پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے ایران امریکہ مذاکرات سے متعلق کہا ہے کہ ’پاکستان نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں اور اہم فریقین کے ساتھ اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر سنجیدہ پیش رفت اور عمل درآمد کو ممکن بنایا جا سکے یہ کوشش 21 جون کو پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان کے مطابق جاری ہے۔‘
طاہر اندرابی کے مطابق اسی سلسلے میں ’پاکستان اور قطر نے گذشتہ روز دوحہ میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے کیے اور امریکی و ایرانی مذاکراتی وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں رات گئے تک جاری رہیں اور آج صبح کے اوقات تک اختتام پذیر ہوئیں۔‘
اس ضمن میں ترجمان نے کہا کہ ’وہ تین اہم نکات کو اجاگر کرنا چاہیں گے۔ اول یہ کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مختلف پہلوؤں پر مثبت پیش رفت ہوئی، جو گذشتہ سربراہی ملاقات میں طے پانے والی مفاہمت کی بنیاد پر آگے بڑھائی گئی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’دونوں فریقین نے آئندہ دنوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اور تیسرا یہ کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین اور سوگ کی تقریبات کے بعد اگلے اجلاس کی تاریخ جلد از جلد طے کی جائے گی۔‘
ترجمان کے مطابق ’پاکستان اپنے قطری شراکت داروں کے ساتھ مل کر مذاکراتی عمل میں سہولت کار اور ثالث کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ’ان مذاکرات میں ثالث کے طور پر ہمارا کردار بدستور ضبط اور مکالمے کے تسلسل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس بات کو مثبت سمجھنا چاہیے کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ’جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مرحوم سپریم لیڈر کی تدفین اور سوگ کی تقریبات کے بعد آئندہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فریقین اب بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں اور بات چیت کا عمل تعطل کا شکار نہیں ہوا، مذاکرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔‘
طاہر اندرابی نے کہا کہ ’مذاکرات کے دوران اختلافات اور موقف میں فاصلے موجود ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ ہر مذاکرات کے دور کے بعد فریقین واپس جا کر غور و فکر کرتے ہیں اور اگلے مرحلے کی تیاری کرتے ہیں، اس لیے مذاکراتی عمل جاری رہنا بذات خود ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘
ترجمان نے مذاکرات کے اسلام آباد میں منعقد ہونے سے متعلق کہا کے ’میں مستقبل میں مذاکرات کے اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کر سکتا۔ ہم یقینا ایسے کسی بھی موقع کا خیرمقدم کریں گے، تاہم اس مرحلے پر میرے پاس اسلام آباد کو میزبان مقام کے طور پر منتخب کیے جانے کے حوالے سے کوئی مخصوص معلومات نہیں ہیں۔‘
وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکی کا دورہ کریں گے: دفتر خارجہ
ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ کہ وزیر اعظم شہباز شریف تین سے پانچ جولائی تک ایران اور ترکی کا سرکاری دورہ کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ’وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزرا اور اعلی سرکاری حکام بھی ہوں گے۔ شہباز شریف پہلے ایران جائیں گے، جہاں وہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔‘
ان کے مطابق ’وزیراعظم پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کریں گے۔ وہ اس غم کے وقت میں برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ بھی کریں گے۔‘
طاہر اندرابی نے بریفنگ کے دوران کہا کہ اس کے بعد وزیراعظم، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول جائیں گے جہاں وہ دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ استنبول میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم ایک کاروباری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس کا مقصد پاکستان کی معاشی طاقت اور سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔ اس کانفرنس میں خصوصی اقتصادی زونز (SEZs)، توانائی، تجارت، آئی ٹی اور نجکاری سمیت ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پیش کیے جائیں گے۔
افغانستان میں مستند انٹیلی جنس معلومات پر کارروائی کی گئی: دفتر خارجہ
افغانستان کے حوالے سے طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ’حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد ہم نے مخصوص اہداف پر کارروائیاں کیں، جو ہدف اور مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق ’یہ تمام کارروائیاں قابل اعتماد انٹیلی جنس معلومات اور درست نشانہ بندی کی بنیاد پر کی گئیں۔ اس دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد اور تباہ کیا گیا۔ اور اہداف کے انتخاب میں مکمل احتیاط برتی گئی۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’ہم نے صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا اور ہماری معلومات کے مطابق مارے جانے والے تمام 29 افراد مختلف دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھتے تھے۔‘
انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور پاکستان کے اندر اور باہر موجود دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک ہماری انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔‘
طاہر اندرابی نے کہا ’جہاں تک افغانستان سے ڈرون حملوں کا تعلق ہے، آئی ایس پی آر اس حوالے سے ایک مفصل پریس ریلیز جاری کر چکا ہے، لہذا ان کے پاس اس میں مزید اضافہ کرنے کے لیے کچھ نہیں۔
’البتہ یہ ابتدائی نوعیت کے ڈرون تھے جو افغانستان کی جانب سے سرحد پار بھیجے گئے۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور معاونت کا حصہ تھے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے فضائی دفاعی نظام نے انہیں بروقت شناخت کیا، جس سے ہماری اعلی سطح کی آپریشنل تیاری کا پتہ چلا اور تمام ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔
’اگر اس نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائیاں، یا حالیہ دہشت گرد حملوں جیسے واقعات جاری رہے تو پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل اپنے حق دفاع کے مطابق مناسب اور موثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘