پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہفتے کو انڈین میڈیا کے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پی سی بی نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان انڈیا میچ کے حوالے سے آئی سی سی سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔
پی سی بی کے ترجمان عامر میر کا کہنا ہے کہ ’تھوڑا سا صبر کریں وقت سب کچھ واضح کر دے گا۔‘
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہفتے کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پی سی بی کے ترجمان عامر میر کا بیان پوسٹ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’میں انڈین سپورٹس صحافی وکرانت گپتا کے اس دعوے کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہوں کہ پی سی بی نے آئی سی سی سے رجوع کیا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’حسبِ معمول انڈین میڈیا کے کچھ حلقے من گھڑت کہانیاں پھیلانے میں مصروف ہیں۔ تھوڑا سا صبر اور وقت سب کچھ واضح کر دے گا کہ دراصل کس نے رابطہ کیا اور کس نے نہیں۔‘
"I categorically reject the claim by Indian sports journalist Vikrant Gupta that PCB approached the ICC. As usual, sections of Indian media are busy circulating fiction. A little patience and time will clearly show who actually went knocking and who didn’t."
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) February 7, 2026
PCB Spokesperson Amir…
اس سے قبل انڈین سپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے اپنی ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا پاکستان ورلڈ کپ میچ کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے باضابطہ مذاکرات کے لیے رابطہ کر لیا ہے، جب کہ آئی سی سی نے پی سی بی کے سرکاری خط کا جواب دے دیا ہے۔‘
وکرانت گپتا نے لکھا تھا کہ ’ذرائع کے مطابق، پی سی بی نے پہلے آئی سی سی کو خط لکھا تھا جس میں اس میچ سے دستبرداری کا عندیہ دیتے ہوئے ’فورس میجور‘ کا حوالہ دیا گیا تھا اور اس کے ساتھ حکومتی ٹویٹ بھی منسلک کی گئی تھی۔
’اس کے جواب میں آئی سی سی نے پی سی بی کو لکھے گئے خط میں وضاحت طلب کی کہ وہ ’فورس میجور‘ کے تحت کن عوامل کو بنیاد بنا رہے ہیں، ساتھ ہی آئی سی سی نے پی سی بی کو ممکنہ قانونی نتائج اور پابندیوں سے بھی آگاہ کیا جو عائد کی جا سکتی ہیں۔‘
BIG BREAKING: PCB has now reached out to ICC for a dialogue on the India-Pakistan World Cup after the ICC replied to their official communication: PCB first wrote to ICC saying they were pulling out of that game implying the ‘Force Majeure’, attaching their Govt’s tweet.
— Vikrant Gupta (@vikrantgupta73) February 7, 2026
The ICC…
وکرانت گپتا کے مطابق:’ اس پیش رفت کے بعد، پی سی بی نے اب آئی سی سی سے بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے، تاکہ اس مسئلے کا کوئی قابلِ قبول حل نکالا جا سکے۔ مزید تفصیلات کے لیے نظر رکھیں — یہ معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکومت پاکستان نے یکم فروری کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستانی ٹیم کو شرکت کی اجازت دیتے ہوئے انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سامنے آیا تھا۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 جو سات فروری سے انڈیا اور سری لنکا میں شروع ہو چکا ہے، کے دوران میچز کے لیے اپنی ٹیم انڈیا بھیجنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد پاکستان نے بنگلہ دیش کے اس موقف کی حمایت کی تھی۔
تاہم آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا اور بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کا حصہ بنا دیا۔
جس کے بعد پاکستان نے بنگلہ دیش کی حمایت میں ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں شرکت پر غور کرنے کا اعلان کیا تھا۔