لاہور کے نوجوان کی ’شی ڈرائیوز‘ ایپ پر ڈرائیور اور مسافر دونوں خواتین

اس ایپ پر صرف خواتین کپتان ہی اپنی موٹر سائیکل، سکوٹی یا گاڑی رجسٹرڈ کروا سکتی ہیں اور صرف خواتین ہی رائیڈ بک کروا سکتی ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکومت کی جانب سے خواتین کے لیے پنک بس کے بعد لاہور کے ایک نوجوان شہری نے ’شی ڈرائیوز‘ نامی رائڈ سروس شروع کی ہے جس میں ڈرائیور بھی خاتون اور مسافر بھی خواتین ہی ہوں گی۔

رائڈ ایپ ’شی ڈرائیوز‘ بنانے والے لاہور کے رہائشی عماز صدیقی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’شی ڈرائیوز ایپ صرف اس لیے شروع کی ہے کہ خواتین کو نہ صرف ٹرانسپورٹ کی آسان سہولت فراہم کی جائے بلکہ انہیں خود روزگار کا موقع بھی فراہم کیا جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس ایپ پر صرف خواتین کپتان ہی اپنی موٹر سائیکل، سکوٹی یا گاڑی رجسٹرڈ کروا سکتی ہیں۔ اسی طرح اس ایپ سے صرف خواتین ہی رائیڈ بک کر سکتی ہیں۔ دیگر ایپس کی طرح گاڑیاں اے سی، نان اے سی یا موٹر سائیکل کی رائیڈ بک کی جاسکتی ہے۔

عماز صدیقی کے مطابق پہلے مرحلے میں یہ ایپ صرف لاہور میں لانچ کی گئی ہے جس کے بعد وہ اسے اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں تک پھیلانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

ان کے بقول: ’روزانہ اڑھائی سے تین سو رائیڈز ہوتی ہیں۔ ابھی تک ہمارے پاس ضرورت کے مطابق خواتین رائیڈرز رجسٹرڈ نہیں ہو رہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہ صرف ہمارے لیے کاروبار نہیں بلکہ خواتین کو معاشی بااختیار بنانے کا بھی خواب ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شی ڈرائیوز پر موٹر سائیکل چلانے والی خاتون کپتان رفعت شیراز نے بتایا کہ ’میں نے کچھ دن ان ڈرائیو پر بھی موٹر سائیکل رجسٹرڈ کی لیکن مرد یا تو رائیڈ کینسل کر دیتے یا پیچھے بیٹھ کر تنگ کرتے تھے۔ اب شی ڈرائیوز پر موٹر سائیکل چلا کر بہتر روزگار کمارہی ہوں۔

’یہ بہت بہترین سروس ہے مجھ جیسی کئی خواتین اب موٹر سائیکل اور گاڑیاں چلا کر اپنا روزگار کما رہی ہیں۔ بلکہ اپنی سکوٹی یا گاڑی پر آتے جاتے رائیڈ بک کر کے خرچہ نکال رہی ہیں۔‘

اس ایپ سے سفر کرنے والی مسافر زینب یاسین کے بقول، ’اکیلی خواتین کے لیے مرد رائیڈر کے ساتھ سفر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے شی ڈرائیوز نے اکیلے سفر کرنے والی خواتین کے یہ مسائل حل کر دیے۔ اب ہم بہتر اور تسلی سے سفر کر سکتے ہیں۔‘

عماز صدیقی کے بقول، ’ہم ماہانہ یا ہفتہ وار مستقل رائیڈ بک کرنے کا آپشن بھی دے رہے ہیں۔ جس سے طالبات یا ملازم پیشہ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘  

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین