دن تاریخ سال اور مقام بدل گیا لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم کی انڈیا کے خلاف کارکردگی نہ بدل سکی وہی بولنگ اور بیٹنگ کی ناکامی اور وہی فیلڈنگ میں بوکھلاہٹ۔ اسی طرح کی پسپائی جیسے کچھ ماہ قبل دبئی میں ہوئی تھی اس دفعہ میدان تھا کولمبو کا اور مقابلہ تھا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا۔۔۔۔ سارے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے!
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی میچ سے پہلے جس قدر شور کھیلنے یا نہ کھیلنے کا تھا اس نے میچ کی اہمیت میں بہت اضافہ کر دیا تھا۔
دنیائے کرکٹ کی معروف شخصیات اس میچ پر تبصرہ کررہی تھیں، کچھ اس میچ کے بائیکاٹ کی نوید دے رہے تھے تو کچھ پاکستان کو آمادہ کر رہے تھے کہ میچ ضرور کھیلیں۔
دونوں ممالک کے میڈیا میں مالی نقصانات سے لے کر کھلاڑیوں کے ایکشن تک پر گفتگو ہو رہی تھی گذشتہ دو ہفتوں میں جس قدر اس میچ پر بات کی گئی وہ اپنی سطح کا ایک الگ واقعہ ہے۔
دونوں ممالک کے سابق کرکٹرز نے جس مستعدی سے اپنے ملک کے موقف کی حمایت کی وہ بھی قابل دید تھا ہر ایک اپنا راگ الاپ رہا تھا، ایسا لگتا تھا میچ نہیں ہو گا، لوگوں نے ایئر ٹکٹ اور ہوٹل منسوخ کر دیے ۔۔۔ لیکن پھر اچانک میچ ہو گیا اور لوگوں کو دس گنا زیادہ قیمتوں پر ایئر ٹکٹ خریدنے پڑے۔
ہر ایک یہی کہہ رہا تھا کہ اگر میچ کھیلنا ہی تھا تو پھر اتنا شور کیوں کیا؟
کیا یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا ؟
آغاز برا نہ تھا
اس میچ کے شروع ہونے سے قبل آخری لمحات تک پیشن گوئیوں کا بازار گرم تھا۔ ٹی وی چینلز پر براہ راست نشریات اور مختلف زاویوں سے تبصرے ہو رہے تھے، ایک آگ لگی ہوئی تھی جس کی تپش دونوں ممالک سے ہوتی ہوئی کولمبو پہنچ رہی تھی۔
کھلاڑیوں کی نیٹ پریکٹس سے لے کر کھانے پینے تک کے مناظر نشر ہورہے تھے۔
پاکستان کے لیے میچ کا آغاز برا نہ تھا۔ کپتان سلمان علی آغا ایک بار پھر ٹاس جیتے اور مرضی کے مالک بن گئے کہ بیٹنگ کریں یا بولنگ۔ کسی بھی کپتان کے لیے سب سے مشکل مرحلہ یہ فیصلہ ہوتا ہے حالانکہ کپتان ٹاس سے پہلے 50 مرتبہ کوچ اور سینئیر کھلاڑیوں سے مشورہ کرتا ہے لیکن پھر بھی آخری لمحات میں گھبرا جاتا ہے۔
سلمان علی آغا نے پچ کو دس مرتبہ دیکھا تھا ایک ہموار اور خشک پچ سامنے تھی جس پر بولنگ کے لیے بہت کچھ نہیں تھا لیکن سری لنکا کی پچیں بعض اوقات دھوکا دے جاتی ہیں۔
پاکستان کے پاس سنہری موقع تھا کہ پہلے بیٹنگ کرتے اور ایک مناسب سا ہدف انڈین ٹیم کو دیتے تاکہ وہ بیٹنگ سے قبل ہی سوچنا شروع کردیں لیکن سلمان دھوکا کھا گئے اور پہلے بولنگ کرنے پہنچ گئے یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان ٹیم روایتی طور پر ہدف کے تعاقب میں ڈھے جاتی ہے۔
پاکستان نے جب پہلے ہی اوور میں سلمان علی آغا سے بولنگ کا آغاز کیا تو وہ ایک حیرت زدہ کرنے والا قدم تھا جس بولر کے لیے بالکل تیاری نہیں کی تھی وہ بولنگ پر تھا اور نتیجہ نکلا کہ سب سے جارح بلے باز ابھیشک شرما صفر پر آؤٹ ہو گئے۔
عارضی خوشی اور ایشان کشان
پاکستان کی پہلے اوور کی خوشیاں دوسرے اوپنر ایشان کشان نے مٹی میں ملا دی۔ انہوں نے شاہین شاہ آفریدی کے پہلے اوور کا استقبال سکوائر لیگ پر فلک شگاف چھکے سے کیا اور پھر ایشان ہر جگہ چھا گئے۔
انہوں نے جس انداز سے بیٹنگ کی اس نے پاکستانی بولنگ کے اوسان چھین لیے چھ سپنرز کے ساتھ میدان میں اترنے والی ٹیم کے دو سپنرز شاداب خان اور ابرار احمد کی جو درگت ایشان نے بنائی اس کے بعد سپنرز کا راگ جھاگ بن گیا۔
وہ پاکستانی بولنگ لے لیے دوسرے ابھیشیک بن گئے اور ان کے 77 رنز ہی جیت کی بنیاد رکھ گئے۔
غلطی کہاں کہاں ہوئی
پاکستانی کپتان نے اس اہم میچ میں بہت سی غلطیاں کیں، سب سے بڑی غلطی پراسرار بولر عثمان طارق کو بہت دیر سے لے کر آئے۔ عثمان جس طرح کے بولر تھے وہ ایشان کو آؤٹ کرسکتے تھے لیکن 10 اوور کے بعد جب وہ آئے تو انڈیا دس رنز فی اوور کا پیمانہ قائم کر چکا تھا اس لیے اب عثمان سمجھ نہیں پارہے تھے کہ رنز روکیں یا وکٹ لیں۔
پھر اس وقت جبکہ انڈیا کی دو وکٹیں ایک ساتھ گر چکی تھیں اور صائم ایوب اچھی بولنگ کررہے تھے تو فیلڈ کو بہت زیادہ دور کر دیا جس سے نئے بلے باز پر دباؤ نہ پڑ سکا۔
شاہین آفریدی جو پورے ایونٹ میں بہت خراب بولنگ کررہے ہیں ان سے آخری اوور کروانا مہنگا پڑ گیا۔ سلمان خود جو اچھی بولنگ کررہے تھے ان کا خود کو تبدیل کرنا بھی ناسمجھی تھی۔
ہدف مشکل نہ تھا
اگر پاکستان کی بیٹنگ لائن پر غور کیا جائے تو 176 رنز کا ہدف مشکل نہ تھا لیکن بیٹنگ نے جس طرح خود کو بزدلی کے خول میں بند کیا اور بولنگ کو اس کے حساب کے بجائے اپنی گھبراہٹ میں کھیلا اس نے اس ہدف کو کوہ ہمالیہ بنا دیا۔
جس طرح اوپنرز سمیت بابر اعظم اور سلمان علی آغا نے بیٹنگ کی وہ کسی بھی طرح ایک قومی ٹیم کے بلے بازوں کے مطابق نہیں تھی چاروں بلے باز ایک عجیب سے دباؤ میں تھے۔ شکست کا خوف اور بےترتیب بیٹنگ نے چاروں کو چاروں شانے چت کر دیا۔
صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان اور سلمان علی آغا جن گیندوں پر آؤٹ ہوئے وہ بہت عجیب تھا۔
تینوں نے شاٹ اس طرح کھیلے کہ جیسے اناڑی ہوں۔ عثمان خان نے کچھ کوشش کی لیکن ان کی خراب تکنیک کے سبب وہ کسی بھی وقت آؤٹ ہو سکتے تھے اور ہو گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فہیم اشرف کا ٹیم میں کیا کردار ہے وہ کسی کو نہیں معلوم۔ بولنگ ان کو دی نہیں جاتی اور بیٹنگ ان سے بڑی ٹیموں کے خلاف ہوتی نہیں۔
پاکستان اس میچ میں مکمل فیل ہو گیا۔ بولنگ بیٹنگ اور فیلڈنگ کا معیار انتہائی پست اور شکست خوردہ تھا۔ ٹیم سلیکشن کا معیار جانبداری پر مبنی رہا۔
ٹیم کے کوچ مائیک حیسن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اعلیٰ حکام کو خوش رکھتے ہیں کرکٹ کے معیار سے وہ نابلد ہیں۔ ایک ایسی پچ جس پر انڈین فاسٹ بولرز پاور پلے میں تین کھلاڑی آؤٹ کر گئے حیسن اسے سپن پچ کہتے رہے۔
ٹیم سلیکشن میں چیف سلیکٹر عاقب جاوید نے جس ڈھٹائی اور جانبداری سے ٹیم کو منتخب کیا اس پر کوئی اور بورڈ ہوتا تو اب تک انہیں فارغ کر دیتا لیکن یہاں تو آوا کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ کوئی احتساب ہے اور نہ کوئ سزا، اور پھر میڈیا بھی چاپلوسی کے نئے ریکارڈ مرتب کر رہا ہے۔
پاکستان نے اس میچ سے قبل جتنا خود کو نمایاں کیا اور خبروں کی زینت بنا رہا، اتنی ہی بےدلی سے میچ کھیلا۔ اس سے بہتر تھا بائیکاٹ کر دیتے۔
افسوس یہ نہیں کہ پاکستان ہار گیا یہ تو اب معمول کی بات ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پٹاخے پھر دھرے رہ گئے۔