پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے بدھ کو کہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اب ایک پرامن احتجاجی تحریک نہیں رہی بلکہ ایک ’مسلح جتھہ‘ بن چکی ہے، جس کے ارکان نے راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے کیے اور جدید ہتھیار استعمال کیے۔
کشمیر پولیس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے اور اس کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی جاری ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ابتدا میں بجلی کے نرخوں، ٹیکسوں اور دیگر عوامی مسائل پر احتجاج کرنے والی مختلف تنظیموں کے اتحاد کے طور پر سامنے آئی تھی۔
بعد ازاں حکومت نے تنظیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر ریاستی اداروں کے خلاف پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔ راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں حالیہ جھڑپوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
حالیہ جھڑپوں کے بعد حکام کالعدم ایکشن کمیٹی پر ریاستی اداروں کے خلاف مسلح کارروائیوں اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس کے متعدد کارکنان کے ’مارے جانے‘ کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان ایس ایس پی خاور علی شوکت نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ راولاکوٹ میں سکیورٹی اہلکاروں پر تشدد اور حملوں کے حالیہ واقعات سے واضح ہو گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا پرامن تحریک کا بیانیہ حقائق کے برعکس ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں نے ہمیشہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا، تاہم جب ’مسلح افراد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ آور ہوں تو ان کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔‘
پولیس کے مطابق گذشتہ دو روز کے دوران مختلف مقامات پر مسلح افراد نے ’عمارتوں میں مورچے قائم کر کے جدید ہتھیاروں سے پولیس اور سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک رینجرز اہلکار جان سے گیا جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تقریباً 15 اہلکار زخمی ہوئے۔‘
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے پرتشدد واقعات میں ملوث متعدد ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن کے قبضے سے بھاری اسلحہ، جس میں ایک امریکی ساختہ خودکار ہتھیار بھی شامل ہے، برآمد کیا گیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر شیئر کی جانی والی ویڈیوز میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور پولیس میں جھڑپوں کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ان کے مظاہرین پر فائرنگ میں حالیہ دنوں میں 15 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں تاہم نہ تو کشمیر کی حکومت اور نہ ہی پولیس کی طرف اس کی کوئی تصدیق کی جا سکی ہے۔
احتجاج کے باوجود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا پہلا مرحلہ 27 جولائی کو ہوا جس میں میرپور، کوٹلی اور بھمبر ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہوئی۔
آئندہ دو مراحل میں مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر ووٹنگ 2 اگست کو کرائی جائے گی جبکہ پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو ہو گی۔