روس کے ایک سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے جمعرات کو کہا ہے کہ ماسکو افغانستان کی طالبان حکومت سے ’مکمل شراکت داری‘ قائم کر رہا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو بھی کابل کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔
روس گذشتہ سال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔ طالبان نے اگست 2021 میں اُس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج نے 20 سالہ جنگ کے بعد افغانستان سے انخلا کیا۔
انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق روسی عہدیدار سرگئی شوئیگو نے کہا کہ کابل کے ساتھ تعاون خطے کی سلامتی اور ترقی کے لیے اہم ہے۔
روس کی سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری شوئیگو نے کہا کہ ماسکو طالبان کے ساتھ ایک ’عملی اور حقیقت پسندانہ مکالمہ‘ قائم کر رہا ہے، جس میں سکیورٹی، تجارت، ثقافتی روابط اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون شامل ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں چین، انڈیا، ایران، پاکستان اور کئی سابق سوویت ریاستیں شامل ہیں۔
شوئیگو نے مزید کہا کہ ایس سی او کو افغانستان کے حوالے سے اپنا رابطہ گروپ دوبارہ فعال کرنا چاہیے۔
روس نے 2003 میں طالبان کو ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے کر کالعدم کیا تھا، تاہم اپریل 2025 میں یہ پابندی ختم کر دی گئی۔ روس کا ماننا ہے کہ افغانستان سے مشرق وسطیٰ تک سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خطرات کے پیش نظر کابل کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔