ایک امریکی عہدے دار نے جمعے کو ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاع دی ہے جس سے جلد ہی آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے اور ممکنہ طور پر تیل کی وہ برآمدات بحال ہو سکتی ہیں جو ایران کے ساتھ پانچ ماہ پرانی امریکی جنگ کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں۔
اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن کو جلد ہی آبنائے کے دونوں جانب واقع ان دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کی توقع ہے، تاکہ تیل کی معمول کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکے۔
اس اہم سٹریٹیجک آبی گزرگاہ کے کنٹرول پر ایران اور عمان کے درمیان معاہدے کو ایک وسیع تر امن معاہدے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی عہدیدار کے مطابق: ’آبنائے پر عمان اور ایران کے درمیان پیش رفت ہوئی ہے اور ہمیں جلد ہی ایک معاہدے کی توقع ہے۔ تجارتی جہاز رانی کو بغیر کسی رکاوٹ کے بحال کرنے کے معاہدے کے اعلان کے بعد، امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کر دے گا۔‘
عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیشہ کی طرح، امریکی اقدامات کارکردگی پر مبنی ہوں گے اور ان کا انحصار ایران کی جانب سے اپنے وعدوں کی پاسداری پر ہوگا۔‘
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ شروع کرنے سے پہلے، دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا ہر پانچ میں سے تقریباً ایک بیرل اسی آبنائے سے گزرتا تھا، لیکن ایران نے اس کشیدگی کو جواز بنا کر تیل کے ٹینکروں سے ٹول وصول کرنا اور بغیر اجازت آبنائے عبور کرنے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں پر فائرنگ کرنا شروع کر دی۔
تیل کی ترسیل میں اس تعطل کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی بڑھی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں، ٹرمپ انتظامیہ نے بارہا اشارہ دیا ہے کہ آبنائے کو کھولنے کا معاہدہ قریب ہو سکتا ہے، لیکن ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ مذاکرات جاری ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ آیا مذاکرات کے اس تازہ ترین سلسلے سے کوئی زیادہ دیرپا انتظام سامنے آ سکے گا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ایرانی حملوں کے ساتھ ساتھ یمن میں اس کے اتحادیوں، حوثیوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جنہوں نے جزیرہ نما عرب کے دوسری طرف بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان تیل کی ایک اور اہم آبی گزرگاہ پر بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
دنیا میں توانائی پیدا کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک، ابوظبی نیشنل آئل کمپنی نے جمعے کو کہا کہ تنازعے کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اس کے 15 بحری جہازوں کو بلااشتعال حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عملے کا ایک رکن جان سے گیا اور 20 دیگر زخمی ہوگئے۔
دریں اثنا، امریکہ جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے ایک اور محاذ پر لڑائی ختم کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایک لبنانی اہلکار نے جمعے کو بتایا کہ لبنان اور اسرائیل ان ممالک کی ایک مختصر فہرست پر متفق ہو گئے ہیں، جو امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کی تصدیق کے لیے اپنی فوجیں بھیج سکتے ہیں۔ امریکہ اس فہرست میں سے ممالک کا انتخاب کرے گا۔