امریکہ میں گرفتار پاکستانی بزنس مین آصف مرچنٹ نے بدھ کو جیوری کو بتایا کہ انہوں نے ایرانی نیم فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کے لیے ایک امریکی سیاست دان کو قتل کرنے کی غرض سے ایک اجرتی قاتل (ہٹ مین) کو بھرتی کرکے 5 ہزار ڈالر نقد رقم دینے کی کوشش کی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیویارک کی عدالت میں دہشت گردی کے مقدمے کا سامنا کرنے والے آصف مرچنٹ نے جیوری کو بتایا کہ 2024 کے اس منصوبے کے ممکنہ ہدف میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اس وقت کے صدر جو بائیڈن اور سابق صدارتی امیدوار اور اقوام متحدہ میں سابق امریکی سفیر نکی ہیلی شامل تھیں۔
تاہم انہوں نے زور دیا کہ انہوں نے یہ کام اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت کے خوف کی وجہ سے کیا اور انہیں لگتا تھا کہ منصوبے پر عملدرآمد سے پہلے ہی وہ گرفتار ہو جائیں گے۔
ملزم آصف مرچنٹ نے اردو مترجم کے ذریعے گواہی دیتے ہوئے کہا: ’میری فیملی کو خطرہ تھا، اور مجھے یہ کرنا پڑا۔ میں یہ کام رضاکارانہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔‘
آصف مرچنٹ کے مطابق انہیں توقع تھی کہ کسی کے قتل سے پہلے ہی وہ گرفتار کر لیے جائیں گے۔ وہ امریکی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے تھے اور امید تھی کہ اس سے انہیں گرین کارڈ ملنے میں مدد ملے گی۔
امریکی حکام واقعی ان کے پیچھے تھے۔ وہ ہٹ مین جنہیں انہوں نے ادائیگی کی وہ دراصل ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹ تھے۔
آصف مرچنٹ کو 12 جولائی 2024 کو گرفتار کیا گیا، یعنی ٹرمپ کی زندگی پر ایک غیر متعلقہ حملے سے ایک دن پہلے، جو پنسلوینیا کے علاقے بٹلر میں ہونے والا تھا۔ آصف مرچنٹ نے رضاکارانہ ایف بی آئی انٹرویوز دیے، لیکن آخرکار انہیں تعاون کے معاہدے کے بجائے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔
بروکلین کی وفاقی عدالت میں بدھ کو آصف مرچنٹ سے سوالات پوچھتے ہوئے اسسٹنٹ امریکی وکیل نینا گپتا نے کہا: ’آپ امریکہ آئے تاکہ مافیا کے افراد کو ایک سیاست دان کو قتل کرنے کے لیے بھرتی کریں، کیا یہ درست ہے؟‘
جس پر آصف مرچنٹ نے جواب دیا: ’جی، یہ درست ہے۔‘ ان کے رویے میں وہی غیر معمولی سنجیدگی تھی جو ان کی گواہی کے دوران نظر آئی۔
یہ مقدمہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے، جب 28 فروری سے ایران پر امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر ایرانی عہدیداروں کی اموات ہوئیں۔ ٹرمپ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ’میں نے انہیں پہلے قتل کر دیا قبل اس کے کہ وہ مجھے قتل کریں۔‘
تاہم جیوری کو ہدایت دی گئی کہ وہ مقدمے سے متعلق خبروں کو نظرانداز کریں۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے ٹرمپ یا دیگر امریکی حکام کو قتل کرنے کے کسی منصوبے کی تردید کی ہے۔
47 سالہ آصف مرچنٹ پاکستان میں تقریباً 20 سالہ بینکاری کے کیریئر کے بعد مختلف کاروباروں میں شامل ہوئے، جن میں کپڑے، گاڑیاں، کیلے کی برآمد اور انسولیشن کی درآمد شامل ہے۔
ان کے دو خاندان ہیں، ایک پاکستان میں اور دوسرا ایران میں، جہاں ان کے مطابق انہیں 2022 کے آخر میں پاسداران انقلاب کے ایک انٹیلی جنس اہلکار سے متعارف کروایا گیا۔ ابتدا میں انہوں نے رقم کی منتقلی کے غیر رسمی نظام حوالہ میں شامل ہونے کی بات کی۔
آصف مرچنٹ نے بتایا کہ امریکہ میں ان کے گارمنٹس کے کاروبار کے لیے وقفے وقفے سے ہونے والے سفر نے پاسداران انقلاب کے مذکورہ عہدیدار کی توجہ حاصل کی، جس نے انہیں کاؤنٹر سرویلنس تکنیکوں کی تربیت دی۔
امریکہ پاسداران انقلاب کو ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیتا ہے، جس کا رسمی نام سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی ہے اور یہ فوج آیت اللہ خامنہ ای کے دور میں ایران میں نمایاں رہی ہے۔
آصف مرچنٹ نے بتایا کہ ان کے ہینڈلر نے کہا کہ امریکہ میں ایسے لوگ تلاش کریں، جو ایران کے لیے کام کرنے کے خواہاں ہوں۔ پھر ایک اور کام آیا: کسی مجرم کو تلاش کریں جو کہ مظاہرے کروائے، چوری کرے، منی لانڈرنگ کرے اور شاید کسی کا قتل بھی کروائے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے جیوری کو بتایا: ’اس نے مجھے درست نام نہیں بتایا، لیکن تین افراد کے نام لیے: ڈونلڈ ٹرمپ، جو بائیڈن اور نکی ہیلی۔‘
جب امریکی امیگریشن کے ایجنٹس نے اپریل 2024 میں آصف مرچنٹ کو ہوسٹن ایئرپورٹ پر روکا، ان کی اشیا کی تلاشی لی اور ایران کے سفر کے بارے میں سوالات کیے، تو انہیں لگا کہ وہ نگرانی میں ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ٹرمپ کی ریلی کے مقامات کی تحقیق کی، سیاسی ریلی میں فائرنگ کے منصوبے کا خاکہ بنایا، ہٹ مین کی خدمات حاصل کیں اور 5,000 ڈالر، جو انہوں نے اپنے کزن سے جمع کیے تھے، ادا کیے۔
انہوں پاسداران انقلاب میں اس عہدیدار کو بھی رپورٹ بھیجی، جن سے وہ رابطے میں تھے۔ آصف مرچنٹ کے مطابق یہ مشاہدات جعلی تھے، جنہیں انہوں نے ایک کتاب میں چھپایا اور ایران بھیج دیا۔
آصف مرچنٹ نے کہا کہ اس کے پاس ہینڈلر کے دباؤ کے باعث اور کوئی چارہ نہیں تھا، کیونکہ ہینڈلر جانتا تھا کہ ان کے ایرانی رشتہ دار کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں۔
مجرمانہ مقدمہ دائر کرنے والے وکلا نے کہا کہ آصف مرچنٹ نے گرفتار ہونے سے پہلے اپنے مبینہ مسئلے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع نہیں کیا۔ جبکہ آصف مرچنٹ نے کہا کہ وہ حکام سے رجوع نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ہینڈلر کے لوگ اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
وکلا نے مزید کہا کہ ایف بی آئی کے انٹرویوز میں آصف مرچنٹ نے ’کوئی ایسے حقائق نہیں بتائے جو یہ ثابت کر سکیں کہ انہوں نے دباؤ کے تحت یہ عمل کیا۔‘
آصف مرچنٹ نے بدھ کو جیوری کو بتایا کہ انہیں نہیں لگا کہ ایف بی آئی ایجنٹس ان کی کہانی پر یقین کریں گے، کیونکہ ان کے سوالات سے لگتا تھا کہ ’وہ سوچتے ہیں کہ میں کسی قسم کا سپر سپائی ہوں۔‘
اس پر وکیل اویراہم موسکووٹز نے پوچھا: ’کیا آپ سپر سپائی ہیں؟‘ جس پر آصف مرچنٹ نے جواب دیا: ’نہیں، بالکل نہیں۔‘
آصف مرچنٹ پر الزامات کی تفصیل
امریکی محکمہ انصاف کی چھ اگست 2024 کو جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق بروکلین میں 46 سالہ آصف مرچنٹ عرف آصف رضا مرچنٹ پر امریکی سر زمین پر ایک سیاست دان یا امریکی سرکاری عہدے دار کو قتل کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
بیان کے مطابق امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کسی بھی حملے سے پہلے منصوبے کو ناکام بنا دیا اور اب آصف مرچنٹ وفاقی تحویل میں ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی تفصیل کے مطابق: ’اپریل 2024 میں، ایران میں وقت گزارنے کے بعد، آصف مرچنٹ پاکستان سے امریکہ پہنچے اور ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ اس منصوبے میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔ اس شخص نے آصف مرچنٹ کے طرز عمل کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دی اور ایک خفیہ ذریعہ (Confidential Source) یعنی ’سی ایس‘ بن گیا۔
’جون کے اوائل میں آصف مرچنٹ نے نیویارک میں سی ایس سے ملاقات کی اور قتل کی سازش کی وضاحت کی۔ آصف مرچنٹ نے سی ایس کو بتایا کہ ان کے پاس سی ایس کے لیے جو کام تھا، وہ ایک بار کا کام نہیں تھا اور جاری رہے گا۔ اس کے بعد مرچنٹ نے اپنے ہاتھ سے ’فنگر گن‘ کا اشارہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قتل کرنے کے متعلق کام تھا۔
’آصف مرچنٹ نے مزید کہا کہ مطلوبہ متاثرین کو ’یہاں نشانہ بنایا جائے گا‘ یعنی امریکہ میں۔ انہوں نے سی ایس کو ہدایت کی کہ وہ ان افراد کے ساتھ ملاقاتوں کا انتظام کرے جن کی خدمات آصف مرچنٹ ان کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے حاصل کرسکتے ہیں۔
’آصف مرچنٹ نے وضاحت کی کہ ان کے منصوبے میں متعدد مجرمانہ منصوبے شامل تھے: (1) ہدف کے گھر سے دستاویزات یا یو ایس بی ڈرائیوز چوری کرنا، (2) احتجاج کی منصوبہ بندی کرنا اور (3) کسی سیاست دان یا سرکاری افسر کا قتل۔
’اس ملاقات میں آصف مرچنٹ نے ممکنہ قتل کے منظرنامے کی منصوبہ بندی شروع کی اور سی ایس سے سوال کیا کہ وہ مختلف حالات میں کسی ہدف کو کیسے ماریں گے۔ خاص طور پر، آصف مرچنٹ نے سی ایس سے یہ وضاحت کرنے کے لیے کہا کہ مختلف منظرناموں میں ایک ہدف کیسے مرے گا۔ انہوں نے سی ایس کو بتایا کہ اس شخص کے ’چاروں طرف سکیورٹی ہوگی۔‘
’آصف مرچنٹ نے کہا کہ یہ قتل ان کے امریکہ چھوڑنے کے بعد ہوگا اور وہ کوڈ ورڈز کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک سے سی ایس کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ سی ایس نے پوچھا کہ کیا مرچنٹ نے اپنے ملک میں نامعلوم ’پارٹی‘ سے بات کی تھی، جس کے ساتھ وہ کام کر رہے تھے۔ آصف مرچنٹ نے جواب دیا کہ انہوں نے بات کی ہے اور ملک والی پارٹی نے ان سے کہا کہ وہ منصوبے کو ’حتمی شکل‘ دیں اور امریکہ چھوڑ دیں۔
’جون کے وسط میں آصف مرچنٹ نے مبینہ قاتلوں سے ملاقات کی، جو درحقیقت نیو یارک میں امریکی قانون نافذ کرنے والے خفیہ افسران (یو سی) تھے۔ انہوں نے یوسیز کو کہا کہ وہ ان سے تین کام لینا چاہتے ہیں: دستاویزات کی چوری، سیاسی ریلیوں میں احتجاج کا انتظام کرنا اور ان کے لیے ایک ’سیاسی شخص‘ کو قتل کرنا۔ آصف مرچنٹ نے بتایا کہ ان کے امریکہ چھوڑنے کے بعد اگست کے آخری ہفتے یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں کس کو قتل کرنا ہے، اس بارے میں ہٹ مین کو ہدایات ملیں گی۔
’اس کے بعد آصف مرچنٹ نے قتل کی پیشگی ادائیگی کے طور پر یو سیز کو پیسے دینے کے لیے پانچ ہزار ڈالر نقد حاصل کرنے کے ذرائع کا انتظام کرنا شروع کیا، جو بالآخر انہیں بیرون ملک ایک فرد کی مدد سے ملے۔
’21 جون کو آصف مرچنٹ نے نیویارک میں یو سیز سے ملاقات کی اور انہیں پانچ ہزار ڈالر ایڈوانس ادا کیے۔
’آصف کی جانب سے یو سیز کو پانچ ہزار ڈالر ادا کرنے کے بعد ایک یو سی نے کہا کہ ’اب ہم پابند ہیں‘ جس پر مرچنٹ نے ’ہاں‘ میں جواب دیا۔ اس کے بعد یو سی نے کہا کہ ’اب ہم جانتے ہیں کہ ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ ہم یہ کریں گے، جس پر مرچنٹ نے جواب دیا ’ہاں، بالکل۔‘
’مرچنٹ نے اس کے بعد جہاز کے انتظامات کیے اور جمعہ 12 جولائی 2024 کو امریکہ چھوڑنے کا ارادہ کیا۔ 12 جولائی کو قانون نافذ کرنے والے ایجنٹوں نے مرچنٹ کو ملک چھوڑنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا۔‘