کیا ریاست ایک بیمار قیدی سے خائف ہے یا خود انصاف کے تقاضوں سے؟ یہ سوال آج پاکستانی سماج میں محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اخلاقی گونج بن چکا ہے۔
ریاستوں کا وقار طاقت کے بے جا مظاہروں سے نہیں بلکہ اس امر سے طے ہوتا ہے کہ وہ اپنے زیر حراست کمزور، بیمار اور بے بس شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے آج پاکستان میں اقتدار اور بے حسی کے درمیان فاصلہ مٹتا دکھائی دے رہا ہے۔
ریاستی تحویل میں موجود سابق وزیر اعظم اور معروف سیاسی رہنما کی بگڑتی ہوئی صحت اب محض ایک فرد کا معاملہ نہیں رہی۔ بروقت اور جدید طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور سازگار ماحول سے محرومی نے اس معاملے کو سیاسی اختلاف سے نکال کر ایک انسانی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ بینائی متاثر ہونے کی اطلاعات تشویش ناک ہیں، اور یہ طب کا مسلمہ اصول ہے کہ علاج میں تاخیر اکثر ناقابل تلافی نتائج کا باعث بنتی ہے۔
جب ریاستی نظام بیماری کو انتظامی مسئلہ اور علاج کو رعایت سمجھنے لگے تو وہ انصاف کے بنیادی تصور سے انحراف کرتا ہے۔ کوئی قانون، عدالتی تاخیر یا سکیورٹی جواز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایک قیدی، خواہ وہ کتنا ہی متنازع کیوں نہ ہو، فوری اور معیاری طبی علاج سے محروم رکھا جائے۔ انصاف کی اصل روح یہی ہے کہ وہ طاقتور اور کمزور کے فرق کو مٹا دے، نہ کہ اسے مزید گہرا کرے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بھی قیدی کے حقوق اور کمزوروں کی فلاح ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ پیغمر اسلام نے بھی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی عزت نفس کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ رمضان المبارک صبر، رحم اور سماجی انصاف کا مہینہ ہے۔ ایسے میں اگر ریاست سختی اور بے حسی کو ترجیح دے تو یہ اس مقدس مہینے کی روح کے بھی منافی ہے۔
یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں درپیش ہے جب ملک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ رمضان سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کی نئی لہر نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ایسے حالات میں دوچند ہو جاتی ہے، مگر عملی رویہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ انصاف سے خوف اور بیمار سے بداعتمادی ایک سرکاری رویہ بنتی جا رہی ہے، ایک ایسا نظام جو قانون کی بات تو کرتا ہے مگر اس کی روح سے گریزاں ہے۔ بیماری کو خطرہ سمجھنا کسی مضبوط ریاست کی علامت نہیں بلکہ اخلاقی زوال کا اشارہ ہے۔ اس پر عالمی برادری کی خاموشی بھی کم افسوسناک نہیں، جو انسانی حقوق کے بلند بانگ دعووں پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔
تاریخ ان ریاستوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو طاقت کو مستقل اور انسان کو عارضی سمجھ لیں۔ آج ایک بیمار قیدی کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک کل ایک قومی اور اخلاقی حوالہ بنے گا۔ انصاف ریاست کو کمزور نہیں بلکہ باوقار بناتا ہے، رحم اقتدار کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کی نجات ہے۔ ان دونوں کے بغیر حکومت محض اختیار کا بے روح ڈھانچہ رہ جاتی ہے اور ریاست اپنی اخلاقی بنیاد کھو بیٹھتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔