امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ ماہ وائٹ ہاؤس رپورٹرز گالا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے سینیئر اراکین کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کے اس اقدام کے پیچھے محرک امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ہو سکتا ہے۔
ملک بھر میں ریاستی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر وفاقی ایجنسیوں کو بھیجی گئی یہ رپورٹ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے دفتر برائے انٹیلی جنس و تجزیہ کی 27 اپریل کی ابتدائی جانچ ہے، جس میں کہا گیا کہ مشتبہ شخص کول ایلن کو ’متعدد سماجی اور سیاسی شکایات‘ تھیں۔
اس میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایران تنازعے نے ’ملزم کے حملہ کرنے کے فیصلے میں ممکنہ کردار ادا کیا‘ اور اس کے لیے ایلن کی سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیا گیا جن میں اس نے جنگ میں امریکی اقدامات پر تنقید کی تھی۔
یہ جائزہ 25 اپریل کو وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر پر ناکام بنائے گئے حملے کے محرک کی تلاش میں امریکی حکومت کی کوششوں پر نئی روشنی ڈالتا ہے۔
اگرچہ اس کے نتائج ابتدائی ہیں، لیکن یہ اب تک کا سب سے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ ایران جنگ ملزم کے اس عمل کے پیچھے ایک محرک ہو سکتا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ میں ہزاروں اموات ہوئیں اور عالمی معیشت متاثر ہوئی۔
یہ رپورٹ جسے ’کریٹیکل انسیڈنٹ نوٹ‘ کے طور پر مارک کیا گیا ہے، شفافیت کے لیے کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ’پراپرٹی آف دی پیپل‘ نے اوپن ریکارڈ درخواستوں کے ذریعے حاصل کی اور روئٹرز کے ساتھ شیئر کی۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ترجمان نے انٹیلی جنس جائزے کے مندرجات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
ترجمان نے کہا: ’یہ رپورٹس ہمارے شراکت داروں کو اہم واقعات کے بعد دستیاب تازہ ترین معلومات سے آگاہ کرتی ہیں جو داخلی سلامتی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ امریکی محکمہ انصاف نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
منگل کو امریکی محکمہ انصاف نے ایک وفاقی اہلکار پر حملے کی ایک اضافی دفعہ شامل کی، جس میں کول ایلن پر الزام ہے کہ اس نے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر ایک امریکی سیکرٹ سروس ایجنٹ پر فائرنگ کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے علاوہ اس پر اقدامِ قتل، تشدد پر مبنی جرم کے دوران اسلحہ استعمال کرنے اور ریاستی حدود کے پار غیر قانونی طور پر اسلحہ اور گولہ بارود منتقل کرنے کے الزامات بھی عائد ہیں۔
ایلن نے ابھی تک فردِ جرم پر مؤقف اختیار نہیں کیا۔
امریکی حکام نے اب تک کول ایلن کے مبینہ محرک کے بارے میں بہت کم تفصیلات جاری کی ہیں اور صرف اس ای میل کا حوالہ دیا ہے جو انہوں نے حملے کی رات اپنے رشتہ داروں کو بھیجی تھی۔
اس پیغام، جسے حکام نے منشور قرار دیا، میں انتظامیہ کے خلاف غصے کا اظہار کیا گیا اور اس ’غدار‘ کو نشانہ بنانے کی خواہش کا ذکر تھا، جو تقریر کر رہا تھا، تاہم اس میں ٹرمپ کا نام نہیں لیا گیا۔
عدالتی دستاویزات میں استغاثہ نے الزام عائد کیا ہے کہ کول ایلن ٹرمپ سے سیاسی طور پر ’اختلاف‘ رکھتے تھے اور وہ ’حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف لڑنا چاہتے تھے، جنہیں وہ اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض سمجھتے تھے۔‘
قانون نافذ کرنے والے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ ایف بی آئی حملے کے محرک کی تلاش میں کول ایلن کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور ڈیجیٹل ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
اہلکار نے کہا: ’اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
اس جائزے میں بلیوسکائی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹس کا بھی جائزہ شامل ہے جو کول ایلن سے منسلک ہے، جہاں حملے سے قبل کے ہفتوں میں اینٹی ٹرمپ پیغامات پوسٹ اور شیئر کیے گئے۔
ان پوسٹس میں ایران میں امریکی اقدامات پر تنقید کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی، ایلون مسک اور یوکرین میں روس کی جنگ پر بھی تنقید شامل تھی۔
اس اکاؤنٹ نے ایک پوسٹ بھی شیئر کی جس میں ٹرمپ کے 7 اپریل کے اس بیان پر مواخذے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس میں انہوں نے ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ بیان جنگ بندی پر رضامندی سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا تھا۔ اس میں ان صحافیوں پر بھی تنقید کی گئی جو پریس ڈنر میں شرکت کا ارادہ رکھتے تھے۔
ایف بی آئی نے 2024 کی ایک پوسٹ کا بھی جائزہ لیا ہے جس میں کول ایلن سے منسلک ایک اکاؤنٹ نے بائبل کی ایک آیت نقل کرتے ہوئے بظاہر ٹرمپ کو ’شیطان‘ قرار دیا تھا، یہ ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی کے ایک پیغام کے جواب میں کیا گیا۔
اہلکار نے کہا کہ کول ایلن کی آن لائن سرگرمیوں پر توجہ دینے کا مقصد جزوی طور پر محرک سے متعلق سازشی نظریات کو روکنا بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں پنسلوینیا کے شہر بٹلر میں انتخابی جلسے کے دوران ٹرمپ پر فائرنگ کرنے والے شخص کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق قیاس آرائیوں نے وسیع پیمانے پر سازشی نظریات کو جنم دیا تھا۔