مظفرآباد میں خاموشی: لانگ مارچ کے دن شہر میں کیا دیکھا؟

انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے نو جون کو اسلام آباد سے مظفرآباد کا سفر کیا تاکہ ہاں کی صورت حال کو دیکھا جا سکے اور وہاں موجود شہریوں اور حکام سے بات کی جا سکے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو بھمبر سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کی کال کے پیش نظر علاقے میں سکیورٹی سخت تھی اور متعدد مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے۔

انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے بھی اسلام آباد سے مظفرآباد کا سفر کیا تاکہ ہاں کی صورت حال کو دیکھا جا سکے اور وہاں موجود شہریوں اور حکام سے بات کی جا سکے۔

راستے میں ہی سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دکھائی دینے لگے۔ مختلف مقامات پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی معمول سے کہیں زیادہ تھی۔

کوہالہ پولیس چوکی پر ہماری گاڑی کو روکا گیا۔ وہاں موجود اہلکاروں نے تفصیلات درج کیں اور سفر کے مقصد کے بارے میں دریافت کیا۔

بعد ازاں انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا، جس کے بعد ہمیں کوہالہ چیک پوسٹ سے آگے جانے کی اجازت دی گئی۔

مظفرآباد میں داخل ہوتے ہی ایک اور چیک پوسٹ پر مقامی انتظامیہ کے حکام نے ہماری ٹیم سے ملاقات کی۔ ہمیں شہر کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور بعض علاقوں تک رسائی کے حوالے سے آگاہ کیا۔

شہر کے اندر جو منظر دکھائی دیا وہ غیر معمولی تھا۔ بیشتر تجارتی مراکز بند تھے۔ دکانیں، بینک اور کاروباری مراکز ویرانی کا منظر پیش کر رہے تھے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم دکھائی دی۔

کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل تھی۔ تاہم سرکاری دفاتر کھلے تھے اور ہاں سرگرمیاں جاری تھیں۔

مظفرآباد کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر راشد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اس تاثر کی تردید کی کہ شہر کی طرف بڑے قافلے بڑھ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’قافلوں کی بات تو دور، دارالحکومت میں صورت حال معمول کے مطابق ہے۔‘

رپورٹنگ کے دوران سب سے بڑی مشکل انٹرنیٹ کی بندش ثابت ہوئی۔ موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروسز معطل ہونے کی وجہ سے دفتر سے رابطے، ویڈیوز کی ترسیل اور معلومات کی تصدیق میں دشواری پیش آئی۔

انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہمیں دیول جانا پڑا، جہاں ہمارے ڈرائیور قمر حفیظ ملک کے رشتہ دار کے گھر سے محدود رابطہ ممکن ہو سکا۔

انٹرنیٹ کی بحالی کے بارے میں سوال پر اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’ڈیویلپنگ سچویشن‘ ہے اور سروسز کی بحالی کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔

رات تقریباً 10 بجے تک شہر کا دورہ کرنے کے بعد بھی بڑے پیمانے پر کسی احتجاج یا ہنگامی صورت حال کے آثار نظر نہیں آئے۔

تاہم سکیورٹی فورسز کی نمایاں موجودگی، متعدد چیک پوسٹیں اور بند بازار اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ انتظامیہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا اور تنظیم نے مہاجرین کے لیے مختص 12 اسمبلی نشستوں سمیت مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک جاری رکھی۔

اس سیاسی تنازع کے مرکز میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی وہ 12 نشستیں ہیں جو پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں مقامی نمائندگی کو متاثر کرتی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ بعض مطالبات آئینی نوعیت کے ہیں جن کا حل صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ممکن ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے اپنی مشاورتی رائے میں قرار دیا تھا کہ مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی انتظامی یا حکومتی فیصلے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اس دوران مختلف علاقوں سے سکیورٹی فورسز اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جبکہ پولیس کے مطابق ان واقعات میں اہلکاروں سمیت متعدد اموات ہوئی ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ مسلح عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے اور بدامنی پیدا کی، جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے مطالبات سیاسی اور معاشی نوعیت کے ہیں اور گرفتاریوں، انٹرنیٹ بندش اور طاقت کے استعمال کے ذریعے ایک عوامی حقوق کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ احتجاج کرنے والے لوگ ریاست کے اپنے شہری ہیں اور انہیں غدار یا ایجنٹ قرار دینا درست نہیں۔

ان کے مطابق موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات میں ہے اور احتجاجی قیادت کو دوبارہ بات چیت کی میز پر آنا چاہیے۔

مظفرآباد کی سڑکوں پر اگرچہ اس روز کوئی بڑا احتجاج نظر نہیں آیا، لیکن بند مارکیٹیں، متعدد چیک پوسٹیں، سکیورٹی اداروں کی نمایاں موجودگی، انٹرنیٹ کی معطلی اور سیاسی بے یقینی اس بات کی نشاندہی کر رہی تھیں کہ خطہ ایک ایسے بحران سے گزر رہا ہے جس کے اثرات روزمرہ زندگی پر واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

شہر بظاہر پرسکون تھا، مگر لوگوں میں یہ سوال نمایاں تھا کہ ایک سیاسی احتجاج آخر اتنی بڑی کشیدگی میں کیسے تبدیل ہو گیا؟

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان