جموں سرینگر شاہراہ: 10 لاکھ سے زیادہ فالوورز والے مسافروں کے رہبر

طاہر بانہالی فیس بک لائیو کر کے مسافروں کو جموں سری نگر شاہراہ کی صورت حال سے باخبر رکھتے ہیں۔

جموں سرینگر ہائی وے پر مسافروں کی رہنمائی کرنے والے طاہر بانہالی (فیس بک پیج)

جموں سری نگر قومی شاہراہ وادی کشمیر کی شہ رگ ہے۔ یہ اس خطے کو باقی انڈیا سے جوڑنے والا واحد راستہ ہے جو ہر موسم میں کھلا رہتا ہے اور دہائیوں سے وادی کی معاشی اور سماجی دھڑکن کو رواں رکھے ہوئے ہے۔

اگرچہ دو متبادل راستے، سنتھن روڈ اور مغل روڈ موجود ہیں، لیکن شدید برف باری کے باعث سردیوں میں یہ دونوں بند رہتے ہیں، جس کی وجہ سے جموں سری نگر نیشنل ہائی وے سپلائی کا وہ واحد راستہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے اشیائے ضروریہ کشمیر پہنچتی ہیں۔

گذشتہ اگست میں، شدید سیلابی ریلوں کے باعث ہائی وے 15 دن تک بند رہی۔ اس کی وجہ سے زندگی اور تجارتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو کر رہ گئیں۔ اس بندش کے نتیجے میں بڑے معاشی نقصانات ہوئے، خاص طور پر باغبانی کے شعبے کو، جس کا زیادہ تر انحصار بروقت نقل و حمل پر ہوتا ہے۔

سیب، ناشپاتی اور دیگر پھلوں سے لدے ٹرک کئی دنوں تک پھنسے رہے، جس کے نتیجے میں کاشتکاروں اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

اس مشکل خطے میں، ایک مقامی شخصیت مسافروں کے لیے معلومات اور تسلی کا ایک انمول ذریعہ بن گئی ہے۔ طاہر احمد گیری، جو طاہر بانہالی کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔

سیب، ناشپاتی اور دیگر پھلوں سے لدے ٹرک کئی دنوں تک پھنسے رہے، جس کے نتیجے میں کاشت کاروں اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

اس مشکل خطے میں ایک مقامی شخصیت مسافروں کے لیے معلومات اور تسلی کا ایک انمول ذریعہ بن گئی ہے۔ طاہر احمد گیری، جو طاہر بانہالی کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔

سری نگر سے تقریباً 94 کلومیٹر دور ہائی وے پر واقع قصبے بانہال کے رہائشی طاہر بانہالی، روزانہ اس راستے پر سفر کرنے والے ہزاروں افراد کے لیے ایک قابل اعتماد آواز بن چکے ہیں۔ ان کا اثر و رسوخ اب بہت دور تک پھیل چکا ہے، فیس بک پر ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً 11 لاکھ اور انسٹاگرام پر قریباً ایک لاکھ 97 ہزار ہے۔

شروع میں ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے طاہر اکثر بانہال اور رام بن کے درمیان سفر کرتے تھے، جو ہائی وے پر واقع ایک اور قصبہ ہے اور اس کا راستہ سب سے مشکل ہے۔

اس کے دوران انہوں نے مسافروں کو درپیش مسلسل مشکلات کا مشاہدہ کیا۔ پہاڑے تودے گرنے کے حادثات، گرتے ہوئے پتھروں اور موسم کی اچانک تبدیلیوں کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتیں۔ ڈرائیور اکثر گھنٹوں تک پھنسے رہتے اور انہیں آگے کی صورتحال کا کوئی واضح اندازہ نہیں ہوتا تھا۔

طاہر بانہالی کو ایک خیال آیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی فیس بک پروفائل پر سڑک کی صورت حال کے بارے میں اپ ڈیٹس پوسٹیں کرنا شروع کر دیں۔ ان کی اپ ڈیٹس سادہ اور براہ راست مشاہدے پر مبنی ہوتی تھیں۔ انہوں نے تیزی سے توجہ حاصل کر لی۔

مسافروں نے ان کی پوسٹوں کی درستی اور بروقت ہونے کو سراہا۔ مثبت ردعمل سے حوصلہ پا کر، انہوں نے بالآخر سڑک استعمال کرنے والوں کو صورتحال کے بارے میں قابل اعتماد معلومات فراہم کرنے کے لیے’نیشنل ہائی وے اپ ڈیٹس‘ کے نام سے ایک مخصوص پیج بنا لیا۔

آج ان کی براہ راست ویڈیوز اور پوسٹس اکثر ان مسافروں، ٹرک ڈرائیوروں، اور خاندانوں کے لیے معلومات کا پہلا ذریعہ ہوتی ہیں جو کشمیر اور جموں کے درمیان سفر کا منصوبہ بنا رہے ہوتے ہیں۔

سردیوں کے دوران، جب برف باری اور پہاڑی تودے گرنے سے اکثر ٹریفک درہم برہم رہتی ہے، جموں کا سفر کرنے والے لوگ اپنا منصوبہ حتمی شکل دینے سے پہلے باقاعدگی سے طاہر کی اپ ڈیٹس چیک کرتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کے لیے، ان کی بات کی اہمیت سرکاری خبرناموں سے زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ وہ موقعے پر جا کر براہ راست رپورٹنگ کرتے ہیں۔

طاہر بانہالی کا کہنا ہے کہ ’مجھے ہر دن بہت سی کالز آتی ہیں، اور میں ان سب کا جواب دینے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ اگر کسی ڈرائیور کو پھنسی ہوئی گاڑی نکالنے کے لیے ہائیڈرا یا کسی ریکوری مشین کی ضرورت ہوتی ہے، تو میں خود آپریٹر سے رابطہ کرتا ہوں اور ان کے ساتھ اس جگہ تک سفر بھی کرتا ہوں۔‘

اپنی بے پناہ مقبولیت کے باوجود، طاہر مخصوص آلات یا سرکاری وسائل کے بغیر کام کرتے ہیں۔ وہ صرف اپنے سمارٹ فون پر انحصار کرتے ہیں۔

جب بھی پہاڑی تودہ گرتا ہے، ٹریفک جام ہوتی ہے یا سڑک ٹوٹ جاتی ہے تو وہ اس مقام پر پہنچتے ہیں اور ناظرین کو اصل صورت حال براہ راست دکھاتے ہیں۔ ان کی بروقت کوریج ڈرائیوروں کو باخبر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کیب ڈرائیور محمد امین کے مطابق: ’طاہر ہمارے رہنما ہیں۔ جب بھی ہم انہیں کال کرتے ہیں، وہ دن ہو یا رات، یہاں تک کہ خراب موسم میں بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا سے پہلے، ہم یہ جانے بغیر کہ آگے کیا ہے، پھنس جایا کرتے تھے۔ اب، ہم پہلے ان کی اپ ڈیٹس چیک کرتے ہیں۔ 

’وہ ہمیں اعتماد دیتے ہیں، اور ان کی معلومات سے ہمیں اپنے مسافروں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔‘

وقت کے ساتھ ساتھ، طاہر نے ایک اور غیر متوقع کردار بھی ادا کیا ہے۔ شاہراہ کے ساتھ پہاڑی خطے میں پہلے واضح نام نہیں تھے، جس سے مسافروں کے لیے ہنگامی صورت حال کے دوران مقامات کی نشاندہی کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔

رابطے کو بہتر بنانے کے لیے، طاہر نے خود کچھ مقامات کے نام رکھنا شروع کر دیے، جیسے ’چنار پوائنٹ۔‘ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ٹریفک پولیس اور سرکاری ایڈوائزریز نے بھی ان کے دیے گئے کچھ نام اپنا لیے ہیں۔

ٹرک ڈرائیوروں کے لیے، خاص طور پر وہ جو جلدی خراب ہونے والی اشیا جیسے پھل اور سبزیاں لے جاتے ہیں، طاہر کی اپ ڈیٹس انمول ہیں۔ باغبانی کی تجارت میں بروقت ترسیل انتہائی اہم ہے، اور تاخیر سے چیزیں خراب ہو سکتی ہیں اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔

ایک ٹرک ڈرائیور نے بتایا کہ طاہر کے پیج کے مقبول ہونے سے پہلے وہ صرف سرکاری معلومات پر انحصار کرتے تھے، جس میں بعض اوقات تفصیلی اور بروقت اپ ڈیٹس کی کمی ہوتی تھی۔ اب، وہ بنیادی طور پر ان کی لائیو اپ ڈیٹس کو فالو کرتے ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اپنے ٹرک کب لوڈ کرنے ہیں اور کب رکنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اکثر ہائی وے پر اپنا ٹرک چلانے والے عمر کا کہنا ہے ’پہلے، طاہر کی اپ ڈیٹس سے قبل، ہم صرف سرکاری ٹریفک پلان پر انحصار کرتے تھے۔ اب ہم بنیادی طور پر ان کی لائیو ویڈیوز دیکھتے ہیں اور پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ اپنے ٹرک کب لوڈ کرنے ہیں۔ جب ہم پھل یا سبزیاں لے جا رہے ہوتے ہیں، تو بروقت ترسیل بہت اہم ہوتی ہے۔‘ 

’اگر لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے، تو وہ ہمیں براہ راست اصل صورت حال دکھاتے ہیں۔ اگر یہ بڑی ہو، تو ہم انتظار کرتے ہیں۔ اگر معمولی ہو، تو ہم آگے بڑھتے ہیں۔ ان کی اپ ڈیٹس ہمیں بھاری نقصانات سے بچاتی ہیں۔‘

پہلے وقتوں میں پہاڑی تودہ گرنے کے بعد ڈرائیور بے خبری میں اس طرف چلے جاتے اور گھنٹوں یا حتیٰ کہ دنوں تک پھنسے رہتے۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگانے کا کوئی فوری طریقہ نہیں تھا۔

اب، طاہر کی براہ راست ویڈیوز پہاڑی تودے کے درست حجم کو ظاہر کرتی ہیں کہ آیا یہ معمولی ہے اور جلد صاف ہونے کا امکان ہے یا بڑی ہے اور ممکنہ طور پر طویل عرصے تک سڑک بند کر دے گی۔

طاہر بانہالی کے مطابق: ’یہ ہائی وے ہماری شہ رگ ہے، اور اگر میں کسی کو بحفاظت پہنچنے میں مدد کر سکوں، تو یہی میرا سب سے بڑا اطمینان ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات