امریکی میڈیا کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین ایران میں جاری جنگ سے نکلنے کے لیے ایک ’آف ریمپ‘ (اخراج کا متبادل راستہ) تلاش کر رہے ہیں۔
سی این این نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جنرل کین نے نجی طور پر انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام کو بتایا کہ ملک کو اس جنگ سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔
اگرچہ جنگ کے دوران ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایک امن معاہدہ، جس میں ان کا یہ مطالبہ بھی شامل ہوگا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، قریب ہے لیکن لڑائی پانچ ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔
سی این این کے ایک ذریعے نے کہا ’کین ایک آف ریمپ تلاش کر رہے ہیں۔‘
ذرائع کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے ساتھ جنرل کین کی ملاقاتوں کا مقصد صرف مختلف فوجی آپشنز کی حدود اور ممکنہ خطرات کو واضح کرنا ہے۔
جنرل کین کے ترجمان جوزف ہولسٹیڈ نے سی این این کو بتایا ’ہم صدر، وزیر یا دیگر سینیئر رہنماؤں کے ساتھ چیئرمین کی خفیہ گفتگوؤں پر بات نہیں کرتے اور نہ ہی ان ذرائع کی جانب سے ان گفتگوؤں کی گمنام اور مخصوص ایجنڈے پر مبنی تشریحات پر تبصرہ کرتے ہیں، جو خود ان بات چیت میں شریک نہیں تھے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے جنرل کین کی مہارت کو سراہتے ہوئے انہیں ’صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم کا ایک غیر معمولی اثاثہ‘ قرار دیا۔
عہدے دار نے کہا ’جنرل ہمیشہ کمانڈر ان چیف کو درست، غیر جانب دار معلومات اور متعدد آپشنز فراہم کرتے ہیں اور آخرکار فیصلے وہ خود اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے کیا بہتر ہے۔‘
دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے دفتر اور محکمہ خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔
ٹرمپ کی جنگ بنیادی طور پر فضائی مہم پر مشتمل رہی ہے، جس میں ایران کے خلاف حملوں کے لیے زمینی فوج تعینات کرنے کی بجائے جنگی طیاروں پر انحصار کیا گیا۔
جنرل کین اور ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر حکام نجی طور پر سمجھتے ہیں کہ صرف فضائی مہم کے ذریعے ایرانیوں پر اتنا دباؤ ڈالنا ممکن نہیں کہ وہ صدر کے لیے سازگار معاہدے پر رضامند ہو جائیں۔
سی این این سے گفتگو کرنے والے حالیہ مباحثوں سے واقف متعدد افراد نے یہ بات بتائی۔
دوسری جانب ٹرمپ نے ان حالیہ رپورٹس کی تردید کی ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی فوج کے اسلحے کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر لکھا ’امریکہ کے پاس بڑی مقدار میں ’گولہ بارود‘ موجود ہے، خصوصاً بعض اقسام کا۔
’اس کے علاوہ ضرورت کے مطابق بڑی مقدار میں گولہ بارود تیار کیا جا رہا ہے اور امریکہ بھیجا جا رہا ہے۔ دفاعی کمپنیاں ہمارے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد میں پلانٹس اور فیکٹریاں تعمیر کر رہی ہیں۔‘
ٹرمپ نے لکھا ’ان غداری پر مبنی بیانات کو لیک کرنے والوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ ان کے لیے طویل مدتی قید کی سزائیں طلب کی جائیں گی۔‘
ٹرمپ کی یہ دھمکیاں اس وقت سامنے آئیں جب روئٹرز نے منگل کو دو گمنام ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی فوج اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹمز (ATACMS) اور پریسیژن سٹرائیک میزائلز کا ’تقریباً تمام‘ ذخیرہ استعمال کر چکی ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پینٹاگون کے پاس میزائل روکنے والے انٹرسیپٹرز کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔
سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل امریکی فوج کے پاس 2,330 پیٹریاٹ سسٹمز اور 452 ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) سسٹمز موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق 27 جولائی تک اندازاً 759 سے 827 پیٹریاٹ سسٹمز اور 234 سے 278 تھیڈ سسٹمز باقی رہ گئے تھے۔
گذشتہ ماہ سینیٹ اپروپری ایشنز کمیٹی کی سماعت کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں پر اندازاً 37.5 ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے۔
انہوں نے کانگریس سے اضافی 67 ارب ڈالر کی بھی درخواست کی تاکہ جزوی طور پر اسلحے کے ذخائر دوبارہ بھرے جا سکیں اور اس کمی کا ذمہ دار بائیڈن انتظامیہ کو قرار دیا، جس نے ان کے بقول پینٹاگون کے لیے مناسب فنڈنگ فراہم نہیں کی۔
جنگ کے دوران پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ موٹر کلب اے اے اے کے مطابق جمعے کو پیٹرول کی قیمت چار ڈالر فی گیلن سے زیادہ رہی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جنگ کے آغاز پر ایک گیلن پیٹرول کی قیمت تین ڈالر سے کم تھی۔
روئٹرز/اِپسوس کے ایک نئے سروے کے مطابق صرف 28 فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی کارکردگی کی حمایت کرتے ہیں۔