عمران خان کا علاج اسلام آباد میں ممکن: شوکت خانم ہسپتال کے دو ڈاکٹرز

گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق 73 سالہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی مرکزی ریٹنا وین اوکلوژن کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے۔

عمران خان کی کوششوں سے لاہور میں قائم کینسر ہسپتال شوکت خانم کے دو سینیئر ڈاکٹروں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ سابق وزیراعظم کی آنکھ کے علاوہ ان کا مربوط علاج ضروری ہے اور ان کے بقول یہ اسلام آباد کے ایک بڑے نجی ہسپتال الشفا میں ممکن ہے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر سینیئر وکیل سلمان صفدر نے گذشتہ ہفتے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ایک رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا کہ 73 سالہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی مرکزی ریٹنا وین اوکلوژن کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے اور متاثرہ آنکھ میں صرف 15 فیصد بصارت باقی رہ گئی ہے۔

جس کے بعد سے عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج چوتھے روز بھی سراپا احتجاج ہے۔

پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار خان نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ’چیف جسٹس طویل ویک اینڈ کے بعد آج، 16 فروری 2025 کو، چھٹی پر ہیں۔

’عین اسی دن جب جعلی فارم 47 حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ڈاکٹرز کو، 26ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم سپریم کورٹ کی ہدایات پر وزیرِاعظم عمران خان کی طبی رپورٹ جمع کرانی ہے۔ اطلاعات کے مطابق رجسٹرار بھی دستیاب نہیں ہیں۔‘

انہوں نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر، پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’مشران اب اس ’برے گروہ‘ کے خلاف اپنی اگلی حکمتِ عملی طے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘

شوکت خانم کینسر ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل اور چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف نے ایک اتوار کو ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ’ دائیں آنکھ کے علاج کے علاوہ، عمران خان کو آنکھ کی بیماری سے منسلک ممکنہ دیگر صحت کے مسائل کا جامع اور مربوط علاج کی ضرورت ہے۔ یہ علاج صرف شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد جیسے ٹرشیری ہسپتال میں ممکن ہے۔‘

وفاقی حکومت ایک اعلامیے میں کہہ چکی ہے کہ عمران خان کا مکمل طبی جائزہ اور علاج یقینی بنانے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت ان کا معائنہ مختلف شعبوں کے ماہرین کریں گے اور ان کی طبی ضروریات کے مطابق ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ڈاکٹر عاصم یوسف نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’یہ صرف آنکھ کا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ ہمیں پورے جسمانی معائنے اور ممکنہ دیگر پیچیدگیوں کا تعین کرنا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر علاج ممکن ہو سکے۔‘

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ’شفا انٹرنیشنل جیسے بڑے میڈیکل سنٹر میں ہم پوری میڈیکل ٹیم کے ساتھ مل کر دیکھ سکتے ہیں، صرف آنکھ تک محدود نہیں، بلکہ سبھی متعلقہ مسائل کا جامع علاج ضروری ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی ٹی آئی کی قیادت اور ان کی دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنما مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان کو ذاتی معالجین کی نگرانی میں ہسپتال منتقل کیا جائے، اور ان کے اہلِ خانہ اور معتمد ڈاکٹر علاج کے عمل میں شامل ہوں جبکہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اور دیگر مقامات پر احتجاجی دھرنے دیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کہہ چکے ہیں کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو ترجیح دیتی ہے۔

انہوں نے گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر لکھا ’قانون کے مطابق ہر قیدی کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان