نام چھوٹا درشن بڑے: ٹی 20 ورلڈ کپ میں چھوٹی ٹیموں کا ’بڑا‘ وار

بڑی ٹیموں کو واضح پیغام مل چکا ہے کہ اب کوئی بھی حریف ترنوالہ نہیں، کیونکہ کرکٹ کی دنیا میں فاصلے سمٹ رہے ہیں۔

نیدرلینڈز کے پال فان میکرن 7 فروری 2026 کو کولمبو میں آئی سی سی مینز ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے میں پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان میچ کے دوران گیند کراتے ہوئے (ایشرا ایس کوڈی کارا / اے ایف پی)

اردو کا مشہور محاورہ ’نام بڑے درشن چھوٹے‘ اس ٹی 20 ورلڈ کپ میں یکسر تبدیل ہو کر سامنے آیا ہے، یعنی ’نام چھوٹا درشن بڑے۔‘ اس کی بنیادی وجہ ایسوسی ایٹ اور نچلی رینکنگ والی ٹیموں کی بڑی ٹیموں کے خلاف حیران کن کارکردگی ہے۔

پہلے دو دنوں میں ہی ان نام نہاد ’چھوٹی‘ ٹیموں نے بڑی ٹیموں کو واضح پیغام دے دیا کہ انہیں کسی صورت کمزور حریف نہ سمجھا جائے۔ اگرچہ نیدرلینڈز، امریکہ اور نیپال کی ٹیمیں نتائج اپنے حق میں کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن انہوں نے اپنی حریف ٹیموں کے گرد گھیرا اتنا تنگ کر دیا تھا کہ جس سے نکلنے کے لیے پاکستان، انڈیا اور انگلینڈ کو اپنی تمام تر صلاحیتیں اور تجربہ بروئے کار لانا پڑا۔

’چھوٹی ٹیموں‘ میں کیا خاص بات ہے؟

اس سے پہلے کہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ آخر یہ ٹیمیں اتنی شاندار کارکردگی دکھانے میں کیسے کامیاب ہو جاتی ہیں، پہلے اس عالمی ایونٹ کے تین اہم میچوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

پاکستان ٹیم کی یہ انوکھی خوبی ہے کہ وہ دنیا کو جیت اور ہار دونوں طریقوں سے حیران کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نیدرلینڈز کے خلاف میچ میں وہ شکست کے دہانے سے بمشکل بچی اور آخری اوور میں تین وکٹوں سے نیا پار لگانے میں کامیاب ہو سکی۔

امریکہ کی ٹیم اگرچہ انڈیا کو شکست نہ دے سکی لیکن سٹیڈیم میں موجود شائقین اور انڈین ڈگ آؤٹ میں پائی جانے والی بےچینی اس وقت واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی جب انڈیا کی چھ وکٹیں 77 رنز پر اور سات وکٹیں 110 رنز پر گر چکی تھیں اور سوریا کمار یادو کی جارحانہ بیٹنگ ہی اس کی مدد کو آئی۔

ان دو میچوں سے بڑھ کر سب سے زیادہ سنسنی خیزی نیپال کے میچ میں نظر آئی جو عالمی رینکنگ میں 16ویں نمبر پر ہے لیکن اس نے عالمی نمبر تین انگلینڈ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جس طرح کی کرکٹ کھیلی، اسے نتیجہ حق میں نہ ہونے کے باوجود ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جیت اور ہار کے درمیان صرف ایک وننگ شاٹ کا فرق رہ گیا تھا۔

دباؤ کس پر ہوتا ہے؟

اس سوال کا جواب سیدھا سادہ ہے کہ جب یہ ٹیمیں میدان میں اترتی ہیں تو سارا دباؤ بڑی ٹیموں پر ہوتا ہے کہ کہیں وہ ان کا ترنوالہ بن کر دنیا کے سامنے تماشا نہ بن جائیں۔ دوسری جانب ان چھوٹی ٹیموں پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا، کوئی چیز داؤ پر نہیں لگی ہوتی اور وہ بےخوف ہو کر کھیلتی ہیں، اسی لیے اکثر نتائج بھی اپنے حق میں کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

اس ٹی 20 ورلڈ کپ میں 20 ٹیمیں شریک ہیں جن میں سب سے نچلی رینکنگ کی ٹیم اٹلی ہے (27ویں نمبر پر) جو پہلی بار ورلڈ کپ کھیل رہی ہے۔ امریکہ (18ویں) اور کینیڈا (19ویں) کی یہ دوسری شرکت ہے جبکہ نیپال اور متحدہ عرب امارات تیسری بار ایکشن میں ہیں۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

سابق کپتان راشد لطیف کہتے ہیں: ’ٹی 20 کرکٹ میں اب بڑی اور چھوٹی ٹیموں کا تصور باقی نہیں رہا، معاملہ برابری پر آ گیا ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ یہ ٹیمیں ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلتیں اور دو طرفہ ون ڈے بھی کم کھیلتی ہیں لہذا ان کے لیے ورلڈ کپ بہت زیادہ اہم ہوتا ہے۔ وہ اسی کو ذہن میں رکھ کر تیاری کرتی ہیں بلکہ ان کی تیاری ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور وہ ایک ٹارگٹ کے ساتھ آتی ہیں۔‘

راشد لطیف نے مزید کہا کہ ’اس وقت فرنچائز کرکٹ ہر طرف ہو رہی ہے اس لیے ان ایسوسی ایٹ ٹیموں کے کھلاڑی بھی متعدد لیگز میں باقاعدگی سے کھیل رہے ہیں۔ ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسوسی ایٹس کو بھی اچھا خاصا پیسہ ملنا شروع ہوا ہے جس سے ان کی کرکٹ بہتر ہو رہی ہے۔ ان کے کھلاڑی جو پہلے شوقیہ کھیلا کرتے تھے اب پروفیشنل ہو گئے ہیں۔‘

سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کے مطابق ایسوسی ایٹس کی اچھی کارکردگی کی چند بنیادی وجوہات ہیں۔ ’پہلی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیشنل تجربہ کم ہونے کے باوجود ان کے کھلاڑی کاؤنٹی کرکٹ اور مختلف لیگز کھیل رہے ہوتے ہیں اس لیے انہیں ٹی 20 فارمیٹ کو ہینڈل کرنا بخوبی آتا ہے۔‘

بازید خان نے ڈیٹا کے پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ’آج کل کرکٹ میں ڈیٹا انالیسس کی بہت بات ہوتی ہے لیکن چونکہ بڑی ٹیمیں ان چھوٹی ٹیموں سے صرف ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں ہی کھیلتی ہیں تو ان کے پاس کھلاڑیوں کے بارے میں بہت زیادہ معلومات موجود نہیں ہوتیں اور ڈیٹا اس طرح کارآمد نہیں ہوتا۔ تیسری وجہ ان ٹیموں میں استحکام ہے، کیونکہ ان میں بہت زیادہ تبدیلیاں نہیں ہوتیں اور کھلاڑیوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی موجود رہتی ہے۔‘

سابق کپتان مصباح الحق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’سب سے بڑی وجہ تو خود یہ مختصر فارمیٹ ہے جس میں چھوٹی ٹیموں کو یہ مواقع ملتے ہیں کہ وہ کسی بھی بڑی ٹیم کے سامنے سخت حریف بن سکیں۔ ان کے پاس ون ڈے اور ٹیسٹ کا تجربہ نہیں اس لیے وہاں مقابلہ نہیں کر پاتیں لیکن ٹی 20 میں ایک اچھی انفرادی کارکردگی میچ کا نقشہ بدل دیتی ہے۔‘

مصباح الحق نے مزید کہا کہ ’فرق کم ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے متعدد کھلاڑی اب ترکِ وطن کر کے ان ایسوسی ایٹس ممالک میں آئے ہیں جس سے معیار میں اضافہ ہوا ہے۔ اب ان ممالک کی نظریں اولمپکس پر بھی لگی ہوئی ہیں جس میں ٹی 20 کرکٹ شامل ہو گئی ہے۔‘

یہی بات زمبابوے کے کپتان سکندر رضا اور بنگلہ دیشی آل راؤنڈر شکیب الحسن نے بھی کی ہے۔ شکیب الحسن نے امریکہ کے ہاتھوں شکست کے بعد کہا تھا کہ ٹی 20 کے مختصر فارمیٹ میں اب کوئی ٹیم چھوٹی نہیں رہی کیونکہ اس میں غیر یقینی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ماضی کے چند مشہور اپ سیٹس

اگر ہم ٹی 20 ورلڈ کپ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو تقریباً ہر ٹورنامنٹ میں کسی نہ کسی چھوٹی ٹیم نے بڑی ٹیم کو ہزیمت سے دوچار کیا ہے۔

2007: پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ میں زمبابوے نے آسٹریلیا کو پانچ وکٹوں سے ہرا کر سب کو حیران کیا۔

2009: نیدرلینڈز نے انگلینڈ کو آخری گیند پر چار وکٹوں سے شکست دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2014: نیپال نے افغانستان کے خلاف نو رنز سے ڈرامائی کامیابی حاصل کی۔

2016: افغانستان نے ویسٹ انڈیز کو چھ رنز سے اور عمان نے آئرلینڈ کو دو وکٹوں سے ہرا کر شہ سرخیوں میں جگہ بنائی۔

2021: نمیبیا نے آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور سکاٹ لینڈ کو شکست دے کر غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔

2022 اور 2024: جب دنیا حیران رہ گئی

2022 کا ورلڈ کپ غیر متوقع نتائج کی وجہ سے سب پر بازی لے گیا تھا۔ سب سے چونکا دینے والا نتیجہ نیدرلینڈز کی جنوبی افریقہ کے خلاف 13 رنز سے کامیابی تھی جس نے پاکستان ٹیم کو ایونٹ سے باہر ہونے سے بچا لیا تھا۔

پھر 2024 کے ورلڈ کپ میں افغانستان کا جادو سر چڑھ کر بولا جس نے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسی ٹیموں کو شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی۔ لیکن اس ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا دھچکا امریکہ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست تھی۔

امریکہ نے 159 رنز بنا کر میچ ٹائی کیا اور پھر سپر اوور میں محمد عامر کے اوور میں 18 رنز بنا کر تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ وہ زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر سکے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کو متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ