جی ایچ کیو حملہ کیس میں سزائیں، پی ٹی آئی کی شدید مذمت

راول پنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، مراد سعید اور زلفی بخاری سمیت 47 دیگر ملزمان کو 10، 10 برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے، جسے پی ٹی آئی نے ’ناانصافی اور سیاسی انتقام‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔

(دائیں سے بائیں) نو مئی، 2023 کو راول پنڈی میں جی ایچ کیو پر حملے کے مقدمے میں سزا پانے والے پی ٹی آئی رہنما مراد سعید، ذلفی بخاری اور عمر ایوب (تصاویر: مراد سعید آفیشل فیس بک اکاؤنٹ/ ذلفی بخاری انسٹاگرام اکاؤنٹ/ اے ایف پی)

راول پنڈی کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے ہفتے کو نو مئی، 2023 کو جنرل ہیڈ کواٹرز (جی ایچ کیو) پر حملے کے کیس میں اشتہاری قرار دیے گئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں عمر ایوب، مراد سعید اور زلفی بخاری سمیت 47 دیگر ملزمان کو 10، 10 برس قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔

پی ٹی آئی نے ایک بیان میں فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’ناانصافی اور سیاسی انتقام‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔

نو مئی کو پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہاتھوں مبینہ کرپشن کیسز میں گرفتاری کے بعد ملک گیر پرتشدد مظاہروں کے دوران فوجی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ دیگر سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔

اسی سلسلے میں راول پنڈی میں جی ایچ کیو پر حملے کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار میں درج کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے آج جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں اس مقدمے کے 47 اشتہاری ملزمان کو 10، 10 سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

عدالت نے ملزمان کی جائیداد بھی ضبط کرنے کا حکم دیا، جن میں پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب، شہباز گل، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، ذلفی بخاری اور کنول شوزب سمیت دیگر شامل ہیں۔

عدالت نے ملزمان کو اشتہاری قرار دے کر ان کی غیر موجودگی میں ٹرائل آگے بڑھایا۔ عدالت کا یہ فیصلہ غیر حاضر ملزمان کی حد تک سنایا گیا۔

اسی کیس میں عمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ٹرائل ابھی انسداد دہشت گردی راول پنڈی میں زیر التوا ہے۔

عدالتی فیصلے، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، میں کہا گیا کہ ’سزا پانے والے ملزمان نو مئی، 2023 کے واقعات کی سازش میں ملوث پائے گئے اور جے آئی ٹی رپورٹ نے ملزمان کو پرتشدد احتجاج کی منصوبہ بندی میں ملوث قرار دیا ہے۔‘

’سزا پانے والے ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ، آرمی میوزیم اور سکستھ روڈ میٹرو سٹیشن پر حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جے آئی ٹی نے سزا پانے والے ملزمان کو نو مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی میں مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔‘

فیصلے کے مطابق ملزمان پر نو مئی کے واقعات میں جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے سرکار کی طرف سے اس کیس کی پیروی کی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ’مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت 118 ملزمان پر دسمبر 2024 میں فرد جرم عائد کی گئی جبکہ اب تک استغاثہ کے کل 44 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔‘

مزید کہا گیا کہ ’ان 118 ملزمان میں سے 18 دوران ٹرائل عدالت سے مسلسل غیر حاضر پائے گئے اور 29 ملزمان مقدمے کے اندراج کے بعد کبھی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔‘

فیصلے کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 21 ایل کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیا۔

رواں برس چھ جنوری کو اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت نے انکوائری تشکیل دی۔

اس عدالتی انکوائری میں 47 اشتہاری ملزمان کو ’دیدہ دانستہ مفرور قرار دیا گیا۔‘

انکوائری رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے اخبار میں اشتہار جاری کروایا اور رواں برس آٹھ جنوری کو 47 مفرور ملزمان کا اشتہار جاری کیا گیا۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’عدالت نے اشتہاری قرار پانے والے ملزمان کو سات روز کے اندر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا موقع دیا، تاہم ان عدالتی احکامات اور اشتہار جاری ہونے کے باوجود کوئی ملزم عدالت پیش نہیں ہوا۔ (جس کے بعد) اشتہاری ملزمان کا سٹیٹ کونسل مقرر کر کے چارج فریم کیے اور پراسیکیوشن نے 19 گواہان کے بیانات عدالت میں ریکارڈ کروائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

استغاثہ کے گواہان پر جرح کرنے اور 47 اشتہاری ملزمان کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ جاری کیا، جس میں ملزمان کو دس، دس سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کی مذمت

پی ٹی آئی نے ایک پریس ریلیز میں فیصلے کو ’ناانصافی اور سیاسی انتقام‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ’یہ فیصلہ نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے بلکہ پاکستان کی تاریخ میں سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائیوں کی ایک اور افسوس ناک مثال بھی ہے۔‘

بیان کے مطابق پارٹی ’اس غیر منصفانہ، جانب دارانہ اور سیاسی بنیادوں پر کیے گئے فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔‘

پی ٹی آئی کے مطابق نو مئی کے واقعات کو ایک منظم بیانیے کے تحت استعمال کرتے ہوئے پارٹی اور اس کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ 

’ان واقعات کو بہانہ بنا کر ایک پوری سیاسی جماعت کو دبانے، اس کی قیادت کو قید کرنے اور کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔‘

بیان کے مطابق مجموعی طور پر 47 پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو سزائیں سنائی گئیں جن میں نمایاں ناموں میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب، شیخ راشد شفیق، شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ اور دیگر شامل ہیں۔

پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ’سیاسی انتقام کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، آئین اور قانون کی حقیقی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور تمام سیاسی قیدیوں کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان