|
امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے: ایرانی وزارت خارجہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو پہلے سے زیادہ سخت بمباری کریں گے: ٹرمپ امید ہے آبنائے ہرمز سے متعلق فریقین عالمی برادری کی اپیلوں کو جلد سنیں گے: چین لائیو اپ ڈیٹس |
جنگ ختم کرنے کی تازہ ترین امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں: ایران
ایران نے کہا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کے حوالے سے امریکہ کی تازہ ترین تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ تہران نے ایکسیوس کی جانب سے رپورٹ کی گئی امریکی تجاویز کو ’سختی سے مسترد‘ کر دیا ہے، لیکن وہ اب بھی امریکہ کی تازہ ترین تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو بمباری کی ایک نئی لہر کی دھمکی دی ہے جب تک کہ کوئی ایسا معاہدہ طے نہ پا جائے جس میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہو۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ دو ماہ کی جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور تنازع کی وجہ سے متاثر ہونے والی تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار ایران کی جانب سے اس مبینہ معاہدے کو تسلیم کرنے پر ہے جس کی انہوں نے تفصیل نہیں بتائی۔
ٹرمپ نے لکھا، ’اگر وہ متفق نہیں ہوتے تو بمباری شروع ہو جائے گی۔‘
صدر نے کہا کہ ’ہم ایسے لوگوں سے نمٹ رہے ہیں جو معاہدہ کرنے کی بہت خواہش رکھتے ہیں، اور ہم دیکھیں گے کہ آیا وہ کوئی ایسا معاہدہ کر سکتے ہیں جو ہمارے لیے اطمینان بخش ہو۔‘
ایران امریکہ معاہدے کے امکان، ایشائی سٹاک مارکیٹوں میں تیزی
آبنائے ہرمز کھلنے کی امید پیدا ہونے کے بعد جمعرات کو ایشیا کی شیئر مارکیٹوں میں تیزی آئی ہے اور جاپان میں ٹوکیو کی بڑی مارکیٹ ایک دن کے اندر چھ فیصد تک بڑھ کر دن میں ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سرمایہ کار یہ دیکھنے کے منتظر رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں جس کے بعد فارسی خلیج سے تیل لے جانے والے بحری جہاز دوبارہ آسانی سے خام تیل پہنچا سکیں۔ اسی دوران امریکی سٹاک مارکیٹ میں بھی ہلکا سا اضافہ دیکھا گی
ٹوکیو میں گولڈن ویک کی چھٹیوں کے بعد مارکیٹیں دوبارہ کھلیں تو سٹاک مارکیٹ 3500 سے زیادہ پوائنٹس بڑھ کر 63086 پر جا پہنچی یہ انڈیکس گذشتہ تین مہینوں میں تقریباً 20 فیصد اور گذشتہ ایک سال میں 70 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، جس کی بڑی وجہ ٹیکنالوجی کے شیئرز کی مضبوط خریداری بتائی گئی ہے۔
جاپان میں ٹوکیو الیکٹران کے شیئرز 8.8 فیصد بڑھے، ایڈوان ٹیسٹ کے شیئرز میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا اور شن اتسو کیمیکل کے شیئرز 9.7 فیصد اوپر گئے۔ ایشیا کے دوسرے حصوں میں بھی بہتری رہی، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.5 فیصد بڑھ کر 26589.46 پر پہنچا، آسٹریلیا کا ایس اینڈ پی/اے ایس ایکس 200 انڈیکس 0.8 فیصد بڑھ کر 8862.40 ہو گیا۔
جنوبی کوریا میں کوسپی ابتدا میں کمی کے بعد پلٹ کر 1.1 فیصد بڑھ کر 7,465.01 تک آ گیا، اور ایک دن پہلے یہ تقریباً سات فیصد بڑھ کر پہلی بار 7000 کی سطح سے اوپر چلا گیا تھا۔
’بہت اچھی بات چیت‘ کے بعد ایران سے معاہدہ ممکن: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ گذشتہ دن ہونے والی ’بہت اچھی بات چیت‘ کے بعد مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدہ ’بہت ممکن‘ ہے
اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا کہ ’گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ہماری بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے، اور یہ بہت ممکن ہے کہ ہم کوئی معاہدہ کر لیں۔‘
دوسری جانب روئٹرز کے مطابق انہوں نے پیش گوئی کی کہ ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، کیوں کہ وہ آبنائے ہرمز اور تہران کے ایٹمی پروگرام پر تعطل ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جارجیا کے رپبلکن گورنر کے امیدوار برٹ جونز کے لیے ٹیلی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ دیکھتے ہیں کہ کیا کچھ ہو رہا ہے، تو ہم یہ ایک بہت اہم وجہ سے کر رہے ہیں۔ ہم انہیں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ یہ بات سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ درست ہے، اور یہ جلد ختم ہو جائے گا۔‘
گذشتہ روز خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی نیوز ایجنسی ’اسنا‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران دو ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور وہ ثالث پاکستان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دے گا۔
جنگ بندی کے بعد اسرائیل کا بیروت پر پہلا حملہ
اسرائیل نے گذشتہ ماہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کے بعد بدھ کو پہلی بار بیروت پر حملہ کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے شہر کے جنوبی مضافات میں عسکریت پسند گروپ کی ایلیٹ رضوان فورس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا۔
روئٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے مشترکہ بیان میں اس کارروائی کا اعلان کیا۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ رضوان فورس کے کمانڈر اس حملے میں مارے گئے تاہم اسرائیلی فوج یا حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر اس کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
لبنان جنگ بندی نے ایک وسیع تر امریکہ ایران جنگ بندی کو تقویت دی ہے، جس میں لبنان میں اسرائیلی حملوں کی بندش ایران کا ایک اہم مطالبہ ہے۔
ایران اور امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنا تنازع ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، ایسے میں یہ حملے اس جنگ بندی کے لیے خطرہ ہیں جس نے بیروت پر اسرائیلی حملوں کو روکا تھا۔ اسرائیلی فوجی دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقوں میں موجود ہیں اور جنوبی لبنان میں حملے جاری ہیں۔
حزب اللہ نے جواب میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب فائرنگ کی ہے اور مسلح ڈرون داغے ہیں۔
اسرائیل نے اس سے قبل بدھ کو دریائے لیطانی کے شمال میں کئی دیہات کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کا کہا تھا، جو اسرائیل کی کارروائیوں کے دائرہ کار میں توسیع کو ظاہر کر سکتا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان بات چیت جاری ہے، تاہم یہ زیادہ تر سفیروں کی سطح پر رہی ہے۔
لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے بدھ کو کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی اعلیٰ سطح کی ملاقات کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے۔