ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
تاہم الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب مشرق وسطیٰ کے سمندر میں طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں امریکی بحری بیڑہ موجود ہے۔
امریکی اور ایرانی وفود نے مسقط میں عمان کی ثالثی میں اعلانیہ طور پر آمنے سامنے آئے بغیر بات چیت کی۔
مذاکرات ختم ہونے کے کچھ ہی دیر بعد امریکہ نے جہاز رانی کی کمپنیوں اور جہازوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا، جن کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اس اقدام کا تعلق ان مذاکرات سے تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا تھا کہ واشنگٹن کی ایران سے ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے انٹرویو میں مزید کہا کہ ایران اپنی سلامتی پر کسی بھی قسم کے حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران پر حملہ ہوا تو ہم خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، تاہم پڑوسی ممالک کو اس تنازع میں گھسیٹنے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ فوجی اڈوں اور ہمسایہ ریاستوں کے درمیان واضح فرق ہے اور ایران اپنی جوابی کارروائی صرف جارحیت کرنے والوں تک محدود رکھے گا۔
عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ خطے میں جنگ کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، تاہم ایران امن کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے جوہری مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ بالواسطہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں مسقط میں ہوئے، جن میں فریقین نے اپنے مؤقف ایک دوسرے تک پہنچائے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اپنے دفاعی میزائل پروگرام پر کسی قسم کے مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا، کیونکہ یہ قومی سلامتی کا اہم جزو ہے۔
جون 2024 میں اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی شمولیت اور ایٹمی تنصیبات پر حملوں کے بعد سے مسقط میں یہ دونوں حریفوں کے درمیان یہ پہلے مذاکرات تھے۔
دوسری جانب عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ سفارتی حلقے دونوں ممالک پر تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔