ٹی 20 ورلڈ کپ: حکومت پاکستان نے گرین شرٹس کو انڈیا سے کھیلنے کی اجازت دے دی

حکومت پاکستان نے ایکس پر لکھا کہ کثیرالجہتی مشاورت اور دوست ممالک کی درخواستوں کے بعد حکومت قومی کرکٹ ٹیم کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ 15 فروری کو میدان میں اترے۔

انڈین کپتان سوریا کمار یادیو اور ان کے پاکستانی ہم منصب سلمان آغا 28 ستمبر، 2025 کو دبئی میں ایشیا کپ ٹی 20 کے فائنل میچ سے قبل ٹاس کے لیے میدان میں موجود ہیں (اے ایف پی)
 

حکومت پاکستان نے پیر کو اپنی قومی کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں روایتی حریف انڈیا سے کھیلنے کی اجازت دے دی۔

حکومت پاکستان کے ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف کو پی سی بی، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی مشاورت کے نتائج پر باضابطہ طور پر بریفنگ دی۔

بیان کے مطابق حکومت نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی پی سی بی کو ارسال کی گئی باضابطہ درخواستوں اور سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور دیگر رکن ممالک کی معاونانہ خط و کتابت کا تفصیلی جائزہ لیا۔

’ان مراسلات میں حالیہ چیلنجز کے حل کے لیے پاکستان کی قیادت سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت پاکستان نے بی سی بی کے صدر امین الاسلام کے بیان کا بھی نوٹس لیا اور ان کے گہرے تشکرانہ جذبات کو انتہائی گرمجوشی سے سراہا۔

اس کے علاوہ آج شام وزیر اعظم نے سری لنکا کے صدر انورا کمارا دِسانائیکے سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں سری لنکن صدر نے موجودہ تنازعے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے وزیر اعظم سے سنجیدہ غور کرنے کی درخواست کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ’کثیرالجہتی مشاورت کے نتائج اور دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ 15 فروری، 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ میں اپنے شیڈول میچ کے لیے میدان میں اترے۔‘

سری لنکا اور بنگلہ دیش کی پاکستان سے درخواست

اس سے قبل سری لنکا اور بنگلہ دیش نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ انڈیا کے خلاف میچ ضرور کھیلے۔

بنگلہ دیش کے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر انڈیا میں کھیلنے سے انکار کے بعد آئی سی سی نے 20 ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ پر بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا تھا۔

اس پر پاکستان نے بطور احتجاج 15 فروری کو شیڈول گروپ اے کے میچ میں شریک میزبان انڈیا کے خلاف کھیلنے سے انکار کر دیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان مقابلہ کرکٹ کے سب سے زیادہ منافع بخش میچوں میں شمار ہوتا ہے، جس سے نشریاتی حقوق، سپانسرز اور اشتہارات کی صورت میں کروڑوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

پاکستان کے میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈز کے عہدے داروں کے درمیان اتوار کی رات لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ملاقاتیں ہوئیں۔

تاہم چار گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ 

آج بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اپنے بیان میں حالیہ چیلنجز پر قابو پانے کی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرنے پر پی سی بی، آئی سی سی اور دیگر فریقوں سے دلی تشکر کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش خصوصی طور پر پی سی بی کے چیئرمین محسن رضا نقوی، ان کے بورڈ اور پاکستان کے کرکٹ شائقین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے۔

’اس عرصے کے دوران پی سی بی نے مثالی کھیل دوستی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔‘

بی سی بی کے صدر محمد امین الاسلام نے کہا ’اس دور میں بنگلہ دیش کی حمایت کے لیے پاکستان کی جانب سے معمول سے بڑھ کر کی جانے والی کوششوں نے ہمیں بے حد متاثر کیا۔ ہماری برادرانہ رفاقت یوں ہی قائم و دائم رہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’کل پاکستان کے اپنے مختصر دورے کے بعد اور ہماری بات چیت کے متوقع نتائج کے پیش نظر، میں پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ 15 فروری کو انڈیا کے خلاف آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ کھیلے، تاکہ پورے کرکٹ ایکو سسٹم کو فائدہ پہنچ سکے۔‘

بنگلہ دیش کے علاوہ سری لنکا نے بھی پاکستان سے میچ کھیلنے کی درخواست کی ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق سری لنکا کے صدر انورا کمارا نے آج پاکستان پر زور دیا کہ وہ انڈیا کے خلاف اپنا ٹی20 ورلڈ کپ میچ کھیلے۔

بیان کے مطابق سری لنکن صدر نے یہ بات وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا ’پاکستان نے دہشت گردی کے دور میں سری لنکن کرکٹ کی بھرپور حمایت کی۔‘

’پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ اپنی دیرینہ تعلقات کو ہر چیز پر فوقیت دی، اور پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دہشت گردی کے باوجود یہاں آ کر سلسلہ وار دورے جاری رکھے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے سری لنکن صدر کے جذبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مشکل وقت میں پاکستان نے سری لنکا کا ساتھ دیا، ویسے ہی کولمبو نے بھی ہمیشہ اسلام آباد کا ساتھ نبھایا اور پاکستان میں کرکٹ کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان اور انڈیا نے گذشتہ ایک دہائی سے دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی اور وہ صرف عالمی یا علاقائی ٹورنامنٹس میں ایک دوسرے کا سامنا کرتے ہیں۔
 
بنگلہ دیش پر جرمانہ نہ کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب آئی سی سی نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ اس کی پی سی بی اور بی سی بی کے ساتھ ’تعمیری اور خوشگوار ماحول‘ میں بات چیت کے بعد طے پایا ہے کہ ورلڈ کپ نہ کھیلنے پر بی سی بی پر کوئی مالی، کھیلوں یا انتظامی سزا عائد نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ بی سی بی کو ضرورت پیش آنے پر تنازعات کے حل کی کمیٹی (DRC) سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔

اسی طرح بنگلہ دیش کو 2028 سے 2031 کے درمیان آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی ملے گی۔

بیان کے مطابق آئی سی سی، پی سی بی، بی سی بی اور دیگر ممبرز نے کھیل کے بہترین مفاد میں مسلسل مکالمے، تعاون اور تعمیری روابط جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

’تمام سٹیک ہولڈرز متفق ہیں کہ اس مفاہمت کا مقصد کھیل کی دیانت داری کا تحفظ اور کرکٹ برادری کے اندر اتحاد برقرار رکھنا ہے۔‘

آئی سی سی چیف ایگزیکٹیو سنجوگ گپتا کا کہنا ہے ’آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلادیش کی عدم موجودگی افسوس ناک ہے، لیکن اس سے بنگلہ دیش کے لیے آئی سی سی کے مستقل عزم میں کوئی کمی نہیں آتی۔

’ہماری توجہ بی سی بی سمیت اہم سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کھیل کی پائیدار ترقی پر ہے تاکہ مستقبل میں کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

’بنگلہ دیش کرکٹ کا ایک اہم حصہ ہے جو طویل مدتی سرمایہ کاری کا مستحق ہے، اور قلیل مدتی رکاوٹیں اس کی اہمیت کو کم نہیں کرتیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ