امریکہ میں وائٹ ہاؤس سکیورٹی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پریس ڈنر کی تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد صدر اور خاتون اول کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سیکریٹ سروسز حکام کا کہنا ہے کہ ’صدر اور خاتونِ اول سمیت تمام زیرِ حفاظت افراد محفوظ ہیں۔‘
جاری بیان میں کہا گیا ہے ’ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ یہ واقعہ تقریب کے مرکزی سکیورٹی چیکنگ ایریا کے قریب پیش آیا۔‘
واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’میں نے مشورہ دیا کہ کے تقریب جاری رہنی چاہیے لیکن اس کا فیصلہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کریں گے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ اب سے کچھ دیر بعد پریس کانفرنس کریں گے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے بتایا کہ ایک حملہ آور نے فائرنگ کی۔
حکام کے مطابق واقعہ اس ہال کے باہر پیش آیا جہاں ٹرمپ اور دیگر مہمان موجود تھے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اصل میں کیا ہوا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خفیہ حفاظتی ادارے اور دیگر سکیورٹی حکام نے واشنگٹن کے ایک بڑے ہوٹل کے عشائیہ ہال کو گھیرے میں لے لیا، جہاں سینکڑوں مہمان کھانے کے دوران میزوں کے نیچے چھپ گئے۔
ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ فائرنگ کرنے والا موجود تھا، تاہم مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔ تمام اہم شخصیات کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ منتظمین تقریب کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کچھ حاضرین کے مطابق انہوں نے پانچ سے آٹھ گولیوں کی آوازیں سنیں۔ ہال جہاں سینکڑوں معروف صحافی، شخصیات اور قومی رہنما ٹرمپ کی تقریر کے منتظر تھے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔ قومی محافظ دستے کے اہلکاروں نے عمارت کے اندر پوزیشن سنبھال لی، جبکہ لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دی گئی مگر فوری طور پر واپس آنے سے روک دیا گیا۔ عمارت کے باہر بھی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔
اس خبر میں مزید تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔