پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی بہن عظمیٰ خان کی منگل کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد انہوں نے بتایا کہ ان کی صحت ٹھیک ہے۔
پی ٹی آئی نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی کال دی تھی جس کے بعد عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں عظمیٰ خان نے بتایا کہ ’عمران خان الحمد اللہ بالکل ٹھیک ہیں۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان غصے میں تھے اور کہہ رہے تھے کہ انہیں ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
عظمیٰ خان نے عمران خان کے حوالے سے مزید بتایا کہ ’سارا دن کمرے میں بند رکھا جاتا ہے اور کچھ وقت کے لیے ہی باہر جانے کی اجازت ملتی ہے جبکہ کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔‘
اس ملاقات کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عمران خان کی ایک بہن نے مختصر وقت کے لیے ان سے ملاقات کی۔ اپنی پریس ٹاک میں انہوں نے کہا کہ وہ دونوں پر کیے جانے والے ذہنی تشدد پر شدید برہم تھے۔‘
زلفی بخاری نے کہا ہے کہ ’صرف معمول کی ملاقات کرانے کے لیے ہزاروں افراد کو سڑکوں پر آنا پڑتا ہے، اور صرف ایک بہن کو پورے ایک ماہ بعد ان سے ملنے دینے کے لیے سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں۔
’یہ بھی یاد رہے کہ ہمیں ہفتے میں چند ملاقاتوں کی اجازت ہوتی ہے، اور یہ اجازت بھی صرف ایک بہن کے لیے نہیں بلکہ ان کی لیگل ٹیم اور خاندان کے لیے بھی ہوتی ہے۔‘
اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ منگل کو عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت مل گئی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما و وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی بہن ’ڈاکٹر عظمیٰ خان کو عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت مل گئی ہے۔‘
تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا انہیں واقعی ملنے دیا جاتا ہے یا نہیں۔‘
پی ٹی آئی نے منگل کو اپنے تمام پارلیمنٹرینز کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور اس کے بعد راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی کال دی تھی۔
اسی تناظر میں جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ عمران خان کے بیٹے نے اپنے والد کی صحت اور تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر بڑی تعداد میں اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ احتجاج میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے حکومت کے خلاف اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔ دوسری جانب شاہراہِ دستور پر بھی مظاہرین نے احتجاج کیا۔ تاہم سہ پہر کو یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج ختم ہو گیا۔
پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد ہائی کورٹ کے باہر تعینات تھی اور عدالت کے اطراف خاردار تاریں بھی لگائی گئی تھیں۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان لگ بھگ دن 12 بجے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج میں پہنچے اور اس موقعے پر وہاں موجود پی ٹی آئی کے کچھ حامیوں نے ’آزادی‘ عمران خان کے حق میں نعرے لگائے۔
گذشتہ ہفتے سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی اور ان کی صحت سے متعلق خبروں کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت سراپا احتجاج ہے اور وہ عمران خان جلد از جلد ملاقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
عمران خان سے ملاقات کی اجازت ہی کے لیے وزیراعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش کی تھی جبکہ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایک درخواست بھی عدالت میں جمع کروائی۔
سہیل آفریدی نے گذشتہ اتوار کو کہا تھا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے تمام پارلیمنٹیرین منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاج کریں گے اور عمران خان سے یک جہتی کا اظہار کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اس احتجاج میں صرف اراکین اسمبلی سے شامل ہوں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں سزا سنائی گئی جنہیں ان کے حامی وسیع طور پر سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات قرار دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما مسلسل جیل میں ان کی صحت اور قانونی مشیروں اور خاندان تک محدود رسائی پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب حکومت میں شامل عہدیداروں اور اڈیالہ جیل کے حکام کہہ چکے ہیں کہ نہ تو بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے منتقلی اور نہ ہی ان کی صحت کی خرابی کی خبروں میں کسی طرح کی صداقت ہے۔
عمران خان کی صحت سے متعلق ان کے بیٹے کے خدشات
سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی اپنے والد کی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام اس سے کچھ چھپا رہے ہیں کیونکہ تین ہفتوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے معلوم ہو کہ وہ زندہ ہیں۔
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ہفتہ وار ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی قابلِ تصدیق رابطہ ہوا ہے۔
قاسم نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ’یہ نہ جاننا کہ آپ کے والد محفوظ ہیں، زخمی ہیں یا زندہ بھی ہیں یا نہیں — ذہنی اذیت کی ایک شکل ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ کئی ماہ سے کوئی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ رابطہ نہیں ہوا۔ ’آج ہمارے پاس ان کی حالت کے بارے میں بالکل کوئی قابلِ تصدیق معلومات موجود نہیں۔ ہمارا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ ہم سے کوئی ناقابلِ واپسی بات چھپائی جا رہی ہے۔‘
جیل حکام کہہ چکے ہیں کہ عمران خان صحت مند ہیں۔