علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے پاکستانی قیادت تہران پہنچ گئی

 پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم جمعے کو تہران پہنچے ہیں جہاں وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کریں گے۔

تین جولائی، 2026 کو وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سرکاری دورے پر ایران روانہ ہوتے ہوئے نورخان ایئربیس پر اپنے وفد کے ہمراہ(وزیراعظم آفس)

 پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم جمعے کو تہران پہنچے ہیں جہاں وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کریں گے۔

ایرانی میڈیا اداروں کی جانب سے پوسٹ کردہ ویڈیوز اور تصاویر میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دیگر پاکستانی وزرا کے ہمراہ تہران کے ہوائی اڈے پر دیکھا جا سکتا ہے جہاں ان کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اور دیگر حکام نے کیا۔

تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک ایران کے سپریم لیڈر رہنے والے علی خامنہ ای کو  28 فروری 2026 کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے روز ہی قتل کر دیا گیا تھا۔
 
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی میت جمعے کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ پہنچا دی گئی، جہاں ان کی نماز جنازہ اور آخری رسومات کی تیاریاں جاری ہیں۔
 
جنگ کے دوران مؤخر ہونے والی عوامی تدفین کی تقریب کی تیاریاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران اور امریکہ، جنگ بندی کے ایک نازک مرحلے پر ہیں اور دونوں ممالک نے تنازع ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
 
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تقریباً 30 ممالک کے نمائندوں کی اس جنازے میں شرکت متوقع ہے، جبکہ عراق، افغانستان اور پاکستان سمیت پڑوسی ممالک سے بھی لوگ ایران پہنچ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


 تہران کے مرکزی مذاکرات کار اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام ایرانی عوام اپنی بھرپور شرکت کے ذریعے اسلامی ایران کی تاریخ میں ایک شاندار باب رقم کریں۔‘
 
ایران میں سرکاری حکام کے مطابق ان کی آخری رسومات میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جو ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری جنازہ ثابت ہو سکتا ہے۔
 
حکام نے ہفتے سے پیر تک تہران میں تمام سرکاری و نجی دفاتر بند رکھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ ٹریفک پابندیوں کے باعث شہر کا بڑا مرکزی حصہ نجی گاڑیوں کے لیے بند رہے گا۔
 
تہران کی فضائی حدود جمعہ سے جزوی جبکہ پیر کے روز مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی۔
 
تہران میں رسومات مکمل ہونے کے بعد علی خامنہ ای کی میت کو عراق کے شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد 9 جولائی کو ان کی تدفین شمال مشرقی ایرانی شہر مشہد میں حضرت امام رضا کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی، جو ان کی جائے پیدائش بھی ہے۔
 
یہ ابھی واضح نہیں کہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، جو سپریم لیڈر بننے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، تہران میں مرکزی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا