ایران کی ناکہ بندی، امریکی بحریہ قزاقوں جیسا کام کر رہی: ٹرمپ

امریکی صدر کے مطابق جہاز، سامان اور تیل پر قبضہ بہت منافع بخش کاروبار ہے۔

26 فروری، 2026 کی اس تصویر میں امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہار یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ یونان کے ساحلی علاقوں کے قریب دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے ’قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ بیان چند روز قبل امریکی افواج کی جانب سے ایک جہاز قبضے میں لینے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے دیا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے جہاز پر قبضہ کیا، ہم نے سامان پر قبضہ کیا، ہم نے تیل پر قبضہ کیا۔ یہ ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے۔ ہم قزاقوں کی طرح ہیں۔ ہم کچھ حد تک قزاقوں جیسے ہیں لیکن ہم کھیل نہیں کھیل رہے۔‘

ایران کی کچھ کشتیاں، ایرانی بندرگاہوں سے روانگی کے بعد، امریکی کارروائیوں میں ضبط کی جا چکی ہیں، جبکہ پابندیوں کا شکار کنٹینر جہاز اور ایرانی آئل ٹینکرز بھی ایشیائی پانیوں میں پکڑے گئے ہیں۔

جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تقریباً تمام جہازوں کو روک دیا تھا جس کے بعد ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر الگ سے ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک، جہاں امریکی اڈے موجود ہیں، پر حملے کیے۔

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان سے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سامنے آئی ہے، جو عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔

ٹرمپ، جو اس جنگ کے حوالے سے مختلف اوقات میں مختلف اہداف اور ٹائم لائنز پیش کرتے رہے ہیں اور جو امریکہ میں غیر مقبول ہے، کو اس تنازع پر دیے گئے بیانات پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ گذشتہ ماہ انہوں نے ایران کی پوری تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

متعدد امریکی ماہرین نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ایران پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد جب ٹرمپ نے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا