حویلی اور باغ میں ایک، دو واقعات کے علاوہ پولنگ پرامن رہی: رانا ثنا

الیکشن کمیشن کے مطابق تیسرے مرحلے میں ضلع باغ کے تین اور حویلی کے ایک حلقے میں ووٹ ڈالے گئے۔

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کشمیر میں انتخابات کے تیسرے مرحلے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حویلی اور باغ میں ایک، دو واقعات پیش آئے ہیں تاہم پولنگ کا عمل پرامن انداز میں منعقد ہوا۔

رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’جو الیکشن کو روکنا چاہتے تھے انہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ ایسا نہیں کر سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آج حویلی اور باغ کے حلقوں میں ایک، دو واقعات پیش آئے مگر رائے دہی کا عمل پرامن طریقے سے جاری ہے۔‘

ان واقعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حویلی کے ایک پولینگ سٹیشن پر کچھ لوگوں نے عملے سے ریکارڈ چھیننے کی کوشش کی مگر وہاں موجود رینجرز اور آرمی کے اہلکاروں نے صورت حال کو قابو کیا۔

’اسی طرح سے باغ کے ایک حلقے میں بھی 3 پولنگ سٹیشن میں عمل روکنے کی کوشش کی گئی۔ وہاں بھی اہلکاروں نے پولنگ کے عمل کو شروع کروایا ہے۔‘

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں پونچھ ڈویژن کے اضلاع باغ اور حویلی کے چار حلقوں میں پولنگ جاری ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تیسرے مرحلے کے انتخابات میں ضلع باغ کے تین اور حویلی کے ایک حلقے میں پولنگ کا آغاز پیر کو صبح اٹھ بجے ہوا جو شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔

پولنگ شیڈول میں تبدیلی کی وجہ سے پونچھ ڈویژن کے پانچ اور سدھنوتی کے دو حلقوں میں انتخابات مؤخر کر دیے گئے تھے۔

پونچھ ڈویژن کے دو اضلاع کے چار حلقوں میں ہونے والے انتخابات میں 4 لاکھ 60 ہزار 371 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق ایل اے 14 غربی باغ میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 21 ہزار199 ہے، یہاں پر 214 پولنگ سٹیشن اور343 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔

اس حلقہ سے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان بھی امیدوار ہیں۔

ایل اے 15 وسطی باغ میں کل رجسٹرڈ ووٹر ایک لاکھ 14 ہزار937 ہیں۔ یہاں پر 213 پولنگ سٹیشن اور 310 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔

ایل اے 16 شرقی باغ میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 6 ہزار 721 ہے جبکہ یہاں پر 186 پولنگ سٹیشن اور 266 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔

اسی طرح ایل اے 17 حویلی میں کل ووٹرز ایک لاکھ 17 ہزار514 ہیں جبکہ یہاں پر 190 پولنگ سٹیشن اور 335 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔

انتخابات کے پہلے مرحلے میں 27  جولائی، 2026 کو میرپور ڈویژن اور دو اگست کو دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن اور کشمیری پناہ گزینوں کی  نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔

 پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ ن نے نو جب کہ پیپلز پارٹی نے چار نشستیں حاصل کی تھیں۔

دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی نو اور کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں میں سے مسلم لیگ ن 15 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی جب کہ پیپلز پارٹی نے چھ نشستیں حاصل کیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی کی 45 نشستوں الیکشن ہو چکا ہے۔

ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مبینہ وابستگی پر 10 افراد کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ منظوری 5 جون 2026 کو ہونے والے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی کابینہ کے 41ویں اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’صدر آزاد جموں و کشمیر نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کی دفعہ 16(1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان افراد کو ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں رکھنے کی منظوری دی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی۔

آٹھ اگست کو باغ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت کے لیے مسلم لیگ ن صرف چھ نشستیں دور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں حکومت بنانے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔

انہوں نےکہا: ’ایکشن کمیٹی میں 99 فیصد لوگ نہ صرف محب وطن کشمیری بلکہ محب وطن پاکستانی بھی ہیں۔‘

رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایک آدھ فیصد لوگ ہیں جن کا ایجنڈا کچھ اور ہے، تو ہم سب مل کر انھیں شکست دیں گے۔‘

دوسری جانب جمعے کو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے باغ میں ہی ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کی تاریخ میں اتنا مشکل وقت کبھی نہیں آیا جتنا اس وقت ہے، موجودہ صورت حال میں ہر پاکستانی اور ہر کشمیری پریشان ہے، کشمیر میں امن قائم کیا جائے تاکہ عام آدمی معمول کی زندگی گزار سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان