخاطب کرتے تھے۔ اسی طرح 1917 کے روسی انقلاب میں وہ کامریڈ کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔ انقلابات میں اگرچہ مساوات کی مہم چلی مگر اعلیٰ اور نچلے طبقوں کا فرق کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا۔

اس تناظر میں جب ہم پاکستانی معاشرے کا تجزیہ کرتے ہیں تو اشرافیہ اور عام لوگوں کے درمیان فرق کو شدید پاتے ہیں۔ اشرافیہ کی طاقت ان کی جائیداد اور سرمائے پر ہے۔ جاگیردار طبقہ کسی بھی ایسے قانون کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں جس کی وجہ سے ان کی زمینی جائیداد میں کمی آئے، لہذا شرافیہ کا طبقہ ہر صورت میں اپنے تسلط کو مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔

اس کے لیے اس نے مختلف ذرائع کو اختیار کیا ہے۔ مثلاً اعلی اور معیاری تعلیم کے لیے اشرافیہ کے اپنے تعلیمی ادارے ہیں، جن کا ذریعہ تعلیم انگریزی زبان ہے اور نصاب کی کتابیں بھی بیرونی ممالک سے آتی ہیں۔ جو نوجوان یہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ مقابلے کے امتحان پاس کر کے ریاست کی بیوروکریسی میں شامل ہو جاتے ہیں اور بااثر ہو کر لوگوں کی نظروں میں عزت و احترام پیدا کرتے ہیں۔

سرمایہ دار طبقہ تجارت اور صنعتی شعبے میں سرمایہ داری کرتا ہے جو ان کی دولت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ اگرچہ جمہوری نظام میں معاشرے کے تمام طبقوں کو یہ آزادی تو دی ہے کہ وہ سیاست میں حصہ لیں اور اپنے حقوق حاصل کریں لیکن حقیقت میں سیاست پر جاگیرداروں، سجادہ نشینوں اور سرمایہ داروں کا قبضہ ہوتا ہے۔

عام لوگ محض ووٹر ہوتے ہیں۔ سیاسی رہنما انہیں خام مال سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ان سے نعرے لگواتے ہیں، مظاہرے کراتے ہیں لیکن ان کو مساوی درجہ دینے پر تیار نہیں ہوتے ہیں۔

اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا یہ عدم مساوات اسی طرح سے قائم رہے گی، کیونکہ نہ تو اسے انقلابات نے ختم کیا اور نہ جمہوریت نے اور کیا عام لوگ تعلیم سے محروم اور صحت کی سہولتوں سے ناامید زندگی گزاریں گے؟ 

حکمران طبقہ چاہتا ہے کہ عام لوگ کمزور رہیں۔ عقل و شعور سے دور رہیں تاکہ ان کے خلاف کوئی مزاحمت نہ ہو اور وہ عام لوگوں کی محنت و مشقت سے اپنے لیے سکون اور آرام کو حاصل کر سکیں۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ