پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں پونچھ ڈویژن کے اضلاع باغ اور حویلی کے چار حلقوں میں پولنگ جاری ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تیسرے مرحلے کے انتخابات میں ضلع باغ کے تین اور حویلی کے ایک حلقے میں پولنگ کا آغاز پیر کو صبح اٹھ بجے ہوا جو شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔
پولنگ شیڈول میں تبدیلی کی وجہ سے پونچھ ڈویژن کے پانچ اور سدھنوتی کے دو حلقوں میں انتخابات مؤخر کر دیے گئے تھے۔
انتخابات کے پہلے مرحلے میں 27 جولائی، 2026 کو میرپور ڈویژن اور دو اگست کو دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن اور کشمیری پناہ گزینوں کی نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔
پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ ن نے نو جب کہ پیپلز پارٹی نے چار نشستیں حاصل کی تھیں۔
دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی نو اور کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں میں سے مسلم لیگ ن 15 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی جب کہ پیپلز پارٹی نے چھ نشستیں حاصل کیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی کی 45 نشستوں الیکشن ہو چکا ہے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آٹھ اگست کو باغ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت کے لیے مسلم لیگ ن صرف چھ نشستیں دور ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں حکومت بنانے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نےکہا: ’ایکشن کمیٹی میں 99 فیصد لوگ نہ صرف محب وطن کشمیری بلکہ محب وطن پاکستانی بھی ہیں۔‘
رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایک آدھ فیصد لوگ ہیں جن کا ایجنڈا کچھ اور ہے، تو ہم سب مل کر انھیں شکست دیں گے۔‘
دوسری جانب جمعے کو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے باغ میں ہی ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کی تاریخ میں اتنا مشکل وقت کبھی نہیں آیا جتنا اس وقت ہے، موجودہ صورت حال میں ہر پاکستانی اور ہر کشمیری پریشان ہے، کشمیر میں امن قائم کیا جائے تاکہ عام آدمی معمول کی زندگی گزار سکے۔