پاکستانی وزیراعظم ترکی میں، تجارت اور علاقائی سکیورٹی پر مذاکرات متوقع

وزیراعظم شہباز شریف ترک صدر کی دعوت پر استنبول پہنچے ہیں جہاں وہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سکیورٹی سمیت مختلف امور پر مذاکرات کریں گے۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف 3 جولائی 2026 کو استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد ترکی کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے مصافحہ کر رہے ہیں (ایکس، حکومت پاکستان)

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر جمعے کو دو طرفہ سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گئے۔ 

وہ پاکستان - ترکی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی امن و سلامتی سمیت مختلف امور پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کریں گے۔

استنبول کے ہوائی اڈے پر وزیر اعظم کا استقبال وزیر تجارت ترکی پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات، ترکی میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید اور ترکی کی وزارت خارجہ کے حکام نے کیا۔

وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔

حکومت پاکستان کے ایکس اکاؤنٹ پر موجود بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور ترکی کے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہو گا، جبکہ خصوصی توجہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر مرکوز رہے گی۔

دونوں رہنما خطے میں امن و سلامتی سے متعلق امور پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔

اپنے دورہ استنبول کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ ایک بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس میں خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کو اجاگر کیا جائے گا۔

کانفرنس میں ترکی کے ممتاز کاروباری رہنما، سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام اور دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔

وزیر اعظم شہباز شریف جمعے کو آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے بعد تہران سے استنبول کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی۔

وزیراعظم نے پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکومتی حکام شامل تھے۔

وزیراعظم نے مسعود پزشکیان اور ایران کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

سینیٹ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد، ارکانِ پارلیمان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی وزیراعظم کے ہمراہ جنازے میں شرکت کی۔

تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک ایران کے سپریم لیڈر رہنے والے علی خامنہ ای کو  28 فروری 2026 کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے روز ہی قتل کر دیا گیا تھا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی میت جمعے کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ پہنچا دی گئی تھی جہاں ان کی نماز جنازہ اور آخری رسومات ادا کی گئیں۔

جنگ کے دوران مؤخر ہونے والی عوامی تدفین کی تقریب کی تیاریاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران اور امریکہ، جنگ بندی کے ایک نازک مرحلے پر ہیں اور دونوں ممالک نے تنازع ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تقریباً 30 ممالک کے نمائندوں کی اس جنازے میں شرکت متوقع ہے، جبکہ عراق، افغانستان اور پاکستان سمیت پڑوسی ممالک سے بھی لوگ ایران پہنچ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


 تہران کے مرکزی مذاکرات کار اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام ایرانی عوام اپنی بھرپور شرکت کے ذریعے اسلامی ایران کی تاریخ میں ایک شاندار باب رقم کریں۔‘

ایران میں سرکاری حکام کے مطابق ان کی آخری رسومات میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جو ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری جنازہ ثابت ہو سکتا ہے۔

حکام نے ہفتے سے پیر تک تہران میں تمام سرکاری و نجی دفاتر بند رکھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ ٹریفک پابندیوں کے باعث شہر کا بڑا مرکزی حصہ نجی گاڑیوں کے لیے بند رہے گا۔

تہران کی فضائی حدود جمعہ سے جزوی جبکہ پیر کے روز مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی۔

تہران میں رسومات مکمل ہونے کے بعد علی خامنہ ای کی میت کو عراق کے شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد 9 جولائی کو ان کی تدفین شمال مشرقی ایرانی شہر مشہد میں حضرت امام رضا کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی، جو ان کی جائے پیدائش بھی ہے۔

یہ ابھی واضح نہیں کہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، جو سپریم لیڈر بننے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، تہران میں مرکزی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا