دوسری شادی، ہمارے سماج کا سلگتا ہوا موضوع۔ یہ موضوع کیوں سلگتا ہے، اس کے پیچھے صدیوں کا پدر شاہی نظام ہے جو آج تک سب مواقع موجود ہونے کے باوجود یہ ثابت نہیں کر پایا کہ دوسری شادی کیوں ضروری ہے؟
ہمارے ابا نے دوسری شادی نہیں کی، مگر ہمارے چچا نے کی۔ ہمارے دادا نے نہیں کی مگر پردادا نے کی۔ ہمارے بھائی نے نہیں کی مگر ماموں نے کی۔ نانا نے نہیں کی مگر نانا کے بھائی نے کی۔
یہ مساوات جو کہیں بھی دو جمع دو چار نہیں ہوتی ہمارے سامنے بھی آتی ہے۔ میں اکثر اپنے شوہر سے پوچھتی ہوں کہ ہاں بھئی آپ نے اب تک دوسری شادی کیوں نہیں کی۔ جواب دینے کی بجائے آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور مارے رقت کے بات کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
یہ بھی ہوتا ہے کہ اکثر محفلوں میں پھونسڑے نکلے، بال اڑے، دیمک زدہ سے کچھ لوگ اونچی اونچی آواز میں دوسری شادی سے متعلق حسرتوں کا ببانگ دہل اعلان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ان ہی بزرگوں کے قریب ان پہ ہنسنے والوں کا جتھا بھی جمع ہوتا ہے جن کی ہنسی پکار پکار کے کہہ رہی ہوتی ہے کہ بھیا پہلی بیوی تو تمہارے ہوتے ہوئے بھی بیوہ معلوم ہو رہی ہے دوسری شادی کس برتے پہ کرو گے؟
پھر ہوتے ہیں وہ لوگ جو خفیہ شادی کرتے ہیں۔ خفیہ شادی کے خوف سے یہ پہلی بیوی سے اتنے اچھے رہتے ہیں کہ دوسری بیوی احساس کمتری کا شکار ہو کے پریس کانفرنس بلا لیتی ہے۔
تب یہ دوسری کو چھوڑ کے پہلی کے قدموں میں آگرتے ہیں اور مرتے دم تک گرے رہتے ہیں۔ پہلی بیوی ہر جگہ فخریہ کہتی ہیں کہ 'آئی تھی بڑی وہاں سے، دو سال نہیں رہ سکی یہ میرا ہی صبر ہے جو ان کے ساتھ گزارا کر گئی۔' اس کے ساتھ ہی آواز بھرا جاتی ہے، محفل آنسوؤں میں ڈوب جاتی ہے اور شوہر صاحب ملامتی نظروں تلے دفن ہو جاتے ہیں۔
کمال کے لوگ وہ بھی ہوتے ہیں جو دوسری کی موجودگی میں اعلانیہ تیسری شادی بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھار چوتھی بھی۔ مگر یہ لوگ کون ہوتے ہیں اور کہاں سے آتے ہیں ان کے بارے میں راوی خاموش ہے۔
ہمارے ابا کے ایک چچازاد نے مبینہ طور پہ تیرہ شادیاں کی تھیں اور روایت ہے کہ ان کی 39 اولادیں تھیں۔ یہ معاملہ ایسا تھا کہ اب اس کا ذکر کرتے ہوئے بھی لگتا ہے کہ الف لیلہ و لیلہ کا کوئی باب پڑھ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پہ آئے دن غلغلہ مچتا ہے کہ فلاں نے دوسری شادی کی تو آنے والی ' ہوم بریکر 'ہے یعنی دولہے میاں تو ننھے کاکے تھے اور وہ گھر بھی کیا گھر ہو گا جو ٹوٹا تو آج ہے مگر دراڑیں اس میں جانے کب سے ہوں گی۔
ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ جس طرح لوگ محبت میں مبتلا ہوتے ہیں عین اسی طرح محبت سے نکل بھی جاتے ہیں اور جب دو لوگوں کے درمیان محبت نہ رہے تو کیا تب بھی اس تعلق کو دنیا دکھاوے کے لیے نبھاتے رہنا چاہیے؟
یہ سوال بھی ایک ایسی مساوات ہے جس میں دو جمع دو کا جواب چار نہیں آتا۔ کبھی پونے تین اور کبھی سوا چار بھی آجاتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چلتے چلتے یہ بھی بتا دوں کہ میرے چچا نے جو دوسری شادی کی وہ ایک بے سہارا خود سے بڑی عمر کی ایک بیٹی کی ماں سے کی۔ ماموں نے بیگم کی وفات کے دس سال بعد اپنی ہم عمر طلاق یافتہ دو بچوں کی ماں سے کی وعلی ہذاالقیاس۔
ایک اور سوال کہ اگر کوئی دوسری شادی کم عمر خوبصورت لڑکی سے کرے تو اسے کیا کہیں گے اور کیا کچھ بھی کہنا ضروری ہے؟
دوسری شادی کا سوال اٹھتا رہے گا، رائے منقسم رہے گی اور لوگ دوسری شادیاں بھی کرتے رہیں گے۔ انسانی رویوں کی توجیہہ اور زندگی گزارنے کا ایک ہی فارمولا ہر فرد کے لیے وضع کرنا ، ناممکن ہیں۔
ایک اور بزرج مہر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس نے دوسری شادی کرنی ہے وہ ہر صورت کرے گا چاہے آپ اس کی شادی قلوپطرہ سے بھی کردیں۔ یہاں آکے میں بدک گئی کیونکہ اب کیا یہ ضروری ہے کہ ہر شخص کو قلوپطرہ خوبصورت لگے؟ اور لگے بھی تو کیا قلوپطرہ بھی اس سے شادی کر ہی لے گی؟
تو بات یہ ہے کہ زندگی کی مساوات اور انسانی رویے اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ دیوانی مقدموں کی طرح ان کے فیصلے بھی بیک جنبش قلم نہیں کئے جاسکتے۔ گرد بیٹھتی ہے تو علم ہوتا ہے کیا ہوا تھا ۔ جو بات آج بری ہے، کل معمول بھی ہو سکتی ہے۔
بقول فراز: آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر۔۔ کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔