وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اتوار کو پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آئندہ منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے گا اور اس کے بعد عمران خان کی بہنوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے اظہار کے لیے اڈیالہ جیل جائیں گے۔‘
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں سزا سنائی گئی جنہیں ان کے حامی وسیع طور پر سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے مقدمات قرار دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما مسلسل جیل میں ان کی صحت اور قانونی مشیروں اور خاندان تک محدود رسائی پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکن صوابی میں احتجاج کریں گے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج میں پارلیمینٹیرینز شرکت کریں گے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ گذشتہ روز انہوں نے دو منٹ کے لیے عمران خان سے ملنے کی درخواست کی تھی، جسے پورا نہیں کیا گیا۔
’بد قسمتی سے ہمیں پوری رات بٹھانے کے بعد بھی ملنے نہیں دیا گیا اور اسی سلسلے میں ہم نے منگل (2 دسمبر) کو احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔‘
سہیل افریدی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے چار دسمبر کو این ایف سی اجلاس میں شرکت کی جائے گی، جس میں وہ صوبے کا مقدمہ لڑیں گے۔
’ہمارے قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں شامل کیا گیا لیکن اس کا حصہ نہیں دیا جا رہا۔‘
انہوں نے کہا کہ آئینی اور قانونی طریقے سے 2018 سے 2025 تک این ایف سی کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔‘
سلہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک این ایف سی کی مد میں سات سالوں میں 1350 ارب روپے وفاقی حکومت ہمیں نہیں دیے جبکہ بجلی کے خالص منافع کی مد میں رقم الگ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
این ایف سی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ صوبے کی یونیورسٹیوں میں این ایف سی پر سیمینار منعقد کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو اس بات کا علم ہوں کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبملی میں تمام سیاسی جماعتوں کو این ایف سی پر اعتماد میں لیا جائے گا کیونکہ یہ صرف ہمارا نہیں بلکہ تمام کا حق ہے۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ ’میرے خلاف یہ بیانیہ بنایا گیا تھا کہ میں انتشاری سیاست کروں گا لیکن ایسا نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا احتجاج پر امن ہو گا کیونکہ یہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ زیادتی ہے کہ ان کو پارٹی رہنما سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔‘
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی سے متعلق سوال کے جواب میں انوہں نے کہا کہ ’بند کمروں کے فیصلوں نے ہمیشہ خیبر پختونخوا کا نقصان پہنچایا ہے اور جو ہم کہہ رہے ہیں تو اس سے امن بحال ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت اور سٹیک ہولڈرز سے بیٹھ کر امن کی بحالی کے لیے پلان بنائے۔
رواں ہفتے پاکستان میں عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی اور صحت سے متعلق افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، جنہیں انڈین میڈیا نے خاص طور پر اجاگر کرتے ہوئے جیل میں ان کی مبینہ موت کی خبریں بھی شائع کیں، تاہم جیل حکام نے ان افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم ’اڈیالہ جیل میں موجود‘ اور ’مکمل طور پر صحت یاب‘ ہیں۔
اسی سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے عمران خان کی بہن علیمہ خان سے خصوصی گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ انہیں اڈیالہ جیل سے ملنے والی معلومات پر یقین نہیں۔
علیمہ خان کے مطابق انہیں آج تک جیل کے اندر سے کوئی اطلاعات نہیں ملیں۔ ’ہم اگر جائیں گے تو کچھ پتہ چلے گا۔ اگر یہ کچھ بتائیں گے بھی، تو ہمیں یقین نہیں ہے۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آتی کہ اتنا تماشا لگا ہے تو اتنا تو کر سکتے تھے کہ اجازت دے دیتے۔‘