امریکہ میں وائٹ ہاؤس سکیورٹی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پریس ڈنر کی تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد صدر اور خاتون اول کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سیکریٹ سروسز حکام کا کہنا ہے کہ ’صدر اور خاتونِ اول سمیت تمام زیرِ حفاظت افراد محفوظ ہیں۔‘
جاری بیان میں کہا گیا ہے ’ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ یہ واقعہ تقریب کے مرکزی سکیورٹی چیکنگ ایریا کے قریب پیش آیا۔‘
واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’میں نے مشورہ دیا کہ کے تقریب جاری رہنی چاہیے لیکن اس کا فیصلہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کریں گے۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے واقعے کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ’ایک شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سکیورٹی چوکی کی طرف بڑھا، اور خفیہ حفاظتی ادارے کے نہایت بہادر اہلکاروں نے اسے قابو کر لیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ وہ اکیلا ہی تھا، اور میرا بھی یہی خیال ہے۔‘
اس سے قبل ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں حملہ آور کو سکیورٹی سے آگے بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ محافظوں نے ہتھیار نکال کر فائرنگ کی۔ ملزم کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ایک اہلکار کو قریب سے گولی لگی، تاہم وہ شدید زخمی نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقام ’زیادہ محفوظ نہیں تھا"‘، جس پر صدر کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں لگا کہ شاید کوئی ٹرے گر گئی ہے، لیکن بعد میں احساس ہوا کہ یہ فائرنگ کی آواز ہے، اور انہوں نے مشتبہ شخص کو ’ممکنہ قاتل ‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود وہ اس میڈیا تقریب کو ایک ماہ کے اندر دوبارہ منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے بتایا کہ ایک حملہ آور نے فائرنگ کی۔
حکام کے مطابق واقعہ اس ہال کے باہر پیش آیا جہاں ٹرمپ اور دیگر مہمان موجود تھے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اصل میں کیا ہوا۔
خفیہ حفاظتی ادارے اور دیگر سکیورٹی حکام نے واشنگٹن کے ایک بڑے ہوٹل کے عشائیہ ہال کو گھیرے میں لے لیا، جہاں سینکڑوں مہمان کھانے کے دوران میزوں کے نیچے چھپ گئے۔
ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ فائرنگ کرنے والا موجود تھا، تاہم مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔ تمام اہم شخصیات کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ منتظمین تقریب کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کچھ حاضرین کے مطابق انہوں نے پانچ سے آٹھ گولیوں کی آوازیں سنیں۔ ہال جہاں سینکڑوں معروف صحافی، شخصیات اور قومی رہنما ٹرمپ کی تقریر کے منتظر تھے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔
قومی محافظ دستے کے اہلکاروں نے عمارت کے اندر پوزیشن سنبھال لی، جبکہ لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دی گئی مگر فوری طور پر واپس آنے سے روک دیا گیا۔ عمارت کے باہر بھی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم کے عشائیے میں خفیہ حفاظتی ادارے کے ایک اہلکار پر فائرنگ کے واقعے نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کے دور میں امریکہ کی سیاسی قیادت کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی کس حد تک مؤثر ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سال اس سالانہ تقریب کی حفاظت کے لیے مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینکڑوں اہلکار تعینات تھے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ مرکزی شخصیت کے طور پر شریک تھے۔
اس کے باوجود ایک مشتبہ شخص شاٹ گن اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ واشنگٹن کے اس ہال کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جہاں غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں وزرا، اعلیٰ قانون ساز اور معروف شخصیات عشائیہ میں شریک تھیں۔
صدر ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، محکمہ دفاع کے سربراہ پیٹ ہیگستھ، اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ، وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ، وزیر داخلہ ڈگ برگم سمیت متعدد اعلیٰ سرکاری عہدیدار بھی تقریب میں موجود تھے، جن میں سے کئی کے ساتھ ان کی اپنی سکیورٹی ٹیمیں بھی موجود تھیں۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس واقعے پر اپنے ردعمل میں لکھا ہے کہ ’واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے پر گہرا صدمہ ہوا ہے۔ یہ جان کر اطمینان ہوا کہ صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر تمام شرکا محفوظ ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میری ہمدردیاں اور دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اور میں ان کی مسلسل حفاظت اور خیریت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔‘