ایران امریکہ مذاکرات، پاکستان پرامید انداز میں عمل میں شریک: دفتر خارجہ

پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل اب بھی جاری ہے اور اسلام آباد اس عمل میں ’مثبت اور پرامید‘ انداز میں شریک ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی 14 مئی 2026 کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران (وزارت خارجہ فیس بک اکاؤنٹ)

پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل اب بھی جاری ہے اور اسلام آباد اس عمل میں ’مثبت اور پرامید‘ انداز میں شریک ہے۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں دونوں فریقین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملے اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے بعد پاکستان نے ثالثی کی کوششیں کیں۔

11 اور 12 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں پہلے سے جاری دو ہفتوں کے لیے سیز فائر میں توسیع ممکن ہو سکی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے 10 مئی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو ایران کی جانب سے (مستقل جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز) پر ’جواب موصول ہوا ہے، لیکن انہوں نے اس کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

جمعے کو بریفنگ کے بعد صحافیوں کی جانب سے کیے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ گذشتہ ہفتے ایک تجویز موصول ہوئی تھی جسے فوری طور پر دوسرے فریق تک پہنچا دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ’فی الحال معاملہ اسی مرحلے پر ہے۔‘

طاہر اندرابی نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا، تاہم پاکستان اس تاخیر سے مایوس نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’امن کا عمل برقرار ہے، ہم پرامید ہیں اور رابطے میں ہیں۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ امن کے عمل کو بڑھانا بنیادی طور پر دونوں مرکزی فریقین کی ذمہ داری ہے، جبکہ سہولت کاروں کا کردار مثبت ماحول برقرار رکھنا اور رابطے جاری رکھنا ہوتا ہے۔ ’ہمیں مثبت رہنا اور رابطے برقرار رکھنے چاہییں اور کسی بھی ممکنہ تاخیر سے حوصلہ شکن نہیں ہونا چاہیے۔‘

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ ایران دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور وہ ثالث پاکستان کو اپنے موقف سے آگاہ کر دے گا۔

مودی کا دورہ متحدہ عرب امارات

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ متحدہ عرب امارات کل (بروز جمعہ) متوقع ہے۔

 بریفنگ کے دوران اس حوالے سے سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان کے دفاعی تعلقات ہمارے ہمسایہ ملک کے کسی اور جگہ ایک وقتی دورے سے متاثر نہیں ہوتے۔ ہمارے دفاعی تعلقات بلکہ وسیع تر دوطرفہ سیاسی اور سفارتی تعلقات اپنی ایک الگ بنیاد، سمت اور ایک ادارہ جاتی مضبوطی رکھتے ہیں۔‘

ترجمان طاہر اندرابی نے مزید کہا: ’خلیجی اور مشرق وسطیٰ میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات کے حوالے سے ہم جو بھی فیصلے کرتے ہیں، وہ اپنے عوامل کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ ہمارے ہمسایہ ملک کے کسی مخصوص دورے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔‘

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے جبوتی کی دو رکنی ٹیم کا دورہ

21 اپریل کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں نے ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو اغوا کر لیا تھا، جس پر سوار 17 رکنی عملے میں 10 پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جنہیں قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے اس حوالے سے سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے جواب دیا: ’عملے کے ارکان کو اب بھی صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمال بنایا گیا ہے اور بدقسمتی سے ان کی رہائی ابھی تک یقینی نہیں بنائی جا سکی ہے۔ تاہم پاکستان کے سفارت خانے کی دو رکنی ٹیم، جو جِبوتی میں موجود ہے اور صومالیہ کے لیے بھی ذمہ دار ہے، گذشتہ ہفتے کے آخر میں موغادیشو گئی۔‘

طاہر اندرابی نے مزید کہا: ’یہ ٹیم پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت گئی تھی اور اس نے صومالی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور صومالی بحری و سمندری حکام کے ساتھ اہم ملاقاتیں کی ہیں۔‘

ان کے مطابق: ’ہمیں سب سے پہلے یہ بتایا گیا کہ پاکستانی عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور انہیں خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ حالانکہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ مشکل حالات میں موجود ہیں، لیکن کم از کم ہمیں ان کی سلامتی اور تحفظ کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’دوسری بات یہ بتائی گئی کہ قزاق براہ راست جہاز کے مالک کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ جہاز کا مالک مسلسل صومالی حکومتی حکام کو ان مذاکرات سے آگاہ رکھے ہوئے ہے۔ ہم نے متعلقہ حکام سے بھی بات کی جو اس معاملے میں رابطے میں ہیں۔‘

طاہر اندرابی نے اس نوعیت کے واقعات سے متعلق کہا کہ ’ایسے واقعات کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ قزاق، جو صومالی شہری ہیں، متاثرہ افراد کی حکومتوں سے مذاکرات نہیں کرتے۔ وہ صرف جہاز کے مالکان سے بات چیت کرتے ہیں، کیونکہ یہ مذاکرات تاوان کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہوتے ہیں۔‘

ترجمان نے کہا: ’لہذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حکومت پاکستانی قزاقوں سے براہ راست مذاکرات کر سکتی ہے یا کرے گی۔ ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی انسداد قزاقی کے طریقہ کار میں یہ شامل ہے، بدقسمتی سے یہ ایک طویل عرصے سے جاری مسئلہ ہے اور اس طرح کے کئی واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔‘

طاہر اندرابی نے کہا: ’ہم اپنے شہریوں کی حفاظت پر گہری تشویش رکھتے ہیں اور ان کی جلد رہائی کے خواہاں ہیں۔ ہم صومالی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اس معاملے پر انگیجمنٹ جاری رکھیں گے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ معاملہ ہمارے صومالیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں خصوصاً انسانی پہلو کے تناظر میں، انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم اس صورت حال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔‘

گذشتہ روز یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ نے کہا تھا کہ اگر حکومت نے ان کے اہل خانہ کی بازیابی کے معاملے پر فوری توجہ نہ دی تو وہ بچوں سمیت بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان