کرکٹ لیجنڈز کے خط کے جواب میں

سنیل گواسکر نے کبھی سوچا کہ وہ ایک خط مودی جی کو بھی لکھیں اور ان سے مطالبہ کریں کہ زندگی کے 40 سال جیلوں میں گزار دینے والے شبیر شاہ کو بہتر سہولیات دی جائیں۔

سابق انڈین کرکٹر سنیل گواسکر 7 نومبر 2014 کو ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کے موقعے پر (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

دنیائے کرکٹ کے لیجنڈز نے حکومت پاکستان کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ جیل میں عمران خان سے بہتر سلوک کیا جائے، لکھنے والوں میں سنیل گواسکر کا نام بھی شامل ہے۔

 سنیل گواسکر قابل احترام ہیں، 92ویں کے ورلڈ کپ میں ہم ان کی کمنٹری کے مقروض ہیں، ایک ایسے وقت میں جب امید دم توڑ رہی ہوتی تھی اور ساتھی کمنٹیٹر پاکستان کی ممکنہ شکست کی بات کر رہے ہوتے تھے، یہ گواسکر تھے جو بار بار یاد دلاتے کہ ’لیکن ابھی میانداد کریز پر ہیں اور جب تک میانداد بیٹنگ کر رہے ہیں پاکستان کی امید زندہ ہے۔‘

وقت کی طغیانی میں عمر کا ایک حصہ بہہ گیا ہے لیکن گواسکر کا یہ فقرہ اب بھی نہیں بھولا: ’بٹ میانداد از سٹل آن دی کریز۔‘

لیکن کیا اس احترام کا یہ مطلب ہے کہ سنیل گواسکر کسی لابنگ کا حصہ بن کر پاکستان کے نظام انصاف و قانون کو کٹہرے میں کھڑا کر دیں تو ان سے پلٹ کر کوئی یہ بھی نہ پوچھے کہ کھیلوں کی شراکت اور ریاستوں کے داخلی معاملات اور خودمختاری کے احترام کا دائرہ کار کیا ہوتا ہے؟

کیا کبھی ان کے چڑیا جیسے دل نے ان کو مجبور کیا کہ وہ ایک خط مودی جی کو بھی لکھیں اور ان سے مطالبہ کریں کہ زندگی کے 40 سال جیلوں میں گزار دینے والے شبیر شاہ کو بہتر سہولیات دی جائیں، کیا کبھی انہوں نے آواز اٹھائی کہ ڈیتھ سیل میں پڑے بے گناہ یاسین ملک کو ان کی بیٹی اور اہلیہ سے ملاقات یا فون کال کی اجازت دی جائے۔

کیا کبھی وہ کہہ سکے کہ 35 سال سے قید میں پڑے قاسم فکتو کے ساتھ غیر انسانی سلوک بند کیا جائے یا 25 سال سے زیادہ عرصہ جیل میں گزارنے والی قاسم فکتو کی اہلیہ آسیہ اندرابی کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے؟

کیا وہ کبھی علی بھٹ، لطیف احمد اور نثار حسین کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے جو 25، 25 سالوں سے انڈیا کی قید میں پڑے ہیں؟

مجھے معلوم ہے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ انہوں نے تو کرکٹ کے رشتے سے آواز اٹھائی ہے، حقوق انسانی کے حوالے سے نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تو سوال یہ ہے کہ کیا سنیل گواسکر، کپل دیو اور سارو گنگولی کرکٹ کے رشتے کو پاکستان کے خلاف ویپنائز کرنا چاہتے ہیں؟ کیا عمران خان کرکٹ کی وجہ سے جیل میں ہیں؟

یہ ایک مہم ہے جسے لابنگ کا دست ہنر کہا جا سکتا ہے۔ کبھی ٹرمپ سے امید باندھی جاتی ہے، کبھی زلمے خلیل زاد فرد جرم تیار کرتے ہیں، کبھی امریکہ کے اراکین کانگریس کے ہاتھوں روبکار بھجوائی جاتی ہے اور اب تازہ ترین کارروائی کرکٹ کی دنیا کے سابق کپتانوں کے ہاتھوں ڈلوائی گئی ہے۔ 

عمران خان پاکستان کے سیاسی رہنما ہیں، کرکٹ لیجنڈ ہیں، وزیراعظم رہ چکے ہیں، ان کو بہترین طبی سہولیات مہیا کیا جانا ان کا حق ہے۔ پھر یہ کہ اس معاملے کو سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے۔ طبی بورڈ ان کی صحت کو مسلسل مانیٹر کر رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی آنکھ اب پہلے سے بہتر ہے۔ 

محمود اچکزئی جو قائد حزب اختلاف ہیں ان سے ملاقات کر آئے ہیں اور اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں۔ پھر بھی کچھ تحفظات ہیں تو ان کو دور کیا جانا چاہیے۔ ہر صورت میں۔

لیکن یہ جب دنیائے کرکٹ کے لیجنڈز سے کارروائی ڈلوائی جاتی ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جیل میں ایسا کون سا غیر انسانی سلوک ہوا ہے کہ یہ عظیم کرکٹرز بے چین ہو گئے ہیں اور انہوں نے باقاعدہ ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان سے بہتر سلوک کیا جائے۔

صورت حال یہ ہے کہ ہماری جیلوں میں 46 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن وہاں 84 ہزار ٹھونس دیے گئے ہیں اور حاملہ قیدیوں کے لیے الگ کمرہ تک دستیاب نہیں ہوتا۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 11 جیلوں میں خواتین کو رفع حاجت تک ایک دوسرے کے سامنے کرنا پڑتی ہے کیونکہ الگ انتظام نہیں ہے۔

لیکن اس کے باوجود جناب عمران خان کو جیل کے جس کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے وہ سات سیلز پر مشتمل ہے۔ اس میں 35 قیدیوں کی گنجائش ہے مگر 35 کی بجائے صرف ایک قیدی رکھا گیا ہے، اور کون سا بہتر ماحول فراہم کیا جائے؟

کھانے کے معاملات بھی شان دار ہیں۔ جیل میں عمران خان صاحب کو جو کھانے پیش کیے جا رہے ہیں، پاکستان کی تین چوتھائی آبادی عام زندگی تو کجا عیدوں پر بھی ایسے کھانوں کا تصور نہیں کر سکتی۔ ناشتے میں انار اور مسمی  کے جوس، کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی، گرم دودھ۔ دوپہر میں دیسی مرغ اور مٹن اور شام میں بادام، کشمش، ناریل کے ملک شیک، کھجور، سیب اور کیلے۔

جیل میں اور کیا پیش کیا جائے کہ سنیل گواسکر صاحب کی تسلی ہو سکے۔

انڈیا کی کسی جیل میں، کسی قیدی کے لیے اس سے اچھا ماحول دستیاب ہو تو گواسکر صاحب اگلے خط میں اس کی تفصیل پاکستان کو بھجوا دیں۔ وہ چاہیں تو اس کے لیے مائیک ایتھرٹن، ڈیوڈ گاور، ایلن باڈر، گریگ چیپل، سٹیو وا، کلائیو لائیڈ اور جان رائٹ سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔

انتظار رہے گا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر