امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سرکاری دورے پر چین میں موجود ہیں، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی۔
اس دورے کی لائیو اپ ڈیٹس یہاں دیکھیے:
چین بوئنگ سے 200 طیارے خریدے گا: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ چین نے امریکی کمپنی بوئنگ سے 200 طیارے خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’چین نے پہلے 150 طیاروں کا آرڈر دینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 200 ہو گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ایک چیز جس پر آج اتفاق ہوا وہ یہ ہے کہ وہ (چین) 200 طیارے آرڈر کرے گا۔ بوئنگ کو 150 طیاروں کی امید تھی لیکن انہیں 200 کا آڈر مل گیا۔‘
اس سے قبل امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ بیجنگ میں ٹرمپ کے دورے کے دوران بوئنگ کو بڑے آرڈر کی توقع ہے۔
ٹرمپ شی سمٹ کے موقعے پر آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر نئے حملے
بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے موقعے پر آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر نئے حملے ہوئے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب صدر ٹرمپ اور صدر شی کی ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا چاہیے اور ایران کو ہرگز جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔
چین ایران کا قریبی شراکت دار اور اس کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
بیجنگ میں سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ چین آبنائے کو کھولنے میں مدد کے لیے ’جو ممکن ہو گا کرے گا‘، کیونکہ یہ خود اس کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔
تازہ ترین واقعے میں افریقہ سے متحدہ عرب امارات مویشی لے جانے والا ایک انڈین کارگو جہاز جمعرات کو عمان کے ساحل کے قریب پانیوں میں ڈبو دیا گیا۔
انڈٰیا نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کے تمام 14 عملے کے ارکان کو عمانی کوسٹ گارڈ نے بحفاظت بچا لیا۔.
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی کمپنی وینگارڈ کے مطابق جہاز کو میزائل یا ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس سے دھماکہ ہوا۔
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ’یو کے ایم ٹی او‘ نے رپورٹ کیا کہ یواے ای کی بندرگاہ فجیرہ کے قریب لنگر انداز ایک جہاز پر ’غیر مجاز افراد‘ سوار ہو گئے اور اسے ایران کی جانب لے جا رہے ہیں۔
یہ علاقہ سکیورٹی کے لحاظ سے نہایت حساس ہے، کیونکہ فجیرہ آبنائے ہرمز کے پار متحدہ عرب امارات کی واحد آئل پورٹ ہے، جہاں سے کچھ برآمدات بغیر آبنائے سے گزرے عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتی ہیں۔
ایران نے گذشتہ ہفتے جاری کیے گئے ایک نقشے میں اس ساحلی علاقے کو بھی اپنی کنٹرول میں آنے والے پانیوں میں شامل کیا ہے۔ (روئٹرز)
صدر ٹرمپ شی جن پنگ کو دورہ امریکہ کی دعوت
At the State Banquet, President Donald J. Trump invites President Xi to the White House this September. pic.twitter.com/VQ9GAoUELj
— The White House (@WhiteHouse) May 14, 2026
عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی چینی ہم منصب شی جن پنگ کو رواں سال ستمبر میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی۔
صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’کچھ لوگوں کے مطابق یہ ملاقات بہت سے بڑی سربراہی ملاقات ہو سکتی ہے۔‘
چین دنیا کے لیے دروازے مزید کھولنے کے لیے تیار: چینی صدر
اے ایف پی کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو بیجنگ میں امریکہ چین مذاکرات کے دوران امریکی کاروباری شخصیات کے وفد کو بتایا کہ چین دنیا کے لیے ’مزید دروازے کھولے گا۔‘
چینی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر شی نے کہا کہ ’بیرونی دنیا کے لیے چین کے دروازے مزید کھلتے جائیں گے اور امریکی کمپنیوں کو چین میں مزید روشن امکانات میسر آئیں گے۔‘
چین علاقائی سلامتی کے لیے ’واحد خطرہ‘: تائیوان
چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو اس انتباہ کے بعد کہ تائیوان کا مسئلہ تنازعے کا سبب بن سکتا ہے، تائیوان کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے چین ’واحد خطرہ‘ ہے۔
اے ایف پی کے مطابق وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’بیجنگ حکام اس وقت علاقائی امن اور استحکام کے لیے واحد خطرہ ہیں۔‘
بیان میں تائیوان اور خطے کے ارد گرد چین کی ’فوجی ہراسانی‘ اور گرے زون سرگرمیوں کو بطور ثبوت اجاگر کرتے ہوئے مزید کہا گیا کہ ’بیجنگ کو بین الاقوامی سطح پر تائیوان کی جانب سے کوئی بھی دعویٰ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔‘
چینی وزارت خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ بیجنگ میں امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان مشرق وسطیٰ کی صورت حال سمیت اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیجنگ کی ایک اہم ملاقات میں دنیا کی دو بڑی طاقتوں، امریکہ اور چین کے رہنماؤں نے ایسے مسائل پر گفتگو کی جو عالمی امن کے لیے نہایت حساس سمجھے جاتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ آمنے سامنے بیٹھے تو ماحول میں سنجیدگی واضح محسوس ہو رہی تھی۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، یوکرین جنگ اور کورین جزیرہ نما کے تنازعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ یہ وہ خطے ہیں جہاں چھوٹا سا واقعہ بھی بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران سب سے حساس موضوع تائیوان کا تھا۔ چین اسے اپنا حصہ سمجھتا ہے جبکہ تائیوان خود کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دیکھتا ہے۔
اس معاملے پر شی جن پنگ نے نہایت واضح اور سخت موقف اپنایا۔ انہوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ اگر تائیوان کے مسئلے کو صحیح طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم بھی ہو سکتا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ ’تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں سب سے اہم ہے۔ اگر اس میں غلطی ہوئی تو یہ تعلقات کو انتہائی خطرناک صورتحال میں دھکیل سکتا ہے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل پہنچے جہاں چینی صدر نے ان کا استقبال کیا۔
امریکی صدر دو روزہ سربراہ ملاقات کے لیے بدھ کی رات گئے ایئر فورس ون پر چین پہنچے، ان کے ہمراہ اعلیٰ شخصیات بھی تھے جن میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ٹیسلا کے ایلون مسک شامل ہیں جو ان تجارتی معاہدوں کی علامت ہیں جنہیں طے کرنے کی ٹرمپ امید رکھتے ہیں۔
ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، سفید لباس میں ملبوس 300 چینی نوجوانوں نے ایک ساتھ ’خوش آمدید‘ کہا اور چھوٹے چینی اور امریکی پرچم لہرائے جبکہ صدر ہوا میں مکہ لہراتے ہوئے صدارتی طیارے کی سیڑھیوں سے نیچے اترے۔
چین: صدر ٹرمپ کی صدر شی سے ملاقات کے لیے گریٹ ہال آمد
جمعے کو ٹرمپ اور شی چائے پیئیں گے اور ورکنگ لنچ کریں گے جس کے بعد امریکی صدر واپس واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے۔ بیجنگ کا یہ دورہ چین تقریباً ایک دہائی میں کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے 2017 میں دورہ کیا تھا اور اس بار کے برعکس تب ان کی اہلیہ میلانیا بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پہلے دورے کے بعد ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر ٹیرف اور پابندیوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ انہوں نے گذشتہ سال وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد بھی ایسا ہی کیا جس سے ایک تجارتی جنگ چھڑ گئی، تاہم اکتوبر میں شی اور ٹرمپ ایک عارضی صلح پر رضامند ہو گئے۔
’بڑا معانقہ‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ شی کی جانب سے ایک ’بہت بڑے معانقے‘ کی توقع کر رہے ہیں کیوں کہ انہیں چینی رہنما کے ساتھ اپنے اس تعلق پر بھروسہ ہے جسے وہ ایک مضبوط ذاتی تعلق سمجھتے ہیں، جن کے بارے میں انہوں نے تعریفی انداز میں کہا ہے کہ وہ چین پر ’آہنی ہاتھوں‘ سے حکومت کرتے ہیں۔
ٹیرف پر صلح؟
گذشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد، جس کے نتیجے میں جوابی ٹیکس 100 فیصد سے تجاوز کر گئے تھے، دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے سلگتی ہوئی تجارتی جنگ بھی ایجنڈے میں سر فہرست ہوگی۔
ٹرمپ اور شی ایک سالہ ٹیرف صلح میں توسیع پر بات چیت کریں گے، جو اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ان کی آخری ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان طے پائی تھی، اگرچہ کوئی معاہدہ طے پانا یقینی نہیں ہے۔