سعودی عرب سمیت عرب ممالک کی شام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

سعودی عرب سمیت عرب ممالک نے ہفتے کو شامی فوج کے کیمپوں پر اسرائیلی حملوں کو ’جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

شامی سکیورٹی فورسز کا اہلکار 16 جولائی 2025 کو اسرائیلی حملوں کے بعد دمشق میں فوج اور وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو شامی فوج کے کیمپوں پر اسرائیل کے حملوں کو ’جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کرنے میں دیگر عرب ممالک اور ترکی کا ساتھ دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعے کو کہا تھا کہ اس نے صوبہ سویدا میں دروز برادری پر ہونے والے مبینہ حملوں کے جواب میں جنوبی شام پر حملہ کیا۔

اسرائیل نے گذشتہ سال فرقہ وارانہ تشدد کی جان لیوا لہر کے دوران شام پر بمباری کی تھی، اور کہا تھا کہ وہ اقلیتی گروہ کے دفاع کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مملکت ’کھلی اسرائیلی جارحیت جو بین الاقوامی قانون اور شامی خود مختاری کی صریح خلاف ورزی ہے‘ کی مذمت کرتی ہے۔

وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی قوانین اور روایات کی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیوں کو ختم کرائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قبل ازیں ترک وزارت خارجہ نے اسرائیلی حملے کو ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا تھا جسے روکا جانا چاہیے۔

مصر، اردن، قطر اور کویت نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، اور شام کی خود مختاری کو یقینی بنانے اور ایسے حملوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری کے کردار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دی سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے جمعرات کو رپورٹ دی تھی کہ صوبہ سویدا میں حکومتی دستوں کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم چار دروز جنگجو مارے گئے۔

آبزرویٹری نے کہا کہ بعد ازاں اسرائیلی گولہ باری سے سویدا شہر کے رہائشی علاقے نشانہ بنے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا