انڈونیشیا کی جیل میں ڈبل بیڈز، ٹی وی اور سوئمنگ پول

سوئمنگ پول، جم اور ایئرکنڈیشنڈ رہائش گاہیں ملنے پر جیل چیف سمیت 5 اہلکار معطل۔

انڈونیشیا کے سکیورٹی اہلکار 22 جنوری 2019 کو بوگور کی گونونگ سندور جیل کے اطراف گشت کر رہے ہیں(اے ایف پی)

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے قریب ایک جیل میں چھاپے کے دوران ایئر کنڈیشنرز، بڑی سکرین والے ٹی وی اور سوئمنگ پول سے لیس اپارٹمنٹ طرز کا کمپاؤنڈ سامنے آنے کے بعد پانچ اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ مبینہ طور پر یہ سہولیات وی آئی پی قیدیوں کے لیے تھیں۔

انڈونیشیا کے محتسب کے ادارے کی جانب سے سیبنونگ کلاس ٹو اے جیل میں اچانک مارے گئے چھاپے کے دوران بعض قیدیوں کے لیے غیر متوقع آسائشیں سامنے آئیں، جس پر ملک میں حیرت اور جیلوں میں اشرافیہ کو حاصل خصوصی مراعات پر ایک بار پھر شدید ردعمل سامنے آیا۔

جکارتہ کے باہر واقع چار ہیکٹر (10 ایکڑ) پر محیط سیبنونگ جیل درمیانے سے اعلیٰ درجے کی سکیورٹی والی جیل ہے، جہاں سفید پوش جرائم میں ملوث افراد سمیت دیگر سنگین جرائم کے مرتکب افراد قید ہیں۔

محتسب کی ٹیم صحافیوں کے ہمراہ جیل پہنچی تو اس نے لکڑی کی باڑ سے گھرے ایک علاقے کو دیکھا اور اس کے بارے میں دریافت کیا۔

مبینہ طور پر محافظوں نے ابتدا میں انسپکٹرز کو وہاں جانے سے روکنے کی کوشش کی۔

جیل کے سربراہ کی رہائش گاہ کے پیچھے باڑ سے گھرے اس حصے میں داخل ہونے کے بعد ٹیم نے کم از کم 10 رہائشی یونٹس دیکھے، جہاں ایئر کنڈیشنر، صوفے، فریج، کھانے کے لیے جگہ اور گھریلو آلات موجود تھے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش کاروں کو کمپاؤنڈ کے اندر مہنگی گاڑیاں بھی ملیں، جن میں ٹویوٹا الفارڈ اور ٹویوٹا فورچونر شامل تھیں۔

تفتیش کاروں نے وہاں ایک سوئمنگ پول، جم اور گالف سمیولیٹر کی زیر تعمیر سہولت بھی دریافت کی۔

تفتیش کاروں کو ایک پچھلا راستہ بھی ملا جس کے ذریعے ملحقہ بانس کے جنگل اور کچرے کے ڈھیر سے گزرتے ہوئے لوگ سرکاری چیک پوسٹوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اندر یا باہر جا سکتے تھے۔

انڈونیشیا کے محتسب کے دفتر کی رکن سیافریدا رچماوتی راساہن نے منگل کو پارلیمانی سماعت کے دوران کہا ’اگر اسے نظامی طور پر درست نہ کیا گیا تو یہ مستقبل میں سامنے آنے والی بڑی خرابیوں کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ثابت ہوگا۔‘

انہوں نے کہا ’ہمیں واضح شواہد ملے ہیں کہ بعض قیدیوں کو ایسی خصوصی سہولیات تک رسائی حاصل تھی جو عام قیدیوں کو میسر نہیں تھیں۔‘

’ہمیں رہائشی کمپاؤنڈ کے اندر قیدی ملے اور ایسی سہولیات دریافت ہوئیں جو جیل کی رہائش گاہوں کے بجائے گھروں، اپارٹمنٹس اور ولاز سے مشابہ تھیں۔‘

اس انکشاف کے چند ہی دن بعد جیل کے سربراہ سمیت پانچ اعلیٰ حکام کو معطل کر دیا گیا۔ وزارتِ امیگریشن اور اصلاحات کے انسپکٹر جنرل رودی سیتیوان نے یہ بات بتائی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ درجنوں قیدیوں اور جیل کے عملے سے پوچھ گچھ کی گئی ہے جبکہ حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا قیدیوں نے رشوت دی تھی۔

اصلاحات کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ تحقیقات میں جیل کے کمپاؤنڈ کے اندر عملے کی 13 غیر رجسٹرڈ رہائش گاہوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

انڈونیشیا کے محتسب کے رکن فکری یاسین نے کہا کہ سیبنونگ کلاس ٹو اے جیل میں یہ دوسری مرتبہ تھا جب ٹیم کو داخلے سے روکا گیا۔

اس سے قبل ضروری کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے ٹیم کو واپس لوٹنا پڑا تھا۔

فکری نے کہا، ’تحقیقات اور معائنے کی کوشش کے دوران ٹیم کو دھکم پیل جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں محتسب کی ٹیم کے ایک رکن کی ٹانگ پھنس گئی۔‘

انہوں نے کہا، ’جتنا زیادہ انہوں نے ہمیں روکنے کی کوشش کی، اتنا ہی ہم نے پوچھ گچھ کی کہ آخر معاملہ کیا ہے۔

’پھر معلوم ہوا کہ اندر 10 سے زیادہ گھر موجود تھے۔ ہم نے وہاں رہنے والوں سے پوچھ گچھ کی اور انہوں نے بتایا کہ وہ قیدی ہیں۔‘

ماہانہ ’کرائے‘ کی رقم کروڑوں انڈونیشین روپیہ تک تھی، جبکہ سالانہ فیس ایک ارب انڈونیشین روپیہ تک پہنچتی تھی۔

انڈونیشی اخبار ریپبلیکا نے ذرائع کے حوالے سے الزام عائد کیا کہ یہ رقم جیل کے عملے اور بیوروکریسی کے اعلیٰ حکام میں تقسیم کی جاتی تھی۔

محتسب کے ادارے نے گذشتہ ہفتے دورے کے بعد جاری ایک سرکاری بیان میں کہا ’سیبنونگ جیل جیسی سہولیات اس سے پہلے کہیں اور نہیں دیکھی گئیں۔‘

ادارے نے بتایا کہ ایک قیدی نے حکام سے انٹرویو کے دوران ان یونٹس میں سے ایک میں رہنے کا اعتراف بھی کیا۔

یہ معاملہ انڈونیشیا کے نظام اصلاحات کے لیے تازہ شرمندگی کا باعث بنا ہے، جہاں گنجائش سے زیادہ قیدیوں، بدعنوانی اور منشیات کے استعمال جیسے مسائل بدستور حکام کے لیے چیلنج ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سکینڈل نے 2010 کے ایک سابقہ واقعے کی یاد تازہ کر دی ہے، جب انڈونیشیا کی ایک دوسری جیل میں دولت مند قیدی ایئر کنڈیشنڈ سوئٹس، نجی غسل خانوں، کراوکی رومز اور حتیٰ کہ ذاتی عملے کی سہولت سے لطف اندوز ہوتے پائے گئے تھے۔

ایک ویڈیو میں ایک کاروباری خاتون کے پرتعیش رہائشی حصے دکھائے گئے تھے، جسے پراسیکیوٹر کو رشوت دینے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

2018 کے ایک مقدمے میں ایک سرکاری ادارے نے انکشاف کیا تھا کہ بدعنوانی کے مقدمات میں قید بعض قیدیوں نے وی آئی پی رہائش حاصل کرنے کے لیے جیل کے محافظوں کو رقم ادا کی تھی۔

جمہوریہ انڈونیشیا کا محتسب ایک آزاد ریاستی ادارہ ہے جو عوامی خدمات کی انتظامیہ کی نگرانی کرتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا