حکومت پاکستان نے انڈیا سے آنے والے دریائے چناب کے بہاؤ میں نمایاں کمی پر پڑوسی ملک سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی۔
پاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس مہر علی شاہ نے تصدیق کی کہ انہوں نے اپنے انڈین ہم منصب سے رابطہ کیا ہے جبکہ پاکستانی حکام اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کمی کے پیمانے اور ممکنہ اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
وزارت آبی وسائل کے ایک سینیئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پانی کے بہاؤ میں یہ کمی مرالہ ہیڈ ورکس پر ریکارڈ کی گئی۔
ان کے مطابق یہ صورتحال سندھ طاس معاہدے کی شقوں سے مطابقت نہیں رکھتی، جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔
عہدے دار نے خبردار کیا کہ یہ کمی ممکنہ طور پر معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ آبی وسائل کے حوالے سے کشیدگی پہلے سے بڑھی ہوئی ہے اور سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں سنجیدہ تحفظات پائے جاتے ہیں۔
پاکستان ماضی میں بھی بالائی دریاؤں پر ہائیڈرولوجیکل تبدیلیوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے خدشات اٹھاتا رہا ہے۔
آبی ماہر ڈاکٹر فضل الدا نبیل کے مطابق دریا کے بہاؤ میں کسی بھی غیر متوقع تبدیلی سے آبپاشی کی منصوبہ بندی درہم برہم ہو سکتی ہے اور زیریں علاقوں میں زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ دریائے چناب پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔