انڈونیشیا کے جزیرے فلورس پر ہفتے کو آنے والے طاقت ور زلزلے میں اموات کی تعداد 48 ہو گئی ہے جب کہ اتوار کو ہزاروں متاثرہ افراد امداد کے منتظر ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان نے انڈونیشیا کو تمام ممکنہ مدد کی پیش کش کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انڈونیشیا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے بی این پی بی کے ترجمان برٹن سوار پیلیتا پنجیتان نے بتایا کہ ہفتے کو علی الصبح جزیرے میں 7.7 شدت کا زلزلہ آنے کے بعد تقریباً 5000 افراد نے اپنے گھروں سے نقل مکانی کی، جس کے بعد آنے والے گھنٹوں میں 341 آفٹر شاکس آئے۔
زلزلے سے درجنوں افراد زخمی جب کہ سینکڑوں مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ کچھ علاقوں میں لوگ بجلی اور مواصلات سے محروم ہو گئے اور کم از کم ایک ہنگامی راستے تک رسائی ممکن نہ رہی۔
فلورس کے شمالی ساحل پر واقع گاؤں ننگاہلے کے رہائشی عمری نے اتوار کی صبح اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمیں خوراک، پینے کے پانی، ادویات اور بچوں کے لیے ڈائپرز کی ضرورت ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان کے صدر آصف زردار نے ہفتے کو ایکس پوسٹ میں انڈونیشیا میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’پاکستان کے عوام کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور اس مشکل گھڑی میں انڈونیشیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘
ساتھ ہی صدر پاکستان نے انڈونیشیا کو ہر ممکن مدد کی بھی پیشکش کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی انڈونیشیا کے جزیرہ فلورس پر زلزلے کی وجہ سے ہونے والی تباہی پر دکھ کا اظہار کیا۔ اپنی ایکس پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے وہ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، عوام اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا: ’ہماری ہمدردیاں اور دعائیں تمام متاثرین کے ساتھ ہیں، اور ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
’پاکستان انڈونیشیا کے برادر عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اس مشکل وقت کا سامنا کرنے والے تمام افراد کے لیے ہمت اور استقامت کی دعا کرتا ہے۔‘