فلسطینیوں کو سزائے موت کا اسرائیلی ’امتیازی‘ قانون: آٹھ مسلم ممالک کی مذمت

پاکستان، ترکی، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قانون کو ’خطرناک پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

یکم اپریل 2026 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے علاقے نہر البرید میں بے گھر فلسطینیوں کے لیے ایک عارضی کیمپ میں لوگ خیمے کے باہر بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان اور سعودی عرب سمیت آٹھ مسلم ممالک نے جمعرات کو اسرائیل کے اس متنازع قانون کی مذمت کی ہے جس کے تحت اسرائیلیوں پر مہلک حملے میں مجرم قرار پانے والے فلسطینیوں کو سزائے موت (پھانسی) دی جا سکتی ہے۔

پاکستان، ترکی، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں اس قانون کو ’خطرناک پیش رفت‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیل نے پیر کو ایک نیا متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت اگر کوئی فلسطینی اسرائیلیوں پر مہلک حملے میں مجرم قرار پاتا ہے، تو اسے سزائے موت (پھانسی) دی جا سکتی ہے اور یہ سزا اب ’ڈیفالٹ‘ یعنی عام سزا ہوگی۔

اس قانون کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی رہنماؤں نے شدید مذمت کی تھی، جبکہ ناقدین کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور فطری طور پر امتیازی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے جمعرات کو آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں خبردار کیا کہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے امتیازی اور شدت اختیار کرتے اقدامات ایک ایسے نظام کو مضبوط کر رہے ہیں جو نسلی امتیاز پر مبنی ہے، اور ایک ایسا بیانیہ فروغ دے رہے ہیں جو فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق اور ان کے وجود ہی سے انکار کرتا ہے، جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’یہ قانون ایک خطرناک پیش رفت ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس کا اطلاق امتیازی طور پر فلسطینی قیدیوں پر کیا جا رہا ہے۔‘

اعلامیے میں وزرا نے اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کی حالت پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا، اور معتبر اطلاعات کے تناظر میں بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کی، جن میں مبینہ تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک، بھوک سے محرومی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا