امریکہ کے محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ ایران کی ایما پر دو سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم امریکی سیاست دانوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرنے پر جمعے کو پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 47 سالہ پاکستانی بزنس مین آصف مرچنٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے 2020 میں واشنگٹن کی جانب سے ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے بدلے میں ٹرمپ اور دیگر شخصیات کو نشانہ بنانے کے منصوبے کے تحت امریکہ میں لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی۔
وفاقی پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ 2024 کے اس منصوبے کے اہداف میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن اور نکی ہیلی بھی شامل تھیں، جنہوں نے اس سال رپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے خلاف انتخاب لڑا۔
محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ آصف مرچنٹ کو ایرانی حکام کی ہدایت پر’پیسوں کے عوض قتل اور قومی سرحدوں سے باہر دہشت گردی کی کارروائی کرنے کی کوشش‘ کا قصوروار قرار دیا گیا۔
آصف مرچنٹ کے خلاف مقدمے کی کارروائی نیویارک شہر کے علاقے بروکلین میں گذشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی۔ آصف مرچنٹ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ اس منصوبے میں شامل ہونے کا اعتراف کیا لیکن گواہی دی کہ انہوں نے تہران میں اپنے خاندان کے تحفظ کی خاطر غیر ارادی طور پر ایسا کیا۔
آصف مرچنٹ پاکستان میں تقریباً 20 سالہ بینکاری کے کیریئر کے بعد مختلف کاروباروں میں شامل ہوئے، جن میں کپڑے، گاڑیاں، کیلے کی برآمد اور انسولیشن کی درآمد شامل ہے۔
ان کے دو خاندان ہیں، ایک پاکستان میں اور دوسرا ایران میں، جہاں ان کے مطابق انہیں 2022 کے آخر میں پاسداران انقلاب کے ایک انٹیلی جنس اہلکار سے متعارف کروایا گیا۔
آصف مرچنٹ کا کہنا تھا کہ انہیں کبھی کسی مخصوص شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا لیکن ان کے ایرانی ہینڈلر نے ایرانی دارالحکومت میں بات چیت کے دوران تین لوگوں کے نام لیے تھے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کسی بھی حملے سے قبل ہی اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ محکمہ انصاف نے بتایا کہ اپریل 2024 میں آصف مرچنٹ نے جس شخص سے اس منصوبے میں مدد کے لیے رابطہ کیا تھا، انہوں نے ان کی سرگرمیوں کی اطلاع دی اور ایک خفیہ مخبر بن گئے۔ آصف مرچنٹ کو اسی سال گرفتار کر لیا گیا اور انہوں نے جرم سے انکار کیا۔
پاسداران انقلاب کا ایران میں ایک مرکزی کردار ہے، جس میں فوجی اور اقتصادی طاقت کے ساتھ ساتھ ایک انٹیلی جنس نیٹ ورک بھی شامل ہے۔ تہران نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس نے ٹرمپ یا دیگر امریکی حکام کو نشانہ بنایا۔
اے ایف پی کے مطابق بروکلین کی وفاقی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے ثابت کیا کہ آصف رضا مرچنٹ نے مبینہ طور پر امریکہ میں کسی سیاست دان یا سرکاری عہدے دار کو قتل کرنے کے لیے ایک اجرتی قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ایران کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں کے سربراہ قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ ایرانی حکام نے بارہا ان کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔
بدھ کو اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران آصف مرچنٹ نے گواہی دی کہ وہ ایرانی دارالحکومت تہران میں پاسداران انقلاب سے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے اس منصوبے میں شامل ہونے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال تھا کہ کسی کے مارے جانے سے پہلے ہی وہ پکڑے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں کبھی کسی مخصوص شخص کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا لیکن انہوں نے بتایا کہ ان کے ایرانی رابطہ کار نے اس منصوبے کے سلسلے میں تین لوگوں کا ذکر کیا تھا، صدر ٹرمپ، سابق صدر جو بائیڈن اور اقوام متحدہ میں سابق سفیر نکی ہیلی۔
پراسیکیوٹرز کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ آصف مرچنٹ کو ان دونوں الزامات یعنی بین الاقوامی دہشت گردی اور پیسوں کے عوض قتل میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد آئندہ کسی غیر طے شدہ تاریخ پر سزا سنائی جائے گی۔ انہیں عمر قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی حکام نے اس سے قبل کہا تھا کہ آصف مرچنٹ کے’ایران کے ساتھ قریبی تعلقات‘ ہیں اور اس کے مبینہ منصوبے کو ’براہ راست ایرانی حکومت کی حکمت عملی‘ قرار دیا تھا۔
آصف مرچنٹ کو 12 جولائی 2024 کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ملک چھوڑنے کا ارادہ کر رہے تھے۔ ان پر ستمبر 2024 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
یہ مقدمہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے، جب 28 فروری سے ایران پر امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر ایرانی عہدیداروں کی اموات ہوئیں۔ ٹرمپ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’میں نے انہیں پہلے قتل کر دیا قبل اس کے کہ وہ مجھے قتل کریں۔‘
آصف مرچنٹ پر الزامات کی تفصیل
امریکی محکمہ انصاف کی چھ اگست 2024 کو جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق بروکلین میں 46 سالہ آصف مرچنٹ عرف آصف رضا مرچنٹ پر امریکی سر زمین پر ایک سیاست دان یا امریکی سرکاری عہدے دار کو قتل کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
بیان کے مطابق امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کسی بھی حملے سے پہلے منصوبے کو ناکام بنا دیا اور اب آصف مرچنٹ وفاقی تحویل میں ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تفصیل کے مطابق: ’اپریل 2024 میں، ایران میں وقت گزارنے کے بعد، آصف مرچنٹ پاکستان سے امریکہ پہنچے اور ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ اس منصوبے میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔ اس شخص نے آصف مرچنٹ کے طرز عمل کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دی اور ایک خفیہ ذریعہ (Confidential Source) یعنی ’سی ایس‘ بن گیا۔
’جون کے اوائل میں آصف مرچنٹ نے نیویارک میں سی ایس سے ملاقات کی اور قتل کی سازش کی وضاحت کی۔ آصف مرچنٹ نے سی ایس کو بتایا کہ ان کے پاس سی ایس کے لیے جو کام تھا، وہ ایک بار کا کام نہیں تھا اور جاری رہے گا۔ اس کے بعد مرچنٹ نے اپنے ہاتھ سے ’فنگر گن‘ کا اشارہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قتل کرنے کے متعلق کام تھا۔
’آصف مرچنٹ نے مزید کہا کہ مطلوبہ متاثرین کو ’یہاں نشانہ بنایا جائے گا‘ یعنی امریکہ میں۔ انہوں نے سی ایس کو ہدایت کی کہ وہ ان افراد کے ساتھ ملاقاتوں کا انتظام کرے جن کی خدمات آصف مرچنٹ ان کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے حاصل کرسکتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’آصف مرچنٹ نے وضاحت کی کہ ان کے منصوبے میں متعدد مجرمانہ منصوبے شامل تھے: (1) ہدف کے گھر سے دستاویزات یا یو ایس بی ڈرائیوز چوری کرنا، (2) احتجاج کی منصوبہ بندی کرنا اور (3) کسی سیاست دان یا سرکاری افسر کا قتل۔
’اس ملاقات میں آصف مرچنٹ نے ممکنہ قتل کے منظرنامے کی منصوبہ بندی شروع کی اور سی ایس سے سوال کیا کہ وہ مختلف حالات میں کسی ہدف کو کیسے ماریں گے۔ خاص طور پر، آصف مرچنٹ نے سی ایس سے یہ وضاحت کرنے کے لیے کہا کہ مختلف منظرناموں میں ایک ہدف کیسے مرے گا۔ انہوں نے سی ایس کو بتایا کہ اس شخص کے ’چاروں طرف سکیورٹی ہوگی۔‘
’آصف مرچنٹ نے کہا کہ یہ قتل ان کے امریکہ چھوڑنے کے بعد ہوگا اور وہ کوڈ ورڈز کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک سے سی ایس کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ سی ایس نے پوچھا کہ کیا مرچنٹ نے اپنے ملک میں نامعلوم ’پارٹی‘ سے بات کی تھی، جس کے ساتھ وہ کام کر رہے تھے۔ آصف مرچنٹ نے جواب دیا کہ انہوں نے بات کی ہے اور ملک والی پارٹی نے ان سے کہا کہ وہ منصوبے کو ’حتمی شکل‘ دیں اور امریکہ چھوڑ دیں۔
’جون کے وسط میں آصف مرچنٹ نے مبینہ قاتلوں سے ملاقات کی، جو درحقیقت نیو یارک میں امریکی قانون نافذ کرنے والے خفیہ افسران (یو سی) تھے۔ انہوں نے یوسیز کو کہا کہ وہ ان سے تین کام لینا چاہتے ہیں: دستاویزات کی چوری، سیاسی ریلیوں میں احتجاج کا انتظام کرنا اور ان کے لیے ایک ’سیاسی شخص‘ کو قتل کرنا۔ آصف مرچنٹ نے بتایا کہ ان کے امریکہ چھوڑنے کے بعد اگست کے آخری ہفتے یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں کس کو قتل کرنا ہے، اس بارے میں ہٹ مین کو ہدایات ملیں گی۔
’اس کے بعد آصف مرچنٹ نے قتل کی پیشگی ادائیگی کے طور پر یو سیز کو پیسے دینے کے لیے پانچ ہزار ڈالر نقد حاصل کرنے کے ذرائع کا انتظام کرنا شروع کیا، جو بالآخر انہیں بیرون ملک ایک فرد کی مدد سے ملے۔
’21 جون کو آصف مرچنٹ نے نیویارک میں یو سیز سے ملاقات کی اور انہیں پانچ ہزار ڈالر ایڈوانس ادا کیے۔
’آصف کی جانب سے یو سیز کو پانچ ہزار ڈالر ادا کرنے کے بعد ایک یو سی نے کہا کہ ’اب ہم پابند ہیں‘ جس پر مرچنٹ نے ’ہاں‘ میں جواب دیا۔ اس کے بعد یو سی نے کہا کہ ’اب ہم جانتے ہیں کہ ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ ہم یہ کریں گے، جس پر مرچنٹ نے جواب دیا ’ہاں، بالکل۔‘
’مرچنٹ نے اس کے بعد جہاز کے انتظامات کیے اور جمعہ 12 جولائی 2024 کو امریکہ چھوڑنے کا ارادہ کیا۔ 12 جولائی کو قانون نافذ کرنے والے ایجنٹوں نے مرچنٹ کو ملک چھوڑنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔‘