پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی بڑھتی ہوئی کارروائیاں روکنے پر مجبور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے اتوار کو ایسے اقدامات کی منظوری دی جو مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط بنائیں گے اور فلسطینی علاقوں میں مزید بستیوں کی توسیع کی راہ ہموار کریں گے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ سے پیر کو ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کے غیر قانونی الحاق کو سختی سے کالعدم قرار دیتے ہوئے‘ کہا گیا کہ ایسے ’اقدامات بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔’
پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے ان غیر قانونی فیصلوں اور اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جو ’مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے، بستیوں کے قیام کو مضبوط بنانے اور ایک نئی قانونی و انتظامی حقیقت نافذ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جس سے غیر قانونی الحاق کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔‘
ان تمام آٹھ مسلم ممالک نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری نہیں۔
اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کے تسلسل سے خطے میں تشدد اور تنازع کو ہوا مل رہی ہے۔
انہوں نے ان ’غیر قانونی اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، دو ریاستی حل کو نقصان پہنچاتے ہیں اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد و خودمختار ریاست کے قیام، جس کا دارالحکومت مقبوضہ یروشلم ہو، پر حملہ ہیں۔‘
ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کی جاری کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’مقبوضہ مغربی کنارے میں یہ غیر قانونی اقدامات کالعدم اور باطل ہیں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، خصوصاً قرارداد 2334، کی واضح خلاف ورزی ہیں، جو 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی یروشلم کی آبادیاتی ساخت، کردار اور حیثیت کو تبدیل کرنے کے اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتی ہے۔‘
اعلامیے میں 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں اور اس کی مسلسل موجودگی کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی منسوخی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرے اور اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ’خطرناک کشیدگی اور اس کے عہدیداروں کے اشتعال انگیز بیانات روکنے پر مجبور کرے۔‘
اعلامیے میں مسلم ممالک نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق، حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی تکمیل، بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن اقدام کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر، ہی منصفانہ اور جامع امن کا واحد راستہ ہے جو خطے میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے۔