| آبنائے ہرمز میں گذشتہ روز ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے واقعے کے بعد کشیدگی پھر بڑھ گئی ہے۔ اس جنگ سے متعلق لائیو اپڈیٹس |
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹس کریش، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ٹرمپ کی ایران کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کی دھمکی کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹس بدھ کے روز دباؤ میں رہیں جب کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دو فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
نئی پیش رفت کے بعد ایشیا میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ جنوبی کوریا میں سیم سنگ اورایس کے ہائینکس کے حصص چھ سے سات فیصد تک گر گئے جبکہ جاپان کے سافٹ بینک کو آٹھ فیصد سے زائد نقصان ہوا۔ ہانگ کانگ، شنگھائی اور ٹوکیو کی مارکیٹس میں بھی بدھ کو مندی رہی۔
یورپ کی سٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کا رجحان دکھایا، جہاں لندن، پیرس اور فرینکفرٹ کے انڈیکسز میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدھ کو تقریباً دو فیصد بڑھ گئیں۔ برینٹ کروڈ 1.74 ڈالر اضافے کے ساتھ 93.19 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.91 ڈالر بڑھ کر 90.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
یہ اضافہ اس وقت ہوا جب مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں تاخیر کی صورت میں ’اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘
رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے ایران میں کچھ اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے بھی خطے کے کئی ممالک میں جوابی کارروائی کی۔
ایران نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے امریکی حملے کے بعد بحرین اور اردن میں ’امریکی فوجی اڈوں‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ کویت نے بھی حملوں کی اطلاع دی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر چار اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایرانی افواج نے اردن کے علاقے الازرق میں واقع ایک فضائی اڈے پر ایف-35 جنگی طیاروں کے ٹھکانوں سمیت چار اہم اہداف اور امریکی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ حملے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کیے گئے۔
اردن کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بدھ کو ایران سے داغے گئے پانچ میزائل مار گرائے، جبکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک امریکی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اردن کی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے ایران سے الازرق کی جانب داغے گئے پانچ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ ان کی تباہی کے نتیجے میں ملبہ زمین پر گرا، تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔‘ساتھ ہی ایران کے پاسداران انقلاب نے بحرین میں بھی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق انہوں نے بحرین میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
’دشمن کی جارحانہ کارروائی کے جواب میں، پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے منگل کی رات بحرینی ففتھ بحری بیڑے کے اڈے پر ڈرون حملہ کیا۔‘
کویت کی فوج نے بھی بدھ کو بتایا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ’دشمن کے فضائی اہداف‘ کا مقابلہ کر رہا ہے۔
کویتی فوج کے جنرل سٹاف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’کویت کے فضائی دفاعی نظام اس وقت مقررہ آپریشنل طریقہ کار کے مطابق دشمن فضائی اہداف کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘
بیان میں ان فضائی اہداف کی نوعیت یا ان کے ماخذ کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
پاکستان کی تحمل کی اپیل
امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کے بعد پاکستان نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کو موقع دیں، کیونکہ نئی فوجی کشیدگی سے بین الاقوامی سطح پر مہینوں سے جاری اس کوشش کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
یہ اپیل اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے ایرانی اہداف پر نئی فوجی کارروائی اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات سے منسلک تنصیبات پر حملوں نے کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے خطے کے استحکام، عالمی توانائی کی فراہمی اور جاری سفارتی کوششوں کے مستقبل پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پاکستان نے اس سال کے آغاز میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ثالثی کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس دوران اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران دونوں سے رابطے برقرار رکھے اور ان مذاکرات کی حمایت کی ہے جن کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر تنازعات کو حل کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام حل طلب مسائل، بشمول ایران کے جوہری مسئلے، کو پُرامن ذرائع، سفارتی روابط اور مسلسل مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سفارت کاری اور مکالمہ تمام متنازعہ مسائل کے حل کے لیے بنیادی اصول ہونے چاہئیں، اور یہ عمل متعلقہ فریقوں کے حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کے تحت ہونا چاہیے۔
سفیر نے عندیہ دیا کہ سفارتی کوششیں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازعے کا پُرامن سفارتی حل تلاش کرنے کی سنجیدہ اور مسلسل کوشش کر رہے ہیں، اور خاص طور پر جب حتمی مقصد قریب نظر آ رہا ہے، تو ہم تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ تحمل سے کام لیں اور امن کو ایک اور موقع دیں۔
امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے کا دعوے
امریکی فوج نے بدھ کے روز ایران پر فضائی حملے کیے، جس کے دوران تہران کے ’فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول سٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایران نے بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف حملوں کی تصدیق کی، تاہم نقصان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے خلاف یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد کی گئی، جس کا الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر عائد کیا تھا۔
ایران نے امریکی حملوں کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے مستقل جنگ بندی کی کوششیں ایک بار پھر مشکوک ہو گئیں۔ اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بندش کا شکار ہو چکی ہے اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی جس میں امریکہ کی فضائیہ اور بحریہ کے لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا، ’حالیہ دنوں میں امریکی افواج اور علاقائی پانیوں سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر حملوں کے متناسب جواب کے طور پر کی گئی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بعد ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور کویت میں امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے ایک فوجی اڈے کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم نہ بحرین اور نہ ہی کویت نے ایسے کسی حملے کے بارے میں کوئی انتباہ جاری کیا۔
ٹرمپ نے اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والے طیارے کو مار گرایا۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کو ’اس حملے کا لازمی طور پر جواب دینا ہوگا۔
امریکہ کے اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی اور امریکی فوج کے حملوں نے دو ماہ پرانی جنگ بندی کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ ایک روز قبل ایران اور اسرائیل نے اس نازک جنگ بندی کے نفاذ کے بعد پہلی بار ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق منگل کو اسرائیلی حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی یونٹوں کے کم از کم دو اہلکار جان سے گئے۔
28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد اس جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور خوراک سمیت بہت سی بنیادی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔
اپریل کی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب اسرائیل لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی مہم کو مزید تیز اور وسیع کر رہا ہے۔
امریکی ہیلی کاپٹر ایرانی ڈرون سے ٹکرا کر تباہ ہوا
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ فوج کا اے ایچ-64 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر ایک ایرانی ڈرون سے ٹکرانے کے بعد گر کر تباہ ہوا۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ تصادم جان بوجھ کر کیا گیا تھا یا نہیں، جبکہ سرکاری بیانات میں صرف یہ کہا گیا کہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی فوج کی اپنی نوعیت کی پہلی معلوم کارروائی میں ایک ڈرون کشتی نے منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے دو پائلٹوں کو بچایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب گشت کے دوران ہیلی کاپٹر گرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد یہ امدادی کارروائی کی گئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فوجی اہلکار ’محفوظ ہیں اور زخمی نہیں ہوئے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو ایک ڈرون کشتی نے تلاش کیا اور انہیں پانی میں ایک دوسرے مقام تک منتقل کیا، جہاں سے ایک ہیلی کاپٹر نے انہیں اٹھایا۔
انہوں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ڈرون انہیں ساحل تک لے گیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے نظرثانی شدہ وقت کی تفصیلات پر مزید وضاحت نہیں کی۔
ٹِم ہاکنز کے مطابق یہ سمندر میں امریکی فوج کی جانب سے ڈرون کے ذریعے کی جانے والی پہلی معلوم امدادی کارروائی تھی۔
اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹر امریکی فوج کے لیے ایک اہم اثاثہ رہے ہیں کیونکہ وہ ایرانی خام تیل کی ترسیل اور ٹینکروں پر عائد ناکہ بندی کو نافذ کرنے میں استعمال ہو رہے ہیں تاکہ تہران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
ٹِم ہاکنز کے مطابق امدادی کارروائی میں استعمال ہونے والا ڈرون 24 فٹ (7.3 میٹر) لمبا ’کورسئیر‘ نامی جہاز تھا۔ اسے سارونک ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہے۔
یہ ڈرون امریکہ بحریہ کی ٹاسک فورس 59 کے زیر استعمال تھا، جو 2021 میں بحری سلامتی پر توجہ دینے والی بحریہ کی پہلی بغیر عملے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی یونٹ کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ اس کی توجہ مشرق وسطیٰ کے سمندری راستوں، بشمول آبنائے ہرمز اور سوئز کنال پر مرکوز ہے۔
ٹرمپ کے ایران پر طیارہ مار گرانے کے الزام کے فوراً بعد وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’امریکی ساحلوں سے ہزاروں میل دور‘ ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہماری سرزمین کے قریب موجود غیر ملکی افواج اپنی انسانی غلطیوں، عام حادثات یا ممکنہ طور پر فائرنگ کے تبادلے میں پھنس جانے کے باعث مسلسل خطرے میں رہتی ہیں۔ خطرات کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ وہ یہاں سے چلی جائیں۔‘
ٹرمپ کا اصرار تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے والا ہے
ایران پر امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا الزام لگانے سے پہلے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں نئی امید ظاہر کی تھی، تاہم انہوں نے اس کی وجہ نہیں بتائی تھی۔
ثالثی کرنے والے ممالک، جن میں پاکستان نمایاں ہے، کئی ہفتوں سے معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایران اور امریکہ دونوں نے سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو جائے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران ہونے والے امریکی فضائی حملوں کے بعد وہ ملبے تلے دفن ہو چکا ہے۔
تاہم ایران اس مطالبے کو مسترد کر رہا ہے اور پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ حتمی معاہدے سے قبل منجمد اثاثوں کی رہائی بھی چاہتا ہے، جسے ٹرمپ نے رد کر دیا ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی اب بھی ایران کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ لبنانی فوج کے سربراہ روڈولف ہیکل نے منگل کو پاکستان میں پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم کردار سمجھے جاتے ہیں۔
روڈولف ہیکل کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنان کی حکومت حزب اللہ کے خلاف نسبتاً سخت مؤقف اختیار کر رہی ہے، تاہم وہ اب بھی اس طاقتور ملیشیا کو غیر مسلح کرنے میں ناکام ہے۔
حزب اللہ نے منگل کو اسرائیل پر حملوں کے لیے ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’ہمارے لبنانی عوام کے دفاع‘ میں کیا گیا اور اشارہ دیا کہ لبنان کی حکومت کو اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تہران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہییں۔