’رمضان میں ایک خواہش یہ رہتی ہے کہ جو میرے دسترخوان پر ہو وہ میں بانٹ سکوں۔‘ یہ کہنا ہے میری 15 برس پرانی ہیلپر صفیہ کا۔
صفیہ کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور وہ 25 سال سے اپنے شوہر عامر کے ساتھ اسلام آباد میں مقیم ہیں۔
عامر ایک نجی سکول میں چپڑاسی کی ڈیوٹی پر مامور ہیں، جن کی ابتدائی ماہانہ تنخواہ 1500 روپے ہوا کرتی تھی اور موجودہ مہنگائی میں یہ تنخواہ 18 ہزار ہو چکی ہے۔
صفیہ دو گھروں کا کام کر کے 30 ہزار روپے ماہانہ کما پاتی ہیں۔ ان کا کنبہ چار افراد پر مشتمل ہے، جس میں ان کے علاوہ ایک نوجوان بیٹا اور بیٹی شامل ہے۔
بیٹی انٹر کی طالبہ ہے جبکہ بیٹا انٹر کر کے ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے منسلک تھا، جو فائر وال نصب ہونے کے بعد سے ملک کے لاکھوں نوجوانوں کی طرح اب انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے باعث کام سے فارغ ہو چکا ہے۔
اس نے فی الحال شہر میں کھلنے والے ایک بڑے گروسری سٹور میں معاون کی نوکری کے لیے اپلائی کر رکھا ہے۔
اس کم اوسط والے گھرانے اور اس جیسے لاکھوں گھرانوں کا موجودہ معاشی صورت حال میں پاکستان میں مستقبل کیا ہو سکتا ہے، اس پر ماہر معاشیات اور ڈائریکٹر آئی بی اے کراچی اکبر زیدی نے بتایا اگر ’اقتصادی اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو مہنگائی کی سطح مستحکم ہوئی ہے لیکن ان اعداد و شمار کے پیچھے غور سے دیکھا جائے تو عام آدمی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑا۔
’افراط زر تو پچھلے دو، تین سال میں کم ہوا ہے، ڈالر اور روپے کے ریٹ میں بھی استحکام آیا ہے، ہیڈ لائن سٹیٹسٹکس بہتر ہوئے ہیں لیکن اس کے علاوہ زیادہ تر اعداد و شمار بگڑے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ملک میں بے روزگاری کی شرح پچھلے 21 سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے اور سرکاری طور پر سات فیصد عوام بے روزگاری سے دوچار ہیں۔ اسی طرح غربت کی سطح بھی پچھلے 10 سال میں کافی بڑھی ہے۔‘
اس وقت پاکستان میں ’ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس‘ متواتر نیچے آیا ہے۔ صفیہ اور عامر کی تنخواہوں میں سے ماہانہ 20 ہزار روپے راشن پانی اور ادویات پر لگ جاتا ہے، بجلی اور ایک موٹر سائیکل کے پیٹرول پر 10 ہزار روپے جبکہ دیگر خوشی غمی نبھانے کے لیے قرض لینا پڑ جاتا ہے۔
جہاں تک ان کی رہائش کا تعلق ہے تو وہ ایک پلاٹ ان کو کسی نے سٹامپ پیپر پر خرید کر دیا ہے۔ سو کرائے سے بچ گئے لیکن ماہانہ بچت ان کے بس کی بات نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
10ویں این ایف سی کمیشن کے رکن سندھ اسد سعید کا ماننا ہے کہ ’مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے اور عام انسان اتنا ہی ریلیف محسوس کر پاتا ہے کہ اشیا کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوتی لیکن ان کی بڑھوتی میں کمی آ جاتی ہے۔
’مہنگائی میں کمی کا اثر عام آدمی پر براہ راست نہیں پڑتا۔ مہنگائی کی رفتار میں کمی آتی ہے۔ مجموعی معاشی صورت حال میں روزگار کے مواقع کم تر ہو گئے ہیں اور کام کی رفتار سست ہے۔
’اور جو افراد برسر روزگار ہیں ان کی تنخواہوں میں اس حد تک اضافہ نہیں ہوا کہ جتنے دو برس کے عرصے میں مہنگائی میں شدت آئی ہے اور قوت خرید مدھم پڑی ہے۔‘
ان حالات میں حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے نظر آتے ہیں کیونکہ وہ آئی ایم ایف کے معاہدے کے تحت چل رہی ہے اور اس معاہدے کی ضرورت بھی اسی لیے پڑی کیونکہ بجٹ کا خسارہ بہت زیادہ تھا۔
آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ پاکستان کو اپنے حکومتی اخراجات کو کم کرنا ہو گا اور اس کمی کے لیے دیکھا گیا ہے کہ عوامی فلاح کے اخراجات کو ہی کم کیا جاتا ہے۔
فی الحال حکومت معاشی طور پر آئی ایم ایف کی شرائط میں جکڑی ہوئی ہے۔ اپنے معاشی استحکام کے لیے صفیہ اور عامر جیسے گھرانے اگر کسی چھوٹے موٹے کریانہ سٹور چلانے کا بھی سوچیں تو قرض لیے بغیر ممکن نہیں ہو گا اور بینک گارنٹی میں سٹامپ پیپر پر لکھے گھر کے کاغذات ضمانت نہیں رکھوائے جا سکتے۔ سو یہ عام عوام جائیں تو جائیں کہاں۔
اکبر زیدی کہتے ہیں کہ ’جینڈر یا صنف کے اعداد و شمار کے مطابق ہمارا دنیا میں 148واں یعنی سب سے آخری نمبر ہے اور ہم اس مد میں دنیا کا بدترین ملک سمجھے جاتے ہیں۔
’گو افغانستان اور یمن جیسے ممالک کے پاس ان سٹیٹسٹکس کی گنجائش نکالنا ہی ممکن نہیں۔ موجودہ مہنگائی کی شرح 23 فیصد سے کم ہو کر پانچ فیصد پر ٹھہری ہے اور یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ معیشت میں استحکام آیا ہے، لیکن اب یہی معیشت جمود کا شکار ہے۔
’ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع کم ہیں۔ ملکی معیشت کا صرف 13 فیصد سرمایہ کاری پر لگ رہا ہے جو پچھلی پانچ دہائیوں میں اتنا کم نہیں تھا، یعنی معیشت میں نئے سرمائے کی آمد نہیں ہوئی اور اس کے باعث معیشت اور روزگار کے مواقع منجمد ہو گئے ہیں۔‘
دیکھا گیا ہے کہ جب بھی عید یا بقرعید کے تہوار آتے ہیں تو ملک میں عام آدمی کی قوت خرید مزید کمزور پڑ جاتی ہے۔ بچت بازاروں میں مال بھی خستہ ترین دیکھا جاتا ہے۔
شاید ہماری سیاسی معیشت کو اس جانب غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے لیے دفاع کے بجٹ کو کم کرنے اور فلاحی بجٹ میں بڑھوتی کی ضرورت ہے جبکہ صفیہ اور عامر جیسے پاکستانی شہریوں کا ماننا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پائے اور زندگی جینے کے مواقع سستے کر دے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔