ایران کو ’انتہائی شدت‘ سے نشانہ بنائیں گے: صدر ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے تین دنوں میں 42 ایرانی بحری جہاز تباہ کر دیے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ آٹھویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔


جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال —  چوتھے دن کا احوال  —  پانچویں دن کا احوال —  چھٹے دن کا احوال  —  ساتویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں


رات 11 بج کر 40 منٹ: ان پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنائیں گے جن کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہو گی: ترجمان ایرانی فوج


رات نو بج کر 10 منٹ: یو اے ای آسان شکار نہیں: صدر محمد زاید آل نہیان

متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظبی کے حکمران محمد زاید آل نہیان نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک جنگ کی حالت میں لیکن خیریت سے ہے اور اس نے اپنے دشمنوں کو پیغام دیا ہے کہ یہ آسان شکار نہیں۔

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے خلیجی پڑوسی ملکوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد ان کا پہلا عوامی بیان سامنے آیا ہے۔

انہوں نے جمعے کو ان حملوں میں زخمی ہونے والوں سے ملاقات کے دوران کہا ’متحدہ عرب امارات کے پاس موٹی کھال اور کڑوا گوشت ہے، ہم آسان شکار نہیں ہیں۔‘

ان کا یہ بیان آج ابوظبی ٹی وی پر نشر کیا گیا۔ ’ہم اپنے ملک، اپنے عوام اور اپنے رہائشیوں کے لیے اپنا فرض انجام دیں گے، جو بھی ہمارے خاندان کا حصہ ہیں۔‘

انہوں نے کہا متحدہ عرب امارات، جو سات امارات پر مشتمل ہے اور جن میں دبئی بھی شامل ہے، ہر کسی کی حفاظت کرے گا۔ روئٹرز


رات آٹھ بجے: تین دن میں 42 ایرانی بحری جہاز ڈبو دیے: ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ امریکہ نے تین دنوں میں 42 ایرانی بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں۔


شام چھ بجے: ’ایران کو شدت سے نشانہ بنائیں گے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو ہفتے کے روز ’شدت کے ساتھ‘ نشانہ بنایا جائے گا اور وہ علاقوں اور گروہوں کو ہدف بنانے کے دائرے کو وسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ’آج ایران کو شدت کے ساتھ نشانہ بنایا جائے گا! ایران کے برے رویے کی وجہ سے مکمل تباہی اور یقینی موت کے لیے ان علاقوں اور گروہوں کو بھی سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جا رہا ہے جنہیں اس وقت تک ہدف بنانے کے لیے نہیں سوچا گیا تھا۔’

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے اپنے پڑوسی ممالک پر حملوں کے بعد ان سے معذرت کر لی ہے، جسے انہوں نے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔ روئٹرز


چار بج کر 55 منٹ: آج اپنی حدود میں 15 میزائل، 119 ڈرون مار گرائے: یو اے ای

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کہا ہے کہ اس نے ہفتے کو اپنی حدود میں 15 بیلسٹک میزائل اور 119 ڈرون مار گرائے ہیں۔

یو اے ای کی وزارت دفاع نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 16 بیلسٹک میزائلوں کا پتہ لگایا جن میں سے 15 کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک بیلسٹک میزائل سمندر میں جا گرا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فضائی دفاعی نظام نے 121 بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے ویز) کا بھی پتہ لگایا جن میں سے 119 کو مار گرایا گیا جبکہ دو یو اے ای کی حدود کے اندر گر گئے۔

وزارت دفاع کے مطابق ’ایرانی جارحیت کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 221 بیلسٹک میزائلوں کا پتہ لگایا گیا جن میں سے 205 کو تباہ کر دیا گیا، 14 سمندر میں گرے جبکہ دو میزائل یو اے ای کی سرزمین پر آ کر گرے۔

’اسی طرح مجموعی طور پر 1,305 ایرانی ڈرونز کا پتہ لگایا گیا جن میں سے 1,229 کو تباہ کر دیا گیا جبکہ 76 ڈرون یو اے ای کے اندر گر گئے۔ اس دوران آٹھ کروز میزائلوں کا بھی پتہ لگایا گیا جنہیں تباہ کر دیا گیا۔

’ان حملوں کے نتیجے میں ایک پاکستانی، ایک نیپالی اور ایک بنگلہ دیشی شہری سمیت تین افراد مارے گئے جبکہ 112 افراد معمولی زخمی ہوئے۔

’زخمی ہونے والوں میں اماراتی، مصری، ایتھوپیائی، فلپائنی، پاکستانی، ایرانی، انڈین، بنگلہ دیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈا، اریٹریا، لبنانی، افغان، بحرینی، کوموروس اور ترک شہری شامل ہیں۔‘

وزارت دفاع نے مزید کہا کہ وہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ریاست کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا مضبوطی سے مقابلہ کرے گی تاکہ ملک کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور اس کے قومی مفادات اور صلاحیتوں کی حفاظت کی جا سکے۔


چار بجے: دبئی ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ


دو بج کر 50 منٹ: فضائی دفاعی کارروائی کے بعد دبئی ایئرپورٹ پر آپریشنز عارضی معطلی کے بعد جزوی طور پر بحال

دنیا کے مصروف ترین دبئی ایئرپورٹ پر ہفتے کے روز اس وقت پروازیں روک دی گئیں جب ایران کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ حملوں کے دوران علاقے میں فضائی دفاعی نظام نے ایک ہدف کو فضا میں ہی نشانہ بنایا تاہم بعد میں ایئرپورٹ کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا۔

ایئرپورٹ حکام نے بتایا کہ سات مارچ سے دبئی انٹرنیشنل اور المکتوم انٹرنیشنل سے کچھ پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ تبھی آئیں جب ان کی ایئرلائن پرواز کی تصدیق کر دے کیونکہ فلائٹ شیڈول اب بھی تبدیل ہو رہا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے بتایا تھا کہ ایئرپورٹ کے قریب فضا میں ایک پروجیٹائل کو تباہ کیے جانے کے بعد فلائٹ آپریشنز معطل کیے گئے تھے۔

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فضا میں ایک زوردار دھماکہ سنا گیا جس کے بعد دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ان کا فضائی دفاعی نظام اس وقت ایران کی طرف سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے، تاہم انہوں نے ان حملوں کے اصل اہداف کی تفصیل نہیں بتائی۔

جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ 'فلائٹ ریڈار 24' نے دکھایا کہ طیارے ایئرپورٹ کے اوپر چکر کاٹ رہے تھے۔

مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی ایئرلائن 'ایمریٹس' نے پہلے تمام پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا لیکن بعد میں آپریشنز دوبارہ جزوی طور پر شروع کر دیے۔


دو پہر دو بجے: انڈیا نے ایرانی جنگی جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دے دی

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہفتے کو بتایا کہ ان کے ملک نے انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ایک ایرانی جنگی جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے پڑوسی ملک سری لنکا کے قریب ایران کے ایک اور بحری جہاز کو غرق کر دیا تھا۔

انڈین حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایرانی جہاز 'لاوان'  بدھ کو انڈیا کی جنوبی بندرگاہ کوچی پر لنگر انداز ہوا۔ یہ وہی دن تھا جب ایک امریکی آبدوز نے تہران کی جانب سے ہنگامی درخواست کے بعد ایرانی بحری فریگیٹ کو نشانہ بنایا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کو تباہ کرنا اس جنگ کے مقاصد میں سے ایک ہے جو انہوں نے اور اسرائیل نے ایک ہفتہ قبل ایران کے خلاف شروع کی تھی۔

وزیر خارجہ جے شنکر نے سالانہ 'رائسینا ڈائیلاگ' کی تقریب میں بتایا کہ 'لاوان' (جو امریکی نیول انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ایک ایمفی بیئس لینڈنگ ویسل ہے) اور دو دیگر جہاز ایک بحری جائزے کے لیے آ رہے تھے لیکن وہ خطے کی صورت حال کے باعث نامساعد حالات اور واقعات کی زد میں آگئے۔

انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ ہم نے قانونی معاملات سے ہٹ کر خالصتاً انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے اس معاملے کو دیکھا۔ میرا ماننا ہے کہ ہم نے صحیح قدم اٹھایا۔‘

بدھ کو سری لنکا کے خصوصی اقتصادی زون میں جزیرے کے ساحل سے 19 ناٹیکل میل دور ایرانی بحری جنگی جہاز، جو انڈیا میں بحری مشقوں میں شریک تھا، پر ہونے والے امریکی حملے میں کم از کم 87 افراد مارے گئے تھے۔

روئٹرز نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ انڈیا کو 'لاوان' کو لنگر انداز کرنے کی درخواست 28 فروری کو موصول ہوئی تھی، یہ وہی دن تھا جب ایران کی جنگ شروع ہوئی تھی۔ سرکاری ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ درخواست ’انتہائی ہنگامی‘ تھی کیونکہ جہاز میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جہاز کے 183 عملہ ارکان کو کوچی میں بحریہ کی تنصیبات میں ٹھہرایا گیا ہے۔


دن 12 بج کر 45 منٹ: پڑوسی ممالک پر اس وقت تک مزید حملے نہیں کریں گے، جب تک وہاں سے ہم پر حملہ نہ ہو: ایرانی صدر

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کو کہا ہے کہ عبوری قیادت کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران پڑوسی ممالک پر اس وقت تک حملے نہیں کرے گا جب تک ان ممالک سے ایران پر کوئی حملہ نہ ہو۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے قوم سے خطاب میں میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کو خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر سکیورٹی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انہوں نے خطے کے ممالک پر ایران کے حملوں پر معذرت بھی کی اور کہا کہ تہران ان حملوں کو روک دے گا۔ ان کے مطابق یہ حملے صفوں میں غلط فہمی کی وجہ سے ہوئے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ہفتے کی صبح ایران کی جانب سے خلیجی عرب ممالک کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اسرائیل اور امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران پر اپنے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہفتے کی صبح بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر بار بار حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ایرانی صدر کے مطابق خطے میں استحکام کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون ضروری ہے اور ایران امن اور سکیورٹی کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کا حامی ہے۔

ایران کے صدر نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ ایک ایسا ’خواب‘ ہے جسے انہیں اپنی قبر تک ساتھ لے جانا چاہیے۔

ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ایک عبوری قیادت کونسل قائم کی گئی ہے جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ریاستی امور کی نگرانی کرے گی۔


دن 12 بجے: اسرائیل اور ایران کا ایک دوسرے پر نئے حملوں کے دعوے

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کے 80 سے زائد لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز تہران اور وسطی ایران میں فوجی مقامات، میزائل لانچرز اور دیگر اہداف پر حملے کیے۔

اے ایف پی کے مطابق فوج نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے حملوں کی ایک اور لہر مکمل کرتے ہوئے ایران کی حکومت سے منسلک بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی ہفتے کو دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی فوج نے کہا کہ ان حملوں کی لہر کے تحت متحدہ عرب امارات کے المنہاد اڈے، کویت کے ایک فوجی اڈے اور اسرائیل میں ایک اہم تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)


صبح 11 بجے: آبنائے ہرمز میں امریکی فورسز کا ’انتظار‘ کر رہے ہیں: پاسداران انقلاب

ایران کے پاسداران انقلاب نے ہفتے کو کہا ہے کہ وہ ان امریکی فورسز کا ’انتظار‘ کر رہے ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے ان کے ساتھ چلیں گی۔

 خطے میں جنگ کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمد و رفت تقریباً مفلوج ہو چکی ہے۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے کہا کہ ’ہم ان کی موجودگی کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

یہ بیان امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ امریکی بحریہ آبنائے میں جہازوں کی حفاظت کے لیے ساتھ چلنے کی تیاری کر رہی ہے۔


صبح 10 بجے:  روس نے ایران کو امریکی فوج پر حملہ کرنے میں مدد دینے والی معلومات دیں: رپورٹ

 خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے امریکی انٹیلی جنس سے واقف دو عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس نے ایران کو ایسی معلومات فراہم کی ہیں جو تہران کو خطے میں امریکی جنگی جہازوں، طیاروں اور دیگر اثاثوں کو نشانہ بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ان عہدے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تاہم امریکی خفیہ اداروں کو اس قسم کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ روس ایران کو یہ ہدایات دے رہا ہے کہ ان معلومات کو استعمال کیسے کیا جائے۔

تاہم یہ اس بات کا پہلا اشارہ ہے کہ ماسکو نے اس جنگ میں شامل ہونے کی کوشش کی ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے ایک ہفتہ قبل ایران کے خلاف شروع کی تھی، جس کے ردعمل میں تہران کے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر جوابی ردعمل جاری ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نے ان خبروں کو کم اہمیت ظاہر کیا، تاہم انہوں نے اس بات کی تردید نہیں کی کہ روس خطے میں امریکی اہداف سے متعلق معلومات ایران کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ  نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ واضح طور پر ایران میں جاری فوجی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں ڈال رہا کیونکہ ہم انہیں مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں۔‘

روس ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔


صبح 9 بجے منٹ: امریکہ کی اسرائیل کو 15 کروڑ ڈالر سے زائد کے گولہ بارود کی ممکنہ فروخت کی منظوری

امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے کو بتایا کہ اس نے اسرائیل کو 15.18 کروڑ ڈالر مالیت کے گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان میں معاونت کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری کانگریس کو جائزے کے لیے پیش کیے بغیر کی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فیصلہ کیا کہ ایک ہنگامی صورت حال موجود ہے جس کے لیے اسرائیل کو فوری طور پر گولہ بارود کی فروخت درکار ہے۔

محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل نے 12,000 بی ایل یو-110 اے/بی عام مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے 1,000 پاؤنڈ کے بموں کی درخواست کی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارک روبیو نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ فروخت ’امریکہ کی قومی سلامتی کے مفادات میں‘ ہے۔

پارلیمنٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندے گریگوری میکس نے کہا کہ کانگریس کے جائزے کو نظرانداز کرنے کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کرنے کا مارک روبیو کا فیصلہ ایران پر جنگ کے لیے تیاری کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں  نے ایک بیان میں کہا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ نے بارہا اصرار کیا ہے کہ وہ اس جنگ کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ کانگریس کو نظرانداز کرنے کے لیے ہنگامی اختیارات کے استعمال میں جلد بازی ایک مختلف کہانی بیان کرتی ہے۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی اپنی پیدا کردہ ہنگامی صورت حال ہے۔‘


صبح 8 بج کر 15 منٹ: دبئی اور منامہ میں دھماکے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ہفتہ کی صبح دھماکے سنے گئے۔

دبئی میں دو اور منامہ میں ایک دھماکہ سنا گیا، جہاں خطرے کا سائرن بھی بجا۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے ایکس پر لکھا کہ ’شہریوں اور رہائشیوں سے پرسکون رہنے اور قریب ترین محفوظ مقام پر جانے کی درخواست ہے۔‘


صبح 8 بجے: عراق میں غیر ملکی تیل کی ایک تنصیب پر ڈرون حملہ

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ جنوبی عراق میں غیر ملکی توانائی کمپنیوں کی تیل کی ایک تنصیب کو جمعے کو دوسری بار ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

صوبہ بصرہ کے ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ’برجیسیا آئل کمپلیکس کے اوپر دو ڈرونز کو مار گرایا گیا، لیکن تیسرا بچ نکلا‘ اور اس نے اس جگہ کو نشانہ بنایا۔

ایک اور سکیورٹی ذریعے نے ڈرون حملے کی تصدیق کی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)


صبح 7 بج کر 30 منٹ: اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری

اسرائیلی فوج نے ہفتے کو کہا کہ اس نے تہران میں اہداف پر ’حملوں کا ایک وسیع سلسلہ‘ شروع کر دیا ہے، جب کہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے دارالحکومت کے مغربی حصے میں ایک دھماکے کی خبر دی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے اس سے قبل بتایا تھا کہ ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں دھماکے سنے جانے پر، اس نے اسرائیل کی جانب آنے والے ایرانی میزائلوں کی ایک اور کھیپ کا پتہ لگایا ہے۔

اے ایف پی کے صحافی نے ہفتے کو بتایا کہ انہوں نے سائرن بجنے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے کی آواز سنی۔

اسرائیلی فوج نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کرنے سے قبل بتایا تھا کہ فضائی دفاعی نظام ’خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔


صبح 7 بجے: ایران کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے: اسرائیل

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے جمعے کو کہا ہے کہ ایران کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے۔

اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر جنگ کے آغاز سے اب تک ’کئی بار‘ کلسٹر گولہ بارود فائر کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس سے مراد وہ بم ہیں جو فضا میں پھٹ کر چھوٹے بم بکھیر دیتے ہیں۔

ایران اور اسرائیل اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں جو کلسٹر بموں کے استعمال، منتقلی، تیاری اور ذخیرہ کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے۔ یہ بم طویل عرصے تک جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر بچوں کے لیے، کیوں کہ ان میں سے کچھ زمین پر گرتے ہی نہیں پھٹتے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا