اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے اتوار کو کہا کہ پاکستان نے 13 دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے تبصرے کی مذمت کی ہے، جس میں انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے پر تل ابیب کے قبضے کی مخالفت نہیں کریں گے۔
مائیک ہکابی نے یہ ریمارکس جمعے کو فاکس نیوز کے سابق میزبان ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہے، جہاں امریکی سفیر نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کی سرحدیں بائبل پر مبنی ہیں جب ان سے ملک کی موجودہ حدود کے بارے میں سوال کیا گیا۔
جواب میں کارلسن نے نوٹ کیا کہ بائبل کی آیت میں عراق میں دریائے فرات اور مصر میں دریائے نیل کے درمیان کا علاقہ شامل ہے۔ اس پر، ہکابی، جو اسرائیل کے سخت حامی قدامت پسند ہیں، نے کہا، ’یہ ٹھیک ہو گا اگر وہ (اسرائیل) یہ سب لے لیں۔‘
آج جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، کویت، عمان، ترکی، سعودی عرب، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین سمیت ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم، لیگ آف عرب سٹیٹس، اور گلف پرووائس کونسل کے ساتھ ’تشویش کا اظہار کیا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ اپنے ممالک کی جانب سے اس طرح کے خطرناک اور اشتعال انگیز ریمارکس کو واضح طور پر مسترد کرنے کی تصدیق کرتے ہیں، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘
مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہکابی کے ریمارکس ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ وژن کے علاوہ غزہ کے تنازع کو ختم کرنے کے جامع منصوبے سے متصادم ہیں، جو کہ کشیدگی کو روکنے اور ایک جامع تصفیہ کے لیے سیاسی افق کی تشکیل پر مبنی ہے جو فلسطینی عوام کو اپنی خود مختار ریاست کے حصول کو یقینی بناتا ہے۔‘
اس نے زور دے کر کہا کہ ٹرمپ کا منصوبہ ’رواداری اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے پر مبنی تھا، اور دوسروں کی زمینوں پر کنٹرول کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرنے والے ریمارکس ان مقاصد کو نقصان پہنچاتے ہیں، کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں، اور امن کو آگے بڑھانے کے بجائے اشتعال انگیزی پیدا کرتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مسلم ممالک کے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کا ’مقبوضہ فلسطینی سرزمین یا کسی اور مقبوضہ عرب سرزمین پر کسی قسم کی خودمختاری نہیں ہے۔‘
مزید کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے مغربی کنارے کو الحاق کرنے یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرنے، مقبوضہ فلسطینی علاقے میں آبادکاری کی سرگرمیوں میں توسیع کی سخت مخالفت اور عرب ریاستوں کی خودمختاری کے لیے کسی بھی خطرے کو واضح طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔‘
وزرا نے ’اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے تسلسل‘ کے خلاف بھی خبردار کیا، اور کہا کہ ’غیر قانونی اقدامات صرف علاقے میں تشدد اور تنازعات کو ہوا دیں گے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچائیں گے۔‘
انہوں نے ’ان اشتعال انگیز بیانات کو ختم کرنے‘ کا مطالبہ کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت اور 4 جون 1967 کے خطوط پر ان کی آزاد ریاست کے قیام اور تمام عرب سرزمین پر قبضے کے خاتمے کے لیے ان ممالک کی ثابت قدمی۔‘
یہ ایک ہفتے کے دوران اسلام آباد اور مسلمان ممالک کی اسرائیل کی دوسری مذمت ہت۔
پاکستان اور سات دوسرے مسلم ممالک نے منگل کو مغربی کنارے میں اراضی کی رجسٹریشن سے متعلق اسرائیلی اقدام کی بھی مذمت کی تھی۔
وزارت خارجہ پاکستان کی طرف سے منگل کو جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق اتوار کو اسرائیلی کابینہ نے 1967 کے بعد پہلی مرتبہ مغربی کنارے میں زمینوں کی رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
اس فیصلے کو فلسطینی اتھارٹی سمیت متعدد حلقے مغربی کنارے پر اسرائیل کے کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے یہودی آبادکاروں کے لیے زمین خریدنا آسان ہو جائے گا اور بالآخر اس علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عمل صرف ایریا سی میں ہو گا، جو مغربی کنارے کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے اور اسرائیلی سکیورٹی و انتظامی کنٹرول میں ہے۔