پاکستان تحریک انصاف نے منگل کو بانی چیئرمین عمران خان کو اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا سنگین مرض ’سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن (CRVO)‘ لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جس پر شوکت خانم ہسپتال کی انتظامیہ نے عمران خان کے طبی معائنے اور ان تک رسائی کی اجازت کے لیے درخواست کی ہے۔
تاہم تاحال اس حوالے سے حکومت اور جیل حکام کی جانب سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
اڈیلہ جیل میں قید عمران خان اور ان کی اہلیہ کو صحت سے متعلق سہولیات پر پی ٹی آئی متعدد بار شکوہ اور عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔
شوکت خانم ہسپتال لاہور کے ڈائریکٹر کمیونکیشن خواجہ نذیر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ہمیں گذشتہ رات سے خبروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ ہمارے ہسپتال کے بانی چیئرمین عمران خان اڈیالہ جیل میں آنکھوں کی سنگین بیماری سنٹرل ریٹائنل وین اوکلوژن (CRVO) میں مبتلا ہیں۔‘
خواجہ نذیر کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ اس خبر کی ہم آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتے۔ تاہم ہمیں عمران خان کی صحت کے بارے تشویش لاحق ہے۔
’ہمیں ان کی دیکھ بھال کرنے والے معالجین کی پیشہ ورانہ مہارت پر اعتماد ہے۔ اس کے باوجود ہم درخواست کرتے ہیں کہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم کو خان صاحب تک رسائی دی جائے تاکہ ان لوگوں کو مطمئن کیا جاسکے جو ان کی صحت سے متعلق تشویش کا شکار ہیں۔‘
Reports suggest Mr. Imran Khan may be suffering from central retinal vein occlusion. Although we cannot independently verify this, we are deeply concerned and request that a team from Shaukat Khanum Hospital be granted immediate access to participate in his care.#SKMCH pic.twitter.com/1dSLyTEKo3
— Shaukat Khanum (@SKMCH) January 27, 2026
دوسری جانب اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر اور عمران خان کی بہنوں نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان سے ان کی بہنوں اور پارٹی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’جیل حکام اور حکومت ایک سنگین آنکھوں کے مرض کے علاج میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔
شوکت خانم ہسپتال لاہور کے ڈائریکٹر کمیونکیشن خواجہ نذیر کا مزید کہنا ہے کہ ’عمران خان کو آخری بار اکتوبر 2024 میں اپنے ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ان کے ذاتی ڈاکٹر کو معائنے کی اجازت نہیں دی گئی جو ایک زیرِ حراست قیدی کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق عمران خان کے باقاعدہ طبی معائنوں سے متعلق ایک درخواست اگست 2025 سے عدالت میں زیرِ التوا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
منگل کو میڈیا پی ٹی آئی نے جاری بیان میں عدلیہ سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ خالصتاً صحت کا معاملہ ہے سیاست کا نہیں اور کسی بھی قسم کی غفلت ناقابلِ قبول ہوگی۔‘
آنکھوں کی سی آر وی او نامی بیماری کیا ہے؟
لاہور کے ماہر امراض چشم سلمان احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژنا آنکھوں کی ایک خطرناک بیماری ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔
’یہ بیماری عموماً ایک آنکھ کی اچانک یا بتدریج نظر کم ہونے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتی ہے جب آنکھ کے پردہ بصارت (ریٹینا) کی مرکزی رگ بند ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں خون اور مائع جمع ہو جاتا ہے اور ریٹینا کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔‘
سلمان احمد کہتے ہیں کہ ’اکثر مریضوں کو ابتدا میں درد محسوس نہیں ہوتا جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
’ہائی بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول میں اضافہ، دل کے امراض اور سگریٹ نوشی اس بیماری کی وجہ بن سکتے ہیں، جبکہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں اس بیماری کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔‘
ڈاکٹر سلمان نے بتایا کہ ’جدید علاج کے ذریعے اس بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے جن میں مختلف انجیکشنز اور لیزر تھراپی شامل ہے بعض مریضوں میں نظر کو بہتر یا محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا نہایت ضروری ہے۔‘
عمران خان کی صحت کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے موقف جاننے کے لیے ترجمان پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری، اطہر کاظمی اور محکمہ پنجاب جیل خانہ جات حکام سے رابطہ کیا لیکن خبر کے شائع ہونے تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔