اسلام آباد حملے کے بعد پاکستانی وزیر دفاع کا اسرائیل پر عسکری پراکسیز کی حمایت کا الزام

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کو کہا کہ ہمارے خطے کے اندر اور اس کے اردگرد سرگرم زیادہ تر ’دہشت گرد گروہوں کا تعلق اسرائیل سے ہے۔‘

ایک خاتون 6 فروری 2026 کو اسلام آباد میں ایک ہسپتال کے باہر اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کی مسجد میں خودکش بم دھماکے کے بعد اپنے رشتہ دار کی موت پر رو رہی ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ایک جان لیوا خودکش حملے کے بعد پیر کو الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل پراکسیز کی حمایت اور پشت پناہی کر رہا ہے، جو اس خطے میں عسکریت پسند حملوں میں سرگرم ہیں۔

6 فروری کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد پر خودکش حملے میں کم از کم 31 افراد جان سے گئے جبکہ لگ بھگ 170 افراد زخمی بھی ہوئے۔

پاکستان کو بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا سامنا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔ 

حالیہ برسوں میں اسلام آباد میں ہونے والا یہ جان لیوا ترین حملہ تھا اس سے قبل نومبر 2025 میں وفاقی دارالحکومت کی ضلعی کچہری کے باہر خودکش حملے میں 12 افراد جان سے گئے تھے۔

خواجہ آصف نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر The Resonance (@Partisan_12) نامی صارف کے پیغام کو دوبارہ پوسٹ کیا اور لکھا کہ ’’آلہ کار (پراکسیز) سرپرستوں پر حملہ نہیں کرتے کیوں کہ ان کی وفاداری ان کے ساتھ ہوتی ہے۔‘

خواجہ آصف نے اپنے پیغام میں اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خود کش حملے کا ذکر تو نہیں کیا ان کا اشارہ بہت واضح ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خطے کے اندر اور اس کے اردگرد سرگرم زیادہ تر دہشت گرد گروپوں کا تعلق اسرائیل کے ساتھ ہے۔‘

The Resonance کی پوسٹ میں مشرق وسطیٰ کے نقشے کی تصویر لگائی گئی ہے جس میں اسرائیل کے علاوہ خطے کے دوسرے کئی ممالک کے ناموں کے گرد سرخ دائرے لگائے گئے ہیں۔

اس پوسٹ پر صرف ایک فقرہ درج ہے: ’یاد دہانی: اسرائیل کے آس پاس کے ہر ملک پر داعش نے حملہ کیا ہے۔‘  

اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری ’دہشت گرد‘ تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

پاکستانی حکام نے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ اس کے تانے بانے بھی افغانستان سے ملتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’سب سے اچھی بات یہ ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا داعش کا ماسٹر مائنڈ بھی پکڑا گیا ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق ’اس سارے واقعے کی منصوبہ بندی اور ٹریننگ داعش افغانستان نے کی ہے اور افغانستان کے اندر ہوئی ہے۔‘

پاکستان کا الزام رہا ہے کہ انڈیا کے حمایت یافتہ ’دہشت گرد‘ افغانستان میں سرگرم ہیں جہاں سے وہ پاکستانی علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تاہم افغانستان اس کی تردید کرتا ہے۔

بڑھتے ہوئے عسکریت پسند حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں اور اکتوبر 2025 سے پاکستان نے افغانستان سے اپنے سرحدی راستے بند کر رکھے ہیں۔

پاکستان کی قیادت اس سے قبل اسرائیل کو غزہ میں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کو مرتکب ٹھہراتے ہوئے اس کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر چکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا