نو فروری 2026 کی رات جب پاکستان حکومت نے اعلان کیا کہ قومی کرکٹ ٹیم 15 فروری کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں انڈیا کے خلاف میدان میں اترے گی، تو یہ ایک سیاسی یوٹرن نہیں تھا، یہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ میں شاید سب سے بڑا معاشی ریسکیو آپریشن تھا، جس نے آئی سی سی کو اربوں ڈالرز کے نقصان سے نجات دلائی۔
یکم فروری کو جب پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، تو دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز کے دفاتر میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔ یہ فیصلہ پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کیا گیا تھا، لیکن جو بات ایک سیاسی اقدام لگ رہی تھی، وہ دراصل عالمی کرکٹ کے وجود کے لیے خطرہ بن گئی۔
داؤ پر کتنا پیسہ لگا تھا؟ حقیقت حیران کن ہے۔ ٹورنامنٹ کے آفیشل براڈکاسٹر جیو سٹار کے لیے یہ میچ تقریباً ساڑھے تین کروڑ ڈالر کی اشتہاری آمدنی کا ذریعہ تھا۔ انڈین میڈیا کے مطابق کمپنی کو اس ایک میچ کی منسوخی سے اس ٹورنامنٹ کے لیے اپنی مجموعی آمدنی کے 15 سے 20 فیصد حصے سے ہاتھ دھونا پڑتا۔ انڈیا کے بڑے میچوں میں 10 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت 75 سے 90 لاکھ پاکستانی روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
آئی سی سی کے لیے بھی یہ ایک بڑا بحران تھا۔ آئی سی سی نے 2024 سے 2027 تک کے براڈکاسٹنگ حقوق تین ارب ڈالر میں فروخت کیے ہیں۔ صنعت کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ براڈکاسٹرز نے اس چار سالہ سائیکل میں چار مختلف آئی سی سی ایونٹس میں ہونے والے چار انڈیا پاکستان میچوں سے اکیلے ایک ارب ڈالر کمانے کا تخمینہ لگایا ہوا تھا، یعنی ہر میچ کی قیمت 25 کروڑ ڈالر یا اس سے زیادہ۔
اس سے فیصلے کے اثرات سے خود پاکستان کرکٹ بورڈ بھی بچ نہیں سکتا تھا۔ پی سی بی کو آئی سی سی سے سالانہ تقریباً تین کروڑ 45 لاکھ ڈالر ملتے ہیں، جو ان کے بجٹ کا سب سے بڑا واحد ذریعہ ہے۔ اگر آئی سی سی نے پاکستان کو سزا دی ہوتی تو اس آمدنی کا 70 سے 80 فیصد روکا جا سکتا تھا۔ یہ ایسا نقصان ہے جس سے پاکستانی کرکٹ کا ڈھانچہ متاثر ہو جاتا۔
60 کروڑ آنکھیں
لیکن صرف ڈالرز ہی اس میچ کی اہمیت کی کہانی نہیں بیان کرتے۔ 2025 میں چیمپیئنز ٹرافی کے دوران کھیلے گئے انڈیا پاکستان میچ نے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ 60 کروڑ لوگوں نے اس میچ کا کچھ نہ کچھ حصہ دیکھا۔ اس سے پہلے کا ریکارڈ 2023 کے ورلڈ کپ میں صرف 3.5 کروڑ تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
2023 کے ورلڈ کپ میں انڈیا پاکستان میچ نے صرف انڈیا میں ہی تقریباً 40 کروڑ ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ تقابل کے لیے امریکی سپر بول تقریباً 11 سے 12 کروڑ ناظرین کو راغب کرتا ہے۔ ناظرین کی یہ تعداد ہی وہ طاقت ہے جو ان دونوں ملکوں کے ٹاکرے کو اتنا قیمتی بناتی ہے۔
جیو سٹار کا ڈوبتا جہاز
لیکن اس پوری کہانی میں سب سے بڑا سوالیہ نشان جیو سٹار کے اوپر لگا ہوا تھا۔ یہی وہ کمپنی ہے جسے آئی سی سی نے 2022 میں چار سال کے لیے انڈین براڈکاسٹنگ حقوق تین ارب ڈالر میں فروخت کیے تھے۔ لیکن جو معاہدہ آئی سی سی کے لیے سونے کی کان لگ رہا تھا، وہ جیو سٹار کے لیے ڈوبتا جہاز ثابت ہو رہا ہے۔
2024-25 کے مالی سال میں کمپنی نے کھیلوں کے معاہدوں سے متوقع نقصانات کی فراہمی 605 ارب روپے تک بڑھا دی، جو پچھلے سال سے دگنا سے زیادہ ہے۔ جیو سٹار نے یہ حقوق اپنے حریفوں سے تین گنا زیادہ قیمت پر خریدے تھے۔
دسمبر 2025 میں خبریں آئیں کہ جیو سٹار معاہدے سے باہر نکلنا چاہتا ہے۔ اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی سی سی کے ایونٹس کی نشریاتی کمپنی جیوسٹار آئی سی سی سے تین ارب ڈالر کے معاہدے پر نظرثانی کے لیے مذاکرات کر رہی ہے اور جیوسٹار کا کہنا ہے کہ وہ مالی نقصان کے باعث معاہدے سے قبل از وقت نکلنا چاہتی ہے۔
اگر انڈیا پاکستان میچ منسوخ ہو جاتا تو جیو سٹار کے لیے باہر نکلنے کا بہترین جواز مل جاتا۔
بنگلہ دیش: بازی پلٹنے والا کھلاڑی
اس پوری کہانی میں بنگلہ دیش کا کردار حیران کن ہے۔ یہی وہ ملک ہے جس کی وجہ سے بحران شروع ہوا، لیکن آخر میں یہی ملک پاکستان کو انڈیا کے خلاف کھیلنے پر راضی کرتا ہے۔ آٹھ فروری کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام لاہور پہنچے اور آئی سی سی اور پی سی بی سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ’پورے کرکٹ ایکو سسٹم کے فائدے کے لیے‘ انڈیا کے خلاف میچ کھیلیں۔
اس سے فائدہ بھی بنگلہ دیش کو ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کو 2028 اور 2031 کے درمیان ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کا موقع دیا گیا ہے، اور ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر کوئی سزا نہیں ملے گی۔ یہ پی سی بی کی سفارتی مہارت کا شاہکار ہے، جس کے لیے بنگلہ دیش بجا طور پر پاکستان کا شکرگزار بھی ہے۔
انڈیا کا غلبہ
انڈیا کا عالمی کرکٹ پر اتنا اثر کیوں ہے، اس کے پیچھے بھی معیشت ہے۔ اخبار فرسٹ پوسٹ کے مطابق انڈین کرکٹ بورڈ نے 2024 میں 206 ارب روپے کمائے، جو آسٹریلیا، انگلینڈ، پاکستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ آمدنی سے 13 گنا زیادہ ہے۔ آئی پی ایل صرف آٹھ ہفتوں میں 57 ارب روپے کماتی ہے۔ عالمی کرکٹ کی تقریباً 70 سے 80 فیصد آمدنی انڈین مارکیٹ سے آتی ہے۔
چھوٹے کرکٹ بورڈز آئی سی سی پر سخت انحصار کرتے ہیں، اور وہ کرکٹ پر جو پیسہ لگاتے ہیں وہ آئی سی سی سے آتا ہے اور آئی سی سی کی آمدن انڈیا سے آتی ہے۔
پاکستان کے فیصلے نے آئی سی سی کو کئی طریقوں سے بچایا۔ سب سے پہلے براڈکاسٹرز قانونی کارروائی کر سکتے تھے اور تقریباً 3.8 کروڑ ڈالر کے نقصانات کے دعوے کر سکتے تھے۔ دوسرا، جیو سٹار کو معاہدے سے باہر نکلنے کا جواز مل جاتا۔ تیسرا، مستقبل کے براڈکاسٹنگ معاہدوں کی ساکھ مجروح ہو جاتی۔ چوتھا، چھوٹے کرکٹ بورڈز کی مالی بقا مشکل میں پڑ جاتی۔
آئی سی سی کو درپیش بحران کی سنگینی اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے یکم فروری کے فیصلے کے بعد سے وہ مسلسل حرکت میں رہا۔ اس نے پاکستانی فیصلے کے چند گھنٹوں کے اندر اندر اس پر ردِ عمل دے دیا، حالانکہ پاکستان نے انہیں باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا تھا۔
اس کے بعد چھ فروری کو آئی سی سی کا وفد لاہور پہنچا، آٹھ فروری کو بنگلہ دیش نے پاکستان سے درخواست کی۔ پھر سری لنکا کے صدر نے پاکستانی وزیرِ اعظم کو فون کیا، اور نو فروری کو پاکستان نے فیصلہ واپس لے لیا۔ یہی نہیں، بلکہ اماراتی کرکٹ بورڈ اور سنگاپور کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان سے درخواست کی کہ وہ فیصلہ واپس لے لے۔
صرف تین دنوں میں یہ تیز رفتار حل آئی سی سی کی پس پردہ سر توڑ کوششوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہ پوری کہانی کئی اہم سبق دیتی ہے۔ پہلا، جدید کرکٹ اربوں ڈالرز کی صنعت بن چکی ہے جہاں ایک میچ 25 کروڑ ڈالر کی آمدنی پیدا کر سکتا ہے اور 60 کروڑ ناظرین کو راغب کر سکتا ہے۔ اور اب فیصلے کھیل کے وسیع تر مفاد میں نہیں بلکہ معاشی پہلو کو سرفہرست رکھ کر کیے جاتے ہیں۔
پاکستان نے اسی دکھتی رگ کو چھیڑ کر اپنی اہمیت جتائی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے اپنے پتے بہت مہارت سے کھیلے اور نسبتاً چھوٹا کرکٹ بورڈ ہوتے بھی اپنی اہمیت جتائی ہے۔
15 فروری 2026 کو جب انڈیا اور پاکستان کولمبو میں آمنے سامنے ہوں گے، تو یہ صرف کھیل کا میچ نہیں ہو گا۔ یہ وہ مقابلہ ہو گا جس نے پوری عالمی کرکٹ کو تباہی سے بچا لیا۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جدید کھیلوں کی دنیا میں، معاشیات اکثر سیاست سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
آئی سی سی کے لیے، یہ واقعی سکھ کا گہرا سانس ہے۔