کرکٹ کی تاریخ میں کئی مواقع آئے ہیں جب میدان میں دو ٹیموں کے مقابلے سے زیادہ ایک تیسری ٹیم بے چین رہی اور اپنے مطلوبہ نتائج کے لیے کسی ایک ٹیم کی جیت یا ہار کی دعا کرتی رہی۔
1992 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کا سفر واقعی معجزاتی تھا۔ پاکستان اپنی روایت کے مطابق پہلے تین میچ ہار چکا تھا اور سیمی فائنل تک رسائی ناممکن نظر آ رہی تھی لیکن عمران خان کے حوصلے اور ثابت قدمی کی بدولت ٹیم نے عزم کر لیا کہ وہ ورلڈ کپ جیت کر رہیں گے۔
عمران خان، جو اس وقت 40 سال کی عمر عبور کر چکے تھے اور اپنے کرکٹ کے آخری دن گزار رہے تھے، بالاخر اپنی بے مثال قیادت سے ٹیم کو گروپ میں اس مقام تک لے آئے جہاں ایک اور میچ کے نتائج پر قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔
آسٹریلیا، جو دفاعی چیمپیئن اور میزبان تھا، اس کا کارکردگی خاصی خراب رہی تھی۔ اس کا آخری میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا اور سب کو یقین تھا کہ ویسٹ انڈیز جیت کر سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا، لیکن قدرت نے کچھ اور فیصلہ کیا۔
مسلسل ہارنے والی آسٹریلیا نے اس دن ویسٹ انڈیز کو ہرانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس دن پاکستان میں جتنی بے چینی تھی، شاید ہی کہیں اور تھی۔ پاکستان کے کھلاڑیوں سے لے کر گلی کوچوں میں بیٹھے لوگ تک ویسٹ انڈیز کی شکست کی دعا کر رہے تھے۔
آج ایک بار پھر وہی صورت حال ہے۔
موجودہ ٹی 20 ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے متنازع اور بے کیف ٹورنامنٹ ہے۔ بے دلی سے شامل ٹیمیں اور غیر واضح بیانات نے آئی سی سی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے موقف پر غور کیے بغیر اسے رد کیا اور پاکستان کے بائیکاٹ کے اعلان پر خود کو کمزور ثابت کیا۔ ایک خودمختار اور باعزت ادارے کی حیثیت سے آئی سی سی کو سخت ایکشن لینا چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے پی سی بی کے مطابق وہ قدموں میں گر گیا اور ہاتھ جوڑ کر کہہ دیا کہ انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ نہ کریں، ورنہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔
آئی سی سی کے اس اقدام نے کرکٹ کے مداحوں کے حقوق کے تحفظ میں ناکامی کو مزید واضح کر دیا۔ آخری لمحات میں میچ کو یقینی بنانے کے لیے مداحوں کو سری لنکا تک پہنچنا مشکل اور مہنگا پڑ گیا۔ مہنگے ایئر ٹکٹ، ہوٹل اور دیگر اخراجات نے اس میچ کو دیکھنا ایسے بنا دیا، جیسے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو۔
پی سی بی نے واضح کیا کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گیا اور مالی فائدے سے ہٹ کر پاکستان نے بنگلہ دیش کو غیر ضروری طور پر فارغ کرنے کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کر دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کی یہ غیر مشروط حمایت بنگلہ دیشی عوام کے دل جیت گئی۔ جذباتی بنگلہ دیشی عوام جو حال ہی میں سابقہ حکومت کو بھاری اقتصادی نقصان کے باوجود ہٹا چکے ہیں، اب آئی سی سی ایونٹ میں غیر حاضری کے سبب کروڑوں ڈالر کے نقصان کے بجائے پاکستان-انڈیا میچ کی فکر کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیش، جو کبھی پاکستان سے اتنی نفرت کرتا تھا کہ ہمارے ہاں کا دورہ کرنے سے انکار کر دیتا تھا، آج پاکستان کی فتح کے لیے دل سے دعا گو ہے۔ عوام اس قدر فکر مند ہیں کہ اگر پاکستان یہ میچ ہار گیا تو تنہا پاکستان نہیں ہارا، بلکہ بنگلہ دیش کے بیس کروڑ عوام بھی ہار گئے۔
پورے ملک میں بے چینی اور اضطراب ہے، ہر کسی کی دعا ہے کہ پاکستان میچ جیتے۔ یہ فتح نہ صرف کھیل بلکہ آئی سی سی اور انڈیا کے لیے بھی ایک سبق ہوگی کیونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے محروم کرنے کے پیچھے انڈیا کی سازش تھی جبکہ انڈیا اسے آئی سی سی کے قوانین سے جوڑتا رہا۔
اتوار کا میچ ایک عام میچ نہیں، بلکہ دو ممالک کی محبت اور یگانگت کی ایک کڑی ہے، جس سے خطے میں بہت سی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
تاہم عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اس ساری صورت حال کے باوجود پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام بس ’زندہ باد‘، ’مردہ باد‘ کرتے رہیں گے جب کہ سیاست دان اپنی دوستانہ گفتگو اور تعلقات برقرار رکھیں گے۔ یہی سیاست کا انداز ہے جس نے کرکٹ کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔