ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی: ٹرمپ

مسقط میں امریکہ، ایران مذاکرات کے بعد امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگلے ہفتے پھر بات چیت ہو گی۔ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج سنگین ہوں گے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چھ فروری 2026 کو پام بیچ، فلوریڈا جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

مسقط میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ واشنگٹن کی ایران سے ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

دوسری جانب ایران نے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع رکھتا ہے اور اس نے خلیجی ریاست میں ہونے والے ایک روزہ مذاکرات کے دوران ’مثبت ماحول‘ کو سراہا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب مشرق وسطیٰ کے سمندر میں طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں امریکی بحری بیڑہ موجود ہے۔

امریکی اور ایرانی وفود نے مسقط میں عمان کی ثالثی میں اعلانیہ طور پر آمنے سامنے آئے بغیر بات چیت کی۔

مذاکرات ختم ہونے کے کچھ ہی دیر بعد امریکہ نے جہاز رانی کی کمپنیوں اور جہازوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا، جن کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اس اقدام کا تعلق ان مذاکرات سے تھا۔

جون 2024 میں اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی شمولیت اور ایٹمی تنصیبات پر حملوں کے بعد سے دونوں حریفوں کے درمیان یہ پہلے مذاکرات تھے۔

ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مار اے لاگو جاتے ہوئے طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں کو بتایا: ’ہماری ایران کے حوالے سے بہت اچھی بات چیت ہوئی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اگلے ہفتے کے شروع میں دوبارہ ملنے والے ہیں۔‘

تاہم واشنگٹن کی جانب سے نئی فوجی کارروائی کے عندیے اور ایران کی طرف سے مزید دھمکیوں کے خلاف خبردار کیے جانے پر ٹرمپ نے کہا: ’اگر انہوں نے معاہدہ نہ کیا تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے۔‘

مسقط میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات ’مکمل طور پر‘ ایران کے جوہری پروگرام پر مرکوز تھے، جس کے بارے میں مغرب کا خیال ہے کہ اس کا مقصد ایٹم بم بنانا ہے، لیکن تہران کا اصرار ہے کہ یہ پروگرام پرامن ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے بااثر داماد جیرڈ کشنر کی قیادت میں امریکی وفد یہ بھی چاہتا تھا کہ عسکریت پسند گروپوں کے لیے تہران کی حمایت، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مظاہرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔

عباس عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’بہت ہی مثبت ماحول میں ہمارے دلائل کا تبادلہ ہوا اور دوسرے فریق کے خیالات ہمیں بتائے گئے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین نے ’مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔‘

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا سے بات کرتے ہوئے عباس عراقچی نے اس امید کا اظہار کیا کہ واشنگٹن ’دھمکیوں اور دباؤ‘ سے باز رہے گا تاکہ ’مذاکرات جاری رہ سکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ