اسرائیل: جیلوں میں قید فلسطینیوں کی بیرکوں کے گرد مگر مچھوں سے بھری خندقوں کا منصوبہ

اسرائیلی حکومت نے ایک ایسے قانون پر علمدرآمد شروع کر دیا ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں والی جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنائی جا سکتی ہیں۔

یکم جون 2023 کو غزہ کے ناما چڑیا گھر میں ایک مگرمچھ دیکھا جا سکتا ہے(تصویر: روئٹرز)

اسرائیلی حکومت نے ایک ایسے قانون پر علمدرآمد شروع کر دیا ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں والی جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنائی جا سکتی ہیں۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے قومی سلامتی کے وزیر إيتمار بن غفير کی اس متنازع تجویز پر عملدرآمد کی جانب ایک قانونی قدم اٹھایا ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو رکھنے والی جیلوں کے گرد مگرمچھوں سے بھری خندقیں بنائی جائیں گی۔

اسرائیل کے چینل 7 کے مطابق، ماحولیاتی تحفظ کی وزیر ایدیت سلمن نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت مگرمچھوں کو ’منظم جنگلی جانور‘ کے طور پر دوبارہ درجہ بندی کیا گیا ہے، جس سے سرکاری اداروں بشمول اسرائیلی جیل سروس کو مخصوص شرائط کے تحت انہیں اپنی تنصیبات میں رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔

براڈکاسٹر کے مطابق، اس اقدام سے ایک بڑی قانونی رکاوٹ دور ہو گئی ہے، کیونکہ اس سے قبل مگرمچھوں کو محفوظ جنگلی جانور قرار دیا گیا تھا اور انہیں صرف لائسنس یافتہ چڑیا گھروں میں ہی رکھا جا سکتا تھا۔

چینل 13 نے کہا کہ یہ قانونی تبدیلی اسرائیل نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی کے اعتراضات کے بعد کی گئی، جو اس مجوزہ منصوبے کے خلاف تھے۔ عبرانی میڈیا نے اس منصوبے کو ’مگرمچھ جیل‘ کا نام دیا ہے۔

بن غفير نے تقریباً چھ ماہ قبل یہ تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے ایک ایسی ہائی سیکیورٹی جیل بنانے کی بات کی تھی جس کے گرد مگرمچھوں سے بھری آبی گزرگاہیں ہوں تاکہ فلسطینی قیدیوں کی فرار کی کسی کوشش کو روکا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چینل 7 کے مطابق، اسرائیلی جیل سروس پہلے ہی اس منصوبے کے قابلِ عمل ہونے کا جائزہ لینا شروع کر چکی ہے، جس میں مگرمچھوں کی دیکھ بھال اور انہیں سنبھالنے کے تقاضوں کا مطالعہ کرنے کے لیے چڑیا گھروں کے دورے بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی چینل نے کہا کہ حکام کا خیال ہے کہ مگرمچھوں سے بھری خندقیں نگرانی کے اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ جیل کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔

 رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایک کم عمر مگرمچھ کی قیمت تقریباً 8 ہزار ڈالر جبکہ ایک بالغ مگرمچھ کی قیمت 20 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی جیل سروس کی جانب سے اس منصوبے یا اس کے نفاذ کے ممکنہ مقام کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

اس وقت تقریباً 9,500 فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی اور اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کو جن حالات میں رکھا جا رہا ہے ان میں بھوک، تشدد اور طبی سہولیات سے محرومی شامل ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں قیدی جان سے جا چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا